سرینگر ۔ 2 دسمبر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر بالخصوص وادی کشمیر اور جموں خطے کے مسلم اکثریتی علاقوں میں گزشتہ 120روز سے فوجی محاصرہ اور انٹرنیٹ کی معطلی مسلسل جاری ہے اوران چار ماہ کے دوران صورتحال میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق قابض حکام نے کپوارہ اور سرینگرمیں دو کشمیری نوجوانوںپر کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ نافذ کرکے ان کو سینٹرل جیل سرینگر …
مقبوضہ کشمیر میں120 ویں روز بھی فوجی محاصرہ اور دیگر پابندیاں بدستور جاری

مزید خبریں
سرینگر ۔ 2 دسمبر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر بالخصوص وادی کشمیر اور جموں خطے کے مسلم اکثریتی علاقوں میں گزشتہ 120روز سے فوجی محاصرہ اور انٹرنیٹ کی معطلی مسلسل جاری ہے اوران چار ماہ کے دوران صورتحال میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق قابض حکام نے کپوارہ اور سرینگرمیں دو کشمیری نوجوانوںپر کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ نافذ کرکے ان کو سینٹرل جیل سرینگر منتقل کردیا ہے۔ محمد افضل لون اورفیاض احمد گنائی کوبھارتی پولیس نے بھارت مخالف مظاہروں کا اہتمام اور پتھرائو کرنے کا الزام لگاکر گرفتارکیا ہے۔ ایک رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی قابض انتظامیہ ایم ایل اے ہوسٹل سرینگر میں نظربند سیاسی رہنمائوں میں سے چند رہنمائوں کو اپنے گھروں میں منتقل کرکے ان کے گھروں میںنظر بند کرے گی۔ بظاہر گھروں میں منتقلی کی وجہ ہوسٹل میں جس کو سب جیل قراردیا گیا ہے ، سہولیات کی عدم فراہمی بتایا جارہا ہے۔ رپورٹ میں منتقل کئے جانے والے رہنمائوں کا نام ظاہر کئے بغیر کہاگیا ہے کہ علیل اور بزرگ رہنمائوں کو دسمبر کے پہلے ہفتے میں ان کے گھروں میں منتقل کیا جائے گا۔ گزشتہ ہفتے دو نظربند رہنمائوں حکیم محمد یاسین اور محمد اشرف میر کوہوسٹل سے رہا گیا تھا تاہم انہیں گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ دریں اثناء جاپان نے کہاہے کہ ان کا ملک کشمیر کے حوالے سے طویل عرصے سے جاری اختلاف سے آگاہ ہے اور وہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور امید کرتا ہے کہ اس مسئلے کا مذاکرات کے ذیعے پرامن طریقے سے حل نکالا جائے گا۔یہ بات نئی دہلی میں بھارت اور جاپان کے وزرائے خارجہ اور وزرائے دفاع کے درمیان ملاقاتوں کے بعدجاپان کی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہی ہے۔








