اسلام آباد ۔ 28 نومبر (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر تجارت عبدالرزاق دائود نے کہا ہے کہ افریقہ 54 ممالک پر مشتمل دوسرا بڑا براعظم ہے، ہمیں افریقی ممالک میں تجارتی مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے، آئندہ پانچ سالوں میں افریقہ کے ساتھ اپنے تجارتی حجم کو دوگنا کرنا ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو وزارت خارجہ میںافریقی ممالک میں تعینات پاکستانی سفراء کی کانفرنس …
وزیراعظم کے مشیر تجارت عبدالرزاق دائودکا افریقی ممالک میں تعینات پاکستانی سفراء کی کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 28 نومبر (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر تجارت عبدالرزاق دائود نے کہا ہے کہ افریقہ 54 ممالک پر مشتمل دوسرا بڑا براعظم ہے، ہمیں افریقی ممالک میں تجارتی مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے، آئندہ پانچ سالوں میں افریقہ کے ساتھ اپنے تجارتی حجم کو دوگنا کرنا ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو وزارت خارجہ میںافریقی ممالک میں تعینات پاکستانی سفراء کی کانفرنس کے دوسرے روز کے ابتدائی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس کے اس سیشن میں افریقی ممالک میں تعینات پاکستانی سفرائ، چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ، گورنر سٹیٹ بینک، سیکرٹری خارجہ و سیکرٹری تجارت نے شرکت کی۔ مشیر تجارت نے کہا کہ افریقی ممالک کی جی ڈی پی آنے والے سالوں میں 29 ٹریلین ڈالر تک بڑھ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ان اہم مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے تجارتی روابط کو بڑھانا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ آج ہمارے بنائے ہوئے ٹریکٹرز بہت سے افریقی ممالک میں برآمد کیے جا رہے ہیں ۔ ہمارا ہدف آئندہ پانچ سالوں میں افریقہ کے ساتھ اپنے تجارتی حجم کو دوگنا کرنا ہے۔ مشیر تجارت نے کہا کہ ہمیں آزادانہ تجارت کے معاہدوں کے ذریعے تجارت بڑھانے کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 30/31 جنوری 2020ء کو نیروبی میں متوقع تجارتی کانفرنس میں بھرپور شرکت کرے گا۔ میں اس اہم کانفرنس کے انعقاد پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اور وزارت خارجہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔اس موقع پر چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ زبیر گیلانی نے کہا کہ افریقی ممالک میں تجارت کے فروغ کیلئے بہت سے مواقع موجود ہیں جن سے مستفید ہونے کیلئے ہمیں مشترکہ عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ بعد ازاں سیکرٹری تجارت سردار احمد نواز سکھیرا نے افریقی ممالک کے ساتھ پاکستان کی تجارت کی نوعیت، تجارتی حجم اور تجارتی اعداد و شمار کے حوالے سے شرکاء کو مفصل بریفنگ دی اور سرمایہ کاری کو بڑھانے کے لئے مختلف تجاویز پیش کیں۔








