وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ

اسلام آباد ۔ 10 دسمبر (اے پی پی)وفاقی کابینہ نے لوک سبھا میں منظور کئے جانے والے متنازعہ شہریت بل کی شدید مذمت کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ بھارت کے ایسے اقدامات نے اس کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا ہے،کابینہ نے مریم نواز کا نام ای سی ایل سے ہٹانے کا معاملہ کابینہ کی سب کمیٹی کو بھجوا دیا ہے، حکومت سب کمیٹی کی سفارشات اور ٹھوس …

اسلام آباد ۔ 10 دسمبر (اے پی پی)وفاقی کابینہ نے لوک سبھا میں منظور کئے جانے والے متنازعہ شہریت بل کی شدید مذمت کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ بھارت کے ایسے اقدامات نے اس کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا ہے،کابینہ نے مریم نواز کا نام ای سی ایل سے ہٹانے کا معاملہ کابینہ کی سب کمیٹی کو بھجوا دیا ہے، حکومت سب کمیٹی کی سفارشات اور ٹھوس وجوہات کو مد نظر رکھتے رکھتے ہوئے فیصلہ کریگی،وزیراعظم نے سزا یافتہ اور مفرور افرادکے میڈیا بیانات کے تدارک کے لئے پیمرا سمیت تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے ساتھ لائحہ عمل بنانے کے لئے وزیر قانون و انصاف کو خصوصی ہدایات دیں ،کابینہ کے سکوک بانڈز اور اسلام آباد لوگل گورنمنٹ ایکٹ پر تحفظات پر دونوں سمریاں واپس لے لیں گئیں،حکومت نے پہلے 15ماہ میں سوئی گیس ،بجلی ،زراعت ،فرٹیلائزر کے شعبے میں 401ارب کی سبسڈی دی ہے ،وزیراعظم عمران خان نے وفاقی دارالحکومت کی تمام ہسپتالوں کو سٹیٹ آف دی آرٹ اداروں میں تبدیل کرنے کی ہدایت دی ۔ منگل کو وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کابینہ نے بھارتی لوک سبھا کی جانب سے شہریت سے متعلق قانون سازی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسی قانون سازی نے بھارت سرکار کے نام نہاد لبر ازم کا پردہ فاش کیا ہے اور یہ آر ایس ایس نظریہ کی ترویج کے ایجنڈے کی عملی مثال ہے۔ کابینہ نے 1971 کی جنگ کے ہیرو کرنل سلیمان شہید کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ ادا کی۔ کابینہ نے میڈیا کے بعض حلقوں کی جانب سے اشتہاری ملزمان اور سزا یافتہ افراد کے بیانات چلائے جانے اور قانون کو مطلوب ایسے افراد کو غیر ضروری پروجیکشن دینے کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مہذب معاشروں میں کہیں بھی ملزمان اور خصوصاً ایسے ملزمان جن پر قومی خزانہ کو اربوں روپے نقصان پہنچانے کا الزام ہو یا سزا یافتہ ہوں ایسے افراد کو میڈیا کا استعمال کرنے کی اجازت نہیں ملتی۔ وزیر برائے آبی وسائل نے کابینہ کو بتایا کہ انہوں نے اس حوالہ سے پیمرا کو خط تحریر کیا ہے جس میں انہوں نے پیمرا کی توجہ اس امر کی جانب مبذول کرائی ہے۔ اسلام آ باد کیپٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت لوکل گورنمنٹ کمیشن کے قیام کی سمری واپس لے لی گئی۔ کابینہ نے بلوچستان ہائی کورٹ کے جج جسٹس عبداﷲ بلوچ کو جج سپیشل اپیلٹ کورٹ بلوچستان تعینات کرنے کی منظوری دی۔ یہ تعیناتی سمگلنگ کی روک تھام کے قانون 1977ءکی شق (1) 46 کے تحت بلوچستان ہائی کورٹ کی سفارش پر کی گئی ہے۔ کابینہ نے وفاقی دارالحکومت کے ہسپتالوں میں سروس ڈلیوری اور مریضوں کو بہتر صحت کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے ہسپتالوں کو اجازت دی ہے کہ مرمت اور مینٹیننس سے متعلقہ کاموں کے سلسلہ میں ہسپتال اپنی تکنیکی ضروریات کے مطابق یہ کام کسی بھی ادارے سے کرا سکتے ہیں اور اس سلسلہ میں پی ڈبلیو ڈی سے ہی یہ کام کرانے کی شرط لاگو نہیں ہو گی۔ کابینہ نے اوورسیز پاکستانیز فاﺅنڈیشن کے بورڈ آف گورنرز میں عرفان مصطفی، ذوالقرنین علی خان اور حارث چوہدری کی تعیناتی کی منظوری دی۔ کابینہ نے ورکرز ویلفیئر فنڈ کے گورننگ بورڈ کی تنظیم نو کی منظوری دی۔ چیئرپرسن مسابقتی کمیشن آف پاکستان ودیا خلیل نے کابینہ کو گندم/آٹا، چینی اور دیگر خوردونوش کی بنیادی قیمتوں کے کنٹرول کے حوالہ سے تفصیلی بریفنگ دی۔ چیئرپرسن مسابقتی کمیشن آف پاکستان نے آٹے اور چینی کی قیمتوں میں اضافہ کی شکایت پر مختلف فلور ملز اور شوگر ملوں کے خلاف لئے جانے والے ایکشنز اور ان پر پیشرفت سے بھی کابینہ کو آگاہ کیا۔ انہوں نے مسابقتی کمیشن کو مزید فعال کرنے کیلئے کابینہ کے سامنے مختلف سفارشات پیش کیں۔ وزیراعظم نے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین کو ہدایت کی کہ مسابقی کمیشن کو مزید فعال بنانے کے سلسلہ میں سفارشات کو ایک ہفتے میں حتمی شکل دی جائے۔ وزیر توانائی نے بجلی کی قیمتوں کے حوالہ سے کابینہ کو تفصیلی طور پر آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کی جانب سے جہاں گردشی قرضوں کو ختم کرنے کے سلسلہ میں اقدامات کئے جا رہے ہیں وہاں بجلی چوری اور لائن لاسز کی روک تھام کے حوالہ سے بھی مو¿ثر انتظامی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماہانہ کی سطح پر بڑھنے والے گردشی قرضے کو 39 ارب کی سطح سے کم کرکے 12 ارب روپے تک لایا جا چکا ہے اور بہت جلد اس کو زیرو پر لایا جائے گا۔ گیس کی قیمتوں میں اضافہ کے حوالہ سے بریفنگ دیتے ہوئے کابینہ کو بتایا گیا کہ حکومت کی جانب سے اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ 300 یونٹس تک استعمال کرنے والے صارفین پر گیس کی قیمت میں اضافہ کا بوجھ نہ پڑے اور وہ اس سے محفوظ رہیں۔کابینہ کو بتایا گیا کہ مجموعی طور پر گھریلو صارفین کو 242 ارب روپے، صنعتوں کو 29 جبکہ زرعی شعبہ کو 100 ارب روپے سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ موجودہ حکومت نے گھریلو صارفین کیلئے سبسڈی کی مد میں 45 ارب کا اضافہ کیا ہے۔ معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر نے کابینہ کو گیس کی قیمتوں کے حوالہ سے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ جب موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا تو اس وقت گیس کے شعبہ میں 181 ارب روپے کا خسارہ ورثہ میں ملا۔ انہوں نے کہا کہ اس کی بنیادی وجہ ماضی کی حکومتوں کی جانب سے گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہ کیا جانا تھا جس کی وجہ سے گیس کے شعبہ میں خسارہ بڑھتا جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ حکومت کی جانب سے اصلاحات کا عمل نہ شروع کیا جاتا تو جون 2020ءمیں 300 ارب کا اضافی خسارہ پہلے سے موجود 181 ارب خسارے کا مزید حصہ بن جاتا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی جانب سے گیس کے شعبہ میں اصلاحات میں اس بات کو خصوصی طور پر مدنظر رکھا گیا ہے کہ گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور شعبہ کو مزید نقصانات سے بچانے کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات سے وہ گھریلو صارفین جو باورچی خانہ کی ضروریات کے سلسلہ میں گیس استعمال کرتے ہیں ان پر کوئی زیادہ بوجھ نہ پڑے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی گیس کی پیداوار میں سالانہ 7 فیصد کمی آ رہی ہے جبکہ گیس کی ضروریات بڑھ رہی ہیں، اس کمی کو پورا کرنے کیلئے باہر سے ایل این جی درآمد کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت پٹرولیم کی جانب سے عوام کو گیس کے استعمال میں کفایت شعاری اختیار کرنے کے حوالہ سے نہ صرف بھرپور تشہیری مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے بلکہ گیزر اور گیس کے دوسرے آلات میں گیس کے کم سے کم استعمال کے حوالہ سے ٹائمر زوکونیکل بیفرز کی آسان فراہمی کے حوالہ سے بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے باہر سے درآمد کی جانے والی گیس کی قیمت ملکی گیس کے مقابلہ میں کافی زیادہ ہے جو کہ تقریباً 10.8 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (1663 روپے) بنتی ہے لیکن حکومت کی جانب سے گھریلو صارفین، فرٹیلائزر اور زیرو ریٹنگ والی صنعتوں کو کم قیمت پر درآمد شدہ گیس فراہم کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرٹیلائزر کے شعبہ کو سستی گیس کی فراہمی کیلئے حکومت کی جانب سے 10 ارب کی سبسڈی دی جاتی ہے جبکہ گھریلو صارفین کو سستی گیس کی فراہمی کیلئے (2018-19ءموسم سرما) کیلئے 19 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2019-20ءکیلئے اس سبسڈی کا تخمینہ تقریباً 30 ارب روپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ گرمیوں کے مہینوں میں گیس کا بل نہایت کم ہوتا ہے اور سردیوں میں گیس کے زیادہ استعمال کی وجہ سے اس میں اضافہ ہو جاتا ہے لہٰذا حکومت اس تجویز پر غور کر رہی ہے کہ سردیوں کے بل کا بوجھ گرمیوں کے بل میں شامل کر دیا جائے تاکہ صارفین کو ادائیگی میں سہولت ہو۔ انہوں نے کہا کہ ملکی سطح پر پیدا ہونے والی گیس کی قیمت اور درآمد شدہ گیس کی قیمت میں توازن پیدا کرنے کیلئے صوبوں کی مشاورت سے مستقبل کا لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔ معاون خصوصی نے مزید بتایا کہ ماضی میں این این جی پی ایل کیلئے ایس ایس جی سی کی جانب سے مقامی طور پر تیار کئے جانے والے گیس میٹروں کی خریداری نامعلوم وجوہات کی بناءپر بند کرکے گیس کے میٹرز درآمد کئے جاتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اس پالیسی کو ترک کرکے ایس ایس جی سی کی جانب سے گیس میٹرز کی تیاری کے عمل کو دوبارہ شروع کیا ہے۔ کابینہ نے ڈائریکٹر جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی کا اضافی چارج سیکرٹری ہوا بازی حسن ناصر جامی کو دینے کی منظوری دی۔ کابینہ نے افغانستان اور پاکستان کی حکومتوں کے مابین نارکوٹکس کے خلاف تعاون کیلئے میمورنڈم آف انڈر سٹینڈنگ پر دستخط کرنے کی منظوری دی۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے سزا یافتہ اور مفرور افرادکے میڈیا بیانات کے تدارک کے لئے لائحہ عمل بنانے کے لئے وزیر قانون و انصاف کو خصوصی ہدایات دینا کسی مخالف یا سیاستدان کو ہدف بنانا مقصد نہیں ہے ،قانون میں یہ دیکھنا ہے کہ مفرور جو ملک کا قانون نہیں مانتا وہ میڈیا کے سامنے آکر کیسے حکومت پر تنقید کر سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پارلمینٹ کی اصل ذمہ داری قانون سازی کرنا ہے ،اگر پارلیمنٹ اپنا یہ کام کرتی تو حکومت کو آرڈیننس کے زریعہ قانون سازی کرنے کی ضرورت نہ پڑتی ۔انہوں نے کہا کہ قانون سازی کے لئے مشترکہ کمیٹی بنانے کی بات کی گئی تو حکومت نے وہ بھی پوری کر دی ،پروڈکشن آڈر کے لئے کہا گیا کہ کمر میں درد ہے جب تک سیشن ہے پارلیمنٹ میں رکھا جائے حکومت نے یہ بات بھی مان لی لیکن اپوزیشن دکھاتی کچھ ہے اور کرتی کچھ ہے ، اصل مسئلہ کچھ اور ہے ، گذشتہ روز سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے ایک سیاستدان نے کہا کہ ہم حکومت سے قانون سازی میں تعاون نہیں کرینگے ،اپوزیشن اپنی اداﺅں پر خود ہی غور کرے اگر حکومت نے کوئی بات کی تو پھر شکایت بن جائے گی ۔انہوں نے میڈیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا صرف یہ دیکھے کہ لندن دورہ کے لئے ٹکٹس کس اکاﺅنٹس سے لئے گئے اور دیگر اخراجات کہاں سے ادا ہوئے سب کچھ کلیئر ہوجائے گا ،میڈیا اس معاملے پر تحقیقاتی صحافت کرے ۔انہوں نے کہا کہ سوئی گیس کے پریشر کی کمی پر وزیراعظم نے تین ماہ کی طلب اور رسد کی تفصیلات سوئی سدرن اور ناردرن کمپنی سے مانگ لیں ہیں ،کئی جگہوں پر پریشر واقعی ہی کم ہے اور کئی پر سکر مشینیں لگا کر گیس کھینچی جارہی ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گیس سلیب کے معاملے پر وزیراعظم عمران خان نے سخت نوٹس لیا اور اسے واپس لینے کی ہدایت دی لیکن دونوں گیس کمپنیوں میں شامل پرائیویٹ ممبرز نے یہ فیصلہ عدالتوں میں چیلنج کر دیا، وزیراعظم نے اس معاملے پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور ہدایات دیں کہ سرکاری اداروں کے بورڈ میں ایسے ممبران نہیں ہونے چاہیں جو حکومت کے فیصلوں کو عدالتوں میں چیلنج کریں ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا معاملے کابینہ میں زیر بحث آیا ، درخواست کابینہ کی سب کمیٹی کوریفر کر دی گئی ،سب کمیٹی معاملے کا جائزہ لے گی اور اپنی سفارشات پیش کریگی ۔وزیر قانون و انصاف نے وفاقی کابینہ کو بتایا کہ دنیا کے کسی ملک میں ایسا قانون نہیں جوسزا یافتہ بیمارقیدی، اپنی بیٹی کا نام اپنی عیادت کے لئے ای سی ایل سے نکلوانے کی اجازت دیتا ہو،مریم نواز کا نام اس کے لئے ٹھوس وجوہات دینا پڑی گی ۔

مزید خبریں