اسلام آباد ۔ 28 نومبر (اے پی پی) حکومت کی قانونی ٹیم اور وزیراعظم کے معاونین خصوصی نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کو آئین و قانون اور جمہوریت کی جیت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے قومی اداروں میں استحکام پیدا ہوا ہے، حکومت جمہوریت، آئین اور قانون کے ساتھ کھڑی ہے، عدلیہ اور فوج ہمارے ادارے ہیں، …
وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر، ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، اٹارنی جنرل انور منصور خان اور سابق وفاقی وزیر بیرسٹر فروغ نسیم کا مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 28 نومبر (اے پی پی) حکومت کی قانونی ٹیم اور وزیراعظم کے معاونین خصوصی نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کو آئین و قانون اور جمہوریت کی جیت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے قومی اداروں میں استحکام پیدا ہوا ہے، حکومت جمہوریت، آئین اور قانون کے ساتھ کھڑی ہے، عدلیہ اور فوج ہمارے ادارے ہیں، ان پر سیاست نہیں کرنی چاہیے، عدلیہ نے کوئی سمری مسترد نہیں کی، عدالت نے قانونی نکات اٹھائے اس کے تناظر میں ہم نے نوٹیفکیشن میں تبدیلیاں کیں، نئے نوٹیفکیشن کو عدالت نے تسلیم کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر، وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، اٹارنی جنرل انور منصور خان اور سابق وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف ڈاکٹر بیرسٹر فروغ نسیم نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا کہ 1973ءکے آئین کے تناظر میں ماضی میں چیف آف آرمی سٹاف تعینات کئے گئے، موجودہ حکومت نے بھی اسی طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے چیف آف آرمی سٹاف کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کیا، قانون میں کہیں بھی چیف آف آرمی سٹاف کی تعیناتی اور اس کے حوالے سے ٹی او آرز کا ذکر نہیں، سپریم کورٹ میں تین روز کے دوران تفصیلی بحث سے کئی چیزیں سامنے آئیں، آرٹیکل 243 اور آرمی ریگولیشنز کا سیکشن 255 کا بار بار ذکر ہوا، آرٹیکل 243 چیف آف جنرل سٹاف کی تعیناتی سے متعلق ہے جبکہ آرمی ریگولیشنز کا سیکشن 255 اس کے عہدے اور رینک سے متعلق ہے، دونوں کو الگ الگ انداز میں دیکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں تعینات کئے گئے چیف آف آرمی سٹاف کے نوٹیفکیشن میں آرمی ریگولیشنز کے سیکشن 255 کا ذکر ہے، وزیراعظم عمران خان نے دو ٹوک انداز میں کہا تھا کہ آئین اور قانون پر عملدرآمد کریں گے، عدالت نے نوٹیفکیشن میں جو ترامیم کرائیں وہ آرٹیکل 243 کے حوالے سے تھیں، آخری نوٹیفکیشن میں سے عدالت کے حکم پر اس کا نام نکال دیا گیا ہے، اس آخری نوٹیفکیشن کو عدالت نے تسلیم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1973ءکے بعد اس حوالے سے کوئی قانون سازی نہیں کی گئی، عدالت نے حکم دیا ہے کہ اس حوالے سے چھ ماہ کے اندر قانون سازی کی جائے جس میں چیف آف آرمی سٹاف کی تعیناتی کے طریقہ کار سمیت دیگر امور کا احاطہ ہو تاکہ مستقبل میں اس قانون سازی کے تحت تعیناتی کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق قانون سازی موجودہ حکومت کے لئے اعزاز کی بات ہو گی اور اس سے مستقبل میں آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق درست سمت متعین ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے باہر مخالفین اور دشمن اس حوالے سے ٹی وی چینلز پر بحث کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں، پاکستان ہم سب کا ہے، اس کے خلاف کوئی بات نہ کریں جس سے دوسروں کو ہمارے خلاف بات کرنے کا موقع ملے۔ سابق وزیر قانون و انصاف بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ آرٹیکل 243 کے تحت سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو توسیع دی گئی۔ اس تعیناتی کو عدالت میں چیلنج کیا گیا لیکن بعد ازاں اس کا فیصلہ نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے اس معاملے پر موجودہ حکومت کی رہنمائی کی ہے جس پر چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ سمیت اعلیٰ عدلیہ کے تمام ججوں کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ججوں اور وکلاءکے درمیان بحث مباحثہ ہوتا ہے، اس بحث کو فیصلہ نہیں کہہ سکتے، میڈیا کو چاہیے کہ وہ خبریں جاری کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کر لیا کرے۔ انہوں نے کہا کہ بعض چینلز نے میرے اور وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر پر وزیراعظم کی برہمی کے حوالے سے خبریں چلائیں جو کہ جھوٹی تھیں، ہم ان چینلز کے خلاف قانونی چارہ جوئی پر غور کر رہے ہیں، اسی طرح میرے لائسنس سے متعلق بھی غلط خبریں چلائی گئیں، یہ اہم مقدمہ تھا، اس معاملے پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ماضی کی حکومتوں نے اس حوالے سے قانون سازی کر کے اسے ٹھیک کیوں نہیں کیا۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ میڈیا کا کردار اہم ہے، اس کیس کو کسی شخصیت کے ساتھ نہ جوڑا جائے، عدالت نے طریقہ کار کی خامیوں کو درست کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ اس فیصلے سے آئین و قانون اور جمہوریت کی جیت ہوئی ہے، اس سے ملکی اداروں میں استحکام پیدا ہوا ہے، اس سے اپنے مفاد کی آس لگانے والوں کے خواب چکنا چور ہو گئے ہیں۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ اس فیصلے سے واضح ہو گیا ہے کہ آرٹیکل 243 کے تحت وزیراعظم کا اختیار ہے۔ اس پر کوئی دو رائے نہیں اور اسی کے تحت چیف آف آرمی سٹاف کی تعیناتی ہوئی ہے تاہم عدالت نے کہا ہے کہ چھ ماہ میں اس حوالے سے قانون سازی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب سے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی تعیناتی کی مدت شروع ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی صوابدید ہے کہ وہ اس حوالے سے جو بھی قانون سازی کرے گی، آئندہ اسی پر عملدرآمد کیا جائے گا تاہم چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے کی مدت چھ ماہ میں ختم نہیں ہو گی بلکہ اس کا تعین پارلیمنٹ اور ایگزیکٹو نیا قانون بنا کر کرے گی۔ بعدازاں صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے سابق وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف فروغ نسیم نے کہا کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ زبردست جرنیل ہیں، وہ دشمنوں کے سامنے چٹان بن کر کھڑے ہیں، دشمن انہیں ہٹانا چاہتا ہے لیکن ہم جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ کھڑے ہیں، ان کا بھرپور ساتھ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جمہوریت، آئین اور قانون کے ساتھ کھڑی ہے، عدلیہ اور فوج ہمارے ادارے ہیں، ان پر سیاست نہیں کرنی چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ججز قانون کے محافظ ہیں، ہم نے بھی عدالتوں کا احترام کیا ہے، میڈیا کو بھی ججوں، فوج اور وکلاءکا احترام کرنا چاہیے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس صاحبان اور آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ سے پہلے ان عہدوں پر ان کے پیش رو کے ناموں کے نوٹیفکیشن جاری کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ نے کوئی سمری مسترد نہیں کی، عدالت نے قانونی نکات اٹھائے، اس کے تناظر میں ہم نے نوٹیفکیشن میں تبدیلیاں کیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ رضا کارانہ طور پر وزیر قانون و انصاف کے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے، وزیراعظم عمران خان نے کابینہ اجلاس کے دوران میرے اس فیصلے کا اعلان کیا جس کو کابینہ نے سراہا۔








