اسلام آباد ۔ 2 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق متبادل توانائی کے ذرائع سے بجلی پیدا کر کے سسٹم میں لانا چاہتے ہیں تاکہ عوام کو سستی بجلی فراہم کی جاسکے، بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی تو بھرپور جواب دیا جائے گا،2030 تک 70 فیصد بجلی متبادل ذرائع سے حاصل …
وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان کا سیمینار سے خطاب اور صحافیوں سے بات چیت

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 2 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق متبادل توانائی کے ذرائع سے بجلی پیدا کر کے سسٹم میں لانا چاہتے ہیں تاکہ عوام کو سستی بجلی فراہم کی جاسکے، بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی تو بھرپور جواب دیا جائے گا،2030 تک 70 فیصد بجلی متبادل ذرائع سے حاصل کی جائے گی، کشمیر میں بھارتی ظلم وستم ناقابل برداشت ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو پانی کے بحران کے موضوع پر منعقد سیمینار سے خطاب اور بعد ازاں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔عمر ایوب خان نے کہا کہ آبی وسائل میں سرمایہ کاری سے جی ڈی پی میں ایک فیصد اضافہ ہوگا اور ہمیں آبی وسائل میں سرمایہ کاری پر توجہ دینی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں غذائی تحفظ اور اسکی سیکورٹی کو سنجیدگی سے لینا ہوگا تاکہ اس حوالے سے پیدا ہونے والے بحران سے بروقت نمٹا جا سکے کیونکہ اس موسمیاتی تبدیلی صرف پاکستان کا نہیں بلکہ پوری دنیا کے لئے مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ وزیر توانائی نے کہا کہ ہمیں پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے ڈیموں کی ضرورت ہے، بد قسمتی سے ساٹھ سال کی دہائی کے بعد کوئی بڑا ڈیم نہیں بنایا جا سکا، اس علاوہ تربیلا اور منگلا ڈیم کے بعد آبی ذخائر کی تعمیر کا کام روک دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 2030 تک 70 فیصد بجلی متبادل ذرائع سے حاصل کی جائے گی اور اسکے علاوہ انرجی مکس میں 18 سے 20 ہزار میگاواٹ ہائیڈل شامل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے تربیلا، منگلا، غازی بروتھا اور خانپورڈیم پر فلوٹنگ سولر پینلز نصب کرنے جارہے ہیں، اس کے علاوہ نہروں کے اطراف بھی سولر پینلز نصب کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے میں بہترین اور جدید ٹیکنالوجیز متعارف کروائیں گے تاکہ غذائی قلت کو پورا کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پانی کے استعمال میں انتہائی احتیاط برتنا ہوگی کیونکہ ہمارے آبی ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی تو بھرپور جواب دیا جائیگا، پاکستان ہر سطح پر اپنی خودمختاری برقرار رکھے گا اور بھارت کو پہلے بھی ہم جارحیت کا منہ توڑ جواب دے چکے ہیں۔عمر ایوب نے کہا کہ کشمیر میں بھارتی ظلم وستم ناقابل برداشت ہیں،دنیا کو مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے ظلم و ستم کا نوٹس لینا چاہئیے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے معیاری منصوبوں کو شروع کیا جو مسلم لیگ (ن) کے دور میں ختم ہو چکے تھے کیونکہ وہ توانائی کے ان منصوبوں کو ایل این جی پر لے کر جانا چاہتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں فی کس بجلی کا استعمال پانچ سو کلو واٹ ہے جبکہ پڑوسی ملک میں فی کس استعمال ساڑھے نو سو کلو واٹ، چین میں 2500 کلو واٹ اور امریکہ میں 11 ہزار کلو واٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق متبادل توانائی کے ذرائع سے بجلی پیدا کر کے سسٹم میں لانا چاہتے ہیں جس سے عوام کو سستے داموں بجلی میسر آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسی میں متبادل ذرائع سے بجلی پیدا کرنا شامل ہے اور ہم 2025ءتک آٹھ ہزار میگاواٹ سسٹم میں لائیں گے اس طرح 2030ءتک 20 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کر کے سسٹم میں لائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے کوئلے، گیس اور دیگر مہنگے ذرائع سے بجلی پیدا کی ہے جس سے اس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ گردشی قرضوں کے حوالے سے عمر ایوب نے کہا کہ ماضی میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ایک سال کے دوران 435 ارب روپے گردشی قرضے کا اضافہ کیا اور اس حکومت نے جاتے وقت 845 ارب روپے سے زائد کے گردشی قرضے چھوڑے ہیں جبکہ موجودہ حکومت گردشی قرضوں کو ترجیحی بنیاد پر نہ صرف کم بلکہ ختم کرنا چاہتی ہے اور ہم نے گردشی قرضے کے بہاﺅ کو بتدریج 26 ارب، 22 ارب سے کم کر کے اب 10 ارب روپے پر لے آئے ہیں جو 2020ءکے آخر تک صفر پر آ جائے گا۔








