اسلام آباد ۔ 27 نومبر (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان اور افریقہ کے مسائل ایک جیسے ہیں پاکستان کی طرح افریقہ کو بھی منی لانڈرنگ سے مسائل کا سامنا ہے، افریقی ممالک کے ساتھ باہمی تجارت کو فروغ دینے کے وسیع مواقع موجود ہیں، پاکستان اور افریقی ممالک کو تجارت اور سیکورٹی کے شعبوں میں تعاون کے ساتھ ساتھ غربت اور ناخواندگی …
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا افریقی ممالک میں تعینات سفیروں کی دو روزہ کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 27 نومبر (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان اور افریقہ کے مسائل ایک جیسے ہیں پاکستان کی طرح افریقہ کو بھی منی لانڈرنگ سے مسائل کا سامنا ہے، افریقی ممالک کے ساتھ باہمی تجارت کو فروغ دینے کے وسیع مواقع موجود ہیں، پاکستان اور افریقی ممالک کو تجارت اور سیکورٹی کے شعبوں میں تعاون کے ساتھ ساتھ غربت اور ناخواندگی کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے بھی مل کر کام کرنا چاہئے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو یہاں وزارت خارجہ میں افریقی ممالک میں تعینات سفیروں کی دو روزہ کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ سکیورٹی سے متعلق حکمت عملی میں عوام پر مرکوز حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ امن کا غربت کے خاتمہ سے بنیادی تعلق ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ دنیا کو امن اور اقتصادی خوشحالی کو موقع دینا چاہئے، نوآبادیاتی نظام کے خاتمہ کے باوجود استحصال جاری ہے اور اس بات کی ضرورت ہے کہ باہمی مفاد کے لئے تجارتی شراکت داری کو فروغ دیا جائے۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان شورش زدہ علاقوں میں اقوام متحدہ کی امن کوششوں میں شرکت کرنے والے ملک کے طور پر پاکستان کے افریقی ممالک کے ساتھ تعلقات کی ایک شاندار تاریخ موجود ہے تاہم بہتر رابطے کے لئے مستقبل کے منظر نامے کو سامنے رکھتے ہوئے اہداف مقرر کئے جانے چاہئیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ افریقہ ایک ارب 20 کروڑ آبادی اور 54 خود مختار ممالک اور دنیا کے 20 فیصد رقبہ پر مشتمل دوسرا بڑا خطہ ہے جہاں پر پاکستانی مصنوعات اور خدمات کی وسیع گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ افریقہ کی مجموعی جی ڈی پی 2.3 ٹریلین ڈالر ہے اور تقریباً 500 ارب ڈالر کی یہ درآمدی مارکیٹ ہے جس کے زیادہ تر ممالک کی شرح نمو مستحکم ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستانی معیشت بہتر ہو رہی ہے۔ وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عالمی اقتصادی ترجیحات، منی لانڈرنگ، تنازعہ کشمیر اور اسلاموفوبیا جیسے معاملات پر ایک مضبوط بیانیہ پیش کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک اور بڑا مسئلہ ہے جس سے دنیا بھر کے ممالک متاثر ہو رہے ہیں۔ خطے میں موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے نمٹنے کے لئے ماحول سے متعلق سارک کانفرنس منعقد کرنے کی ضرورت ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ یہ کانفرنس وزارت خارجہ کے ذریعے تعاون کے مستقبل کی حکمت عملی کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگی۔ انہوں نے افریقی ممالک میں تعینات پاکستانی سفراء پر زور دیا کہ وہ اپنے اپنے متعلقہ ممالک میں تجارت اور سیاحت کے شعبوں پر خصوصی توجہ مرکوز کریں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے لئے کردار ادا کریں۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اور افریقی ممالک کے درمیان روابط دنیا میں امن کے لئے بہت اہم ہیں۔ سیکرٹری خارجہ سہیل محمود نے کانفرنس کے مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان افریقی ممالک کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیراعظم کے مشیر تجارت عبدالرزاق دائود اور دیگر سینئر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔








