وزیر اعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم کا پریس کانفرنس سے خطاب

کراچی۔ 28 نومبر (اے پی پی) وزیر اعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والے سرفہرست ملکوں میں شامل ہے، ماحول کے تحفظ اور موسمی تغیرات کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی بھرپور صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہوگا، بجلی سے چلنے والی گاڑیاں آٹو انڈسٹری کا مستقبل اور ماحول کے لیے مضر گیسوں کے اخراج کو کم …

کراچی۔ 28 نومبر (اے پی پی) وزیر اعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والے سرفہرست ملکوں میں شامل ہے، ماحول کے تحفظ اور موسمی تغیرات کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی بھرپور صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہوگا، بجلی سے چلنے والی گاڑیاں آٹو انڈسٹری کا مستقبل اور ماحول کے لیے مضر گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں، وفاقی وزارت موسمیاتی تبدیلی (کلائمنٹ چینج) نے پاکستان الیکٹرک وہیکل پالیسی کا مسودہ تیار کرکے کابینہ سے منظور کرایا جو پاکستان میں آٹو انڈسٹری میں انقلابی تبدیلیوں کی بنیاد بنے گا اور ملک میں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی پیداوار کے شعبہ میں بھاری سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو مقامی ہوٹل میں پاکستان الیکٹرک وہیکل اینڈ پارٹس مینوفیکچررز اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین احتشام الحق، وائس چیئرمین محمد ایاز ودیگر عہدے داران کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں بجلی سے چلنے والی گاڑیاں تیزی سے اپنی جگہ بنارہی ہیں اور پاکستان کو بھی ٹیکنالوجی کے میدان میں ہونیو الی اس اہم پیش رفت سے فائدہ اٹھانا ہے تاکہ اپنے ماحول کو مضر صحت گیسوں کے اثرات سے محفوظ بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اس جانب وفاقی وزارت کلائمنٹ چینج نے پہلا قدم اٹھایا اور پاکستان کی پہلی الیکٹرانک وہیکل پالیسی کابینہ سے منظور کرائی ہے اور متعلقہ ایس آر او جاری ہوتے ہی اس شعبہ میں سرمایہ کاری کا آغاز ہوجائے گا۔ وزیر اعظم کے مشیر نے کہا کہ بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی مقامی سطح پر پیداوار ایک انقلابی قدم ہے جو پاکستان کے درآمدی بل میں نمایاں کمی کے ذریعے معیشت میں ایک گیم چینجر ثابت ہوگا۔ پاکستان نے گزشتہ مالی سال 14ارب ڈالر کا خطیر زرمبادلہ ایندھن کی درآمد پر خرچ کیا، بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی بدولت اس قیمتی زرمبادلہ کی بچت کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی، بجلی سے چلنے والی گاڑیوں سے نہ صرف عوام کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت میسر ہوگی وہیں ٹرانسپورٹرز کو بھی کرایوں میں کمی کی شکل میں فائدہ ہوگا اور ان کی آمدن میں اضافہ ہوگا۔اس موقع پر پاکستان الیکٹرک وہیکل اینڈ پارٹس مینوفیکچررز اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے عہدے داروں احتشام الحق، محمد ایاز، شوکت قریشی نے قلیل مدت میں الیکٹرانک وہیکل پالیسی کی تشکیل پر وزیر اعظم کے مشیر ملک امین اسلم کی کاوشوں کو سراہا اور اسے پاکستان میں سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کے فروغ اور ماحول کے تحفظ کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ ایسوسی ایسوسی ایشن کے عہدے داروں نے میڈیا کے نمائندوں کو آگاہ کیا کہ ٹوٹل پارکو کمپنی ملک بھر کے منتخب فیول اسٹیشنز پر 150 چارجر نصب کریگی جن سے بسوں کو چارج کیا جاسکے گا، ٹوٹل پارکو کی ٹیم اس وقت چین کے دورے پر ہے اور پاکستان میں چارجر نصب کرنے کے انتظامات کو حتمی شکل دی جارہی ہے اسی طرح بجلی سے چلنے والی گاڑیاں تیار کرنے والے دنیا کی سرفہرست کمپنی BYD بھی پاکستان میں ٹرانسپورٹ کو چارج کرنے کے لیے انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے اور متعلقہ حکام کو باضابطہ اظہار دلچسپی کی درخواستیں جمع کرائی جاچکی ہیں تاحال متعلقہ حکام نے ان درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔