اسلام آباد ۔ 27 نومبر (اے پی پی) الیکشن کمیشن نے تیسرے پانچ سالہ سٹریٹیجک پلان کا اجراءکردیا ہے جو 2019ءسے 2023ءکے دورانیہ کا ہے جبکہ چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ اور ریاست کے دیگر اداروں سے درخواست ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کی ضرورت کے مطابق بھرپور مدد اور معاونت کریں۔ قوانین میں تبدیلی کے ضمن میں پارلیمان ضروری قانون سازی …
چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا کا تیسرے 5 سالہ سٹریٹیجک پلان کے اجراءکے موقع پر خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 27 نومبر (اے پی پی) الیکشن کمیشن نے تیسرے پانچ سالہ سٹریٹیجک پلان کا اجراءکردیا ہے جو 2019ءسے 2023ءکے دورانیہ کا ہے جبکہ چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ اور ریاست کے دیگر اداروں سے درخواست ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کی ضرورت کے مطابق بھرپور مدد اور معاونت کریں۔ قوانین میں تبدیلی کے ضمن میں پارلیمان ضروری قانون سازی کرے۔ بدھ کو الیکشن کمیشن سیکرٹریٹ میں تیسرے 5 سالہ سٹریٹیجک پلان کے اجراءکے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اس سے قبل دوسرے سٹریٹیجک پلان پر عمل کرتے ہوئے بہت سی منازل طے کیں اور جمہوری عمل کو آگے بڑھانے میں اپنی آئینی ذمہ داریاں نبھائیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں بہت کم ایسے ادارے ہیں جو اپنے سٹریٹیجک پلان بناتے ہیں اور جامع منصوبہ بندی کے تحت اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے بنانے میں جن مراحل سے گزرے اس کا خاکہ گزشتہ عام انتخابات کے حوالے سے ملکی اور غیر ملکی مبصرین کی مرتب شدہ جائزہ رپورٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا گیا ہے۔ اس میں انتخابات اور اس سے منسلک دیگر تمام امور کا احاطہ کرتے ہوئے مستقبل کے اہداف مقرر کئے گئے ہیں جن کی تکمیل سے نہ صرف ادارہ جاتی ترقی عمل میں آئے گی بلکہ اس سے کہیں زیادہ اہمیت کی حامل چیزیہ ہے کہ الیکشن کمیشن اپنی بنیادی آئینی ذمہ داری یعنی آزادانہ ، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے بہتر پوزیشن میں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کے ایسے طبقات جن کی آواز مو¿ثر نہیں گردانی جاتی ان کو بھی جمہوری و انتخابی عمل میں بھرپور شمولیت کے لئے مو¿ثر اقدامات کا عزم شامل ہے۔ اسی طرح انتخابی عذرداریوں و شکایات کا جلد از جلد ازالہ انتخابی قوانین میں مزید بہتری کے لئے پارلیمان کی معاونت ، پولنگ سٹیشنوں میں بہتر سہولتوں کی بہتری کے لئے متعلقہ حکومتوں کے ساتھ مل کر انتخابی عملے کی تریبت کے عمل میں مزید بہتری اور الیکشن کمیشن کے اندرونی نظام کو مو¿ثر بنانے جیسے اقدامات منصوبہ کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس 5 سالہ منصوبہ پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لئے مانیٹرنگ کا نظام بھی وضع کیا گیا ہے جو اس منصوبے کے ماضی کے دو منصوبوں کی نسبت منفرد بناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کا جائزہ لیتے ہوئے کچھ باتیں توجہ طلب ہیں وہ یہ کہ اسی منصوبے کے اندرکچھ چیلنجز اور خدشات کا اظہار بھی کیا گیا ہے جس کا بلاواسطہ تعلق عملدرآمد سے متعلق بیرونی فریقین سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پارلیمان اور ریاست کے دیگر اداروں سے بھی درخواست کروں گا کہ وہ الیکشن کمیشن کی جہاں ضرورت پیش ہے بھرپور معاونت فراہم کریں اور جہاں جہاں قوانین میں تبدیلی کی ضرورت ہے پارلیمنٹ اس ضمن میں قوانین میں ضروری تبدیلیاں عمل میں لائے۔ انہوں نے کہا کہ گزشہ پارلیمنٹ میں الیکشن کمیشن کو مالی و انتظامی خود مختاری دینے کے حوالے سے قانون سازی عمل میں لائی تاہم اس انتظامی و مالی خود مختاری کو اس کی روح کے مطابق عملدرآمد کے حوالے سے انتظامیہ کی جانب سے تعاون درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی سٹریٹیجک پلاننگ کمیٹی اور اس کے تحت کام کرنے والے سٹریٹیجک پلاننگ کور گروپ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ جنہوں نے انتہائی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک جامع کثیر الجہتی منصوبہ ترتیب دیا جو مستقبل کے چیلنجز اور ان سے نبردآزما ہونے کا بھرپور روڈ میپ دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس موقع پر اس منصوبے کے عملدرآمد کے لئے بھرپور تکنیکی معاونت فراہم کرنے پر یو این ڈی پی اور ڈی اے آئی کے بھی شکر گزار ہیں جنہوں نے ماضی کی طرح اس بار بھی بھرپور معاونت کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ دعا گو ہیں کہ مستقبل میں الیکشن کمیشن پہلے زیادہ مضبوط اور مو¿ثر ادارہ بن کر ابھرے جس کے نتیجے میں ملک میں جمہوری کلچر فروغ پائے۔








