اسلام آباد ۔ 29 نومبر (اے پی پی) وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے ریلوے فرخ حبیب نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کو اربوں روپے کی فارن فنڈنگ ہوئی لیکن تاحال فنڈنگ کرنے والوں کی شناخت اور تفصیلات الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کرسکتی، اربوں روپے کی تفصیلات پر ایک صحفہ پیش کرنا آئینی ادارے کے ساتھ مذاق ہے ، مسلم لیگ (ن) کو تفصیلات …
وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے ریلوے فرخ حبیب کی میڈیا سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 29 نومبر (اے پی پی) وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے ریلوے فرخ حبیب نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کو اربوں روپے کی فارن فنڈنگ ہوئی لیکن تاحال فنڈنگ کرنے والوں کی شناخت اور تفصیلات الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کرسکتی، اربوں روپے کی تفصیلات پر ایک صحفہ پیش کرنا آئینی ادارے کے ساتھ مذاق ہے ، مسلم لیگ (ن) کو تفصیلات پیش کرنے سے بھاگنے نہیں دیں گے، چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشن کی تقرری کے لئے آئین کے حکومت اپنی ذمہ داریاں ادا کرے گی، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد آئینی اداروں میں تصادم کی خواہش رکھنے والوں کو ناکام کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ جمعہ کو الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ وفاقی پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے بینک اکاﺅنٹس میں جمع کرائی گئی رقوم کی تفصیلات 24گھنٹوں میں جمع کرائی جانے تھی آج تک 24سماعتیں ہونے کے بعد بھی یہ تفیصلات جمع نہیں کرائی جاسکیں، سب سوالوں کا جواب ہے کہ ہمارے پاس کوئی جواب نہیں، صرف ایک صحفہ کا جواب جمع کرایا گیا جبکہ معاملہ اربوں روپے کا ہے، ایک ارب سے زائد انتخابی مہم میں میڈیا پر خرچ کیا گیا، انتخابی جلسوں کی ادائیگیاں کیں گئیں، پیسہ دینے والوں کے نام، شناختی کارڈ ہونگے، تفصیلات ابھی تک جمع نہیں کرائے گئے ۔ قانون کے مطابق 18سال کے ہر پاکستانی کا شناختی کارڈ بنتا ہے، شناختی کارڈ کے بغیر اکاﺅنٹ نہیں کھل سکتا لیکن شناختی کارڈ صرف مسلم لیگ (ن)کے پاس نہیں ،کیا یہاں پر بھی مردوں نے پیسے جمع کرائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن)کو ابوظہی سے ریکارڈ اونٹوں کے ذریعہ منگوانا پڑے گا، ان کا ریکارڈ پاکستان کے اندر موجود نہیں ہے، جب بھی لیگی قیادت مشکل کا شکار ہوتے ہیں تو قطر سے خط نکلنے شروع ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 3دسمبر کو ہم اور سوالات اٹھائیں گے، ریکارڈ دینے سے بھاگنے نہیں دیں گے، سکروٹنی کمیٹی کا اختیار ہے کہ کسی بھی تحقیقیاتی ادارے سے وہ ریکارڈ بھی حاصل کرسکتے ہیں جو انہوں نے جمع نہیں کرائے ۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے ملک میں جمہوریت مضبوط ہوئی ہے، سپریم کورٹ نے پاکستان کی پارلیمنٹ، حکومت کو دوبارہ اختیار دیا کہ وہ قانون سازی اور آئینی سازی کا کام مکمل کریں، جہاں قانون خاموش ہے یا قانون کی ضرورت ہے وہاں پارلیمنٹ کا کردار ہوتا ہے، آئینی اداروں کے تضادم کی خواہش رکھنے والوں کے خواب چکنا چور ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان عمل ،کرتا پور راہدری، معاشی صورتحال سمیت ہر محاذ پر فوجی سول شراکتداری نے مثالی کردار ادا کیا ہے، پاکستان کی مضبوطی کا راز تمام اداروں کا ایک پیچ پر ملکر چلنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس واضح موقع ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پارلیمینٹ اور پارلیمنٹ میں موجود تمام جماعتیں اپنی ذمہ داریاں اداکریں گی ۔ انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان اور عدلیہ پر کبھی گفتگو نہیں ہوتی ،ان پر مناسب اور محتاط انداز میں بات کرنی چاہیےن ایک ادارے نے انصاف فراہم کرنا ہے اور دوسرا ادارہ سرحدوں کا محافظ اور سالمیت کا ضامن ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لیکن کمیشن آئینی ادارہ ہے، الیکشن کمیشن اور کمشنر کی تقرری کے لئے حکومت آئینی طریقے سے تقرری کا عمل مکمل کرے گی۔








