اسلام آباد ۔ 10 دسمبر (اے پی پی) پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اور پاکستان ہندو کونسل کے سرپرست ڈاکٹر رمیش کمار وینکوانی نے کہا ہے کہ بھارت میں غیر ملکیوں کےلئے امتیازی شہریت بل کی منظوری کے بعد اب بھارت سیکولر ملک نہیں رہا اور اس کا نام نہاد سیکولر اور لبرل ملک ہونے کا چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے۔ ”اے پی پی“ سے گفتگو کرتے …
پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اور پاکستان ہندو کونسل کے سرپرست ڈاکٹر رمیش کمار وینکوانی کی ”اے پی پی“ سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 10 دسمبر (اے پی پی) پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اور پاکستان ہندو کونسل کے سرپرست ڈاکٹر رمیش کمار وینکوانی نے کہا ہے کہ بھارت میں غیر ملکیوں کےلئے امتیازی شہریت بل کی منظوری کے بعد اب بھارت سیکولر ملک نہیں رہا اور اس کا نام نہاد سیکولر اور لبرل ملک ہونے کا چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے۔ ”اے پی پی“ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر رمیش کمار نے کہا کہ ہندوستان کے آئین کے مطابق وہ سیکولر اور لبرل نظریات کی حامل ریاست ہے لیکن بی جے پی کے ہندوتوا منشور پر عمل کرتے ہوئے مودی حکومت نے اس کی وہ شناخت ختم کر دی ہے جو ہندوستان کے آئین کے بھی منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے ملک کو سیکولر کہتے ہوئے غیر ملکیوں کےلئے شہریت کے دروازے کھولتے وقت مسلمانوں کے ساتھ مودی حکومت کا امتیازی سلوک منفی سوچ اور ہندوتوا کا ایجنڈا ہے جس کا امریکہ سمیت پوری دنیا کو نوٹس لینا چاہئے اور اب ہندوستان کے ساتھ سیکولر ریاست نہیں بلکہ ہندو ریاست کے طور پر معاملات کئے جائیں۔ ڈاکٹر رمیش کمار نے کہا کہ یہ امتیازی قانون ہے جس نے سیکولر ہندوستان کا چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستان اس وقت جو مظالم کشمیر میں کر رہا ہے اس نے پہلے ہی عالمی سطح پر اس کی لبرل ملک کے طورپر شناخت کو بڑی طرح مجروح کیا اور اب کے حالیہ فیصلے نے جس کی وہاں کی سیاسی جماعتیں بھی مذمت کررہی ہیں اس کی سیکولر اور لبرل شناخت یکسر ختم کر دی ہے۔








