اسلام آباد ۔ 27 نومبر (اے پی پی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومتی کوششوں کی وجہ سے آج ملک میں معاشی استحکام ہے، موجودہ معاشی استحکام اور اقتصادی اشاریوں میں بہتری کے عمل کو آگے بڑھانا ہے اور کاروباری طبقے کے لئے موزوں فضا کو مزید بہتر بنانا ہے تاکہ معاشی ترقی کا عمل تیز کیا جاسکے، بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے موصول ہونے والی ترسیلات زر …
وزیراعظم عمران خان کا حکومتی معاشی ٹیم کے اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 27 نومبر (اے پی پی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومتی کوششوں کی وجہ سے آج ملک میں معاشی استحکام ہے، موجودہ معاشی استحکام اور اقتصادی اشاریوں میں بہتری کے عمل کو آگے بڑھانا ہے اور کاروباری طبقے کے لئے موزوں فضا کو مزید بہتر بنانا ہے تاکہ معاشی ترقی کا عمل تیز کیا جاسکے، بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے موصول ہونے والی ترسیلات زر ملکی معیشت میں اہم حیثیت رکھتی ہیں، ان کی سہولت کاری کے لئے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو حکومتی معاشی ٹیم کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیرِ برائے مواصلات مراد سعید، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر، وفاقی وزیرِ نیشنل فوڈ سیکورٹی مخدوم خسرو بختیار، وفاقی وزیر نجکاری میاں محمد سومرو، وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر، وفاقی وزیرِ توانائی عمر ایوب، وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داو¿د، وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر، وزیراعظم کے معاون خصوصی ندیم بابر، چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ سید زبیر حیدر گیلانی، گورنر اسٹیٹ بنک رضا باقر، چیئرمین نیا پاکستان ہاو¿سنگ اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) انور علی حیدر، متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز و سینئر افسران شریک تھے۔ وزیراعظم میڈیا آفس سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے قانونی طریقوں سے ملک میں ترسیلات زر بھیجنے کے حوالے سے مجوزہ مراعاتی پیکج وزیرِ اعظم کو پیش کیا گیا۔ اجلاس میں مراعاتی پیکج میں ترسیلات زر کے فروغ کے حوالے سے بنکوں اور ایکسچینج کمپنیوں کو خصوصی مراعات دیئے جانے کی تجویز دی گئی۔ ترسیلات زر کے حوالے سے بنکوں کو دی جانے والی مراعات میں اضافے کے ساتھ ساتھ ٹرانزیکشن کے لئے مطلوبہ رقم کی مقدار کو بھی کم کیے جانے کی تجویز بھی دی گئی۔ فارن ایکسچینج ریمٹنس کارڈ کی تجدید سے اسے مزید بہتر بنانے کے لئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اجلاس میں غیر ممالک سے قانونی طریقوں سے ملک میں بھیجی جانے والی ترسیلات زر کے فروغ کے لئے پرموشن اسکیم کے اجرا کی تجویز دی گئی۔ اس سکیم کے تحت قرعہ اندازی کے ذریعے بیرون ملک سے ترسیلات زر بھیجنے والے پاکستانیوں کو انعامات دیے جائیں گے۔ بیرون ملک جانے والے افراد کے لئے بنک اکاو¿نٹ کھولنے کی شرط لازمی قرار دی گئی ہے۔ پاکستان پوسٹ کی جانب سے بتایا گیا کہ ترسیلات زر میں سہولت کاری کے لیے پاکستان پوسٹ کے مقرر ڈاکخانوں کی تعداد 240 سے بتدریج بڑھا کر 3200 کر دی جائے گی جہاں سے بیرون ملک سے موصول ہونے والی ترسیلات متعلقہ خاندانوں کی دہلیز تک پہنچائی جائیں گی۔ اس ضمن میں پاکستان پوسٹ اور نیشنل بنک آف پاکستان کے مابین معاملات طے پا چکے ہیں۔ وزیراعظم کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ اسٹیٹ بنک آف پاکستان نجی بنکوں کو ترسیلات زر کے ضمن میں کارکردگی کی بنیاد پر مراعاتی پیکیج دے گا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے موصول ہونے والی ترسیلات ملکی معیشت میں اہم حیثیت رکھتی ہیں، بیرون ملک پاکستانی ملک کا اثاثہ ہیں ان کی سہولت کاری کے لئے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی پوری رقم متعلقہ خاندانوں تک پہنچائی جائے۔ اجلاس میں صوبائی ٹیکسز کی شرح میں اصلاحات کے حوالے سے بتایا گیا کہ صوبائی حکومتوں کی جانب سے اس ضمن میں پلان تشکیل دیا جا چکا ہے جو بہت جلد وزیرِ اعظم کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اجلاس میں کاروباری طبقے کے لئے آسانیاں فراہم کرنے (ایز آف ڈوئنگ بزنس) پر پیش رفت کے بارے میں شرکاءکو آگاہ کیا گیا۔ چیئرمین نیا پاکستان ہاو¿سنگ اتھارٹی نے تعمیرات کے شعبے کے فروغ کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات سے اجلاس کو بریف کیا۔ اجلاس میں خصوصی اقتصادی زونز کے قیام اور اس سلسلے میں قوانین کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے پیش رفت پر بھی بات چیت کی گئی۔ اجلاس میں بیمار اداروں (سک یونٹس) کی بحالی کے لئے اقدامات اور اس سلسلے میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ٹیکسٹائل اور لیدر کی صنعتوں کے فروغ کے لئے طویل مدتی پالیسی تشکیل دینے پر کام جاری ہے جو کہ فروری 2020 تک مکمل کر لیا جائے گا۔ مشیر تجارت نے اجلاس کو بتایا کہ میڈیکل کے شعبے میں درآمد کیے جانے والے آلات اور مشینری پر سے ڈیوٹی ختم کیے جانے کے حکومتی فیصلے پر عمل درآمد کیا جا چکا ہے۔ وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے مشکل ترین معاشی صورتحال میں حکومت کی باگ ڈور سنبھالی۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی کوششوں کی وجہ سے آج ملک میں معاشی استحکام ہے اور سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کا اعتماد بحال ہوا ہے اور مثبت رجحان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشی استحکام اور اقتصادی اعشاریوں میں بہتری کے عمل کو آگے بڑھانا ہے اور کاروباری طبقے کے لئے موزوں فضا کو مزید بہتر بنانا ہے تاکہ معاشی ترقی کا عمل تیز کیا جاسکے۔








