اسلام آباد ۔ 11 دسمبر (اے پی پی)پاکستان اورروس نے دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان تعاون ،رابطوں اور کاروباری سرگرمیوں کوفروغ دینے اورپاک روس دوطرفہ تجارت کو موجودہ 440 ملین ڈالر سے بڑھا کر اپنی حقیقی صلاحیت تک بڑھانے کے عزم کا اظہارکیاہے۔ یہ بات پاکستان اورروس کے بین الحکومتی کمیشن برائے تجارت ، معیشت،سائنس وتکنیکی تعاون کے چھٹے اجلاس میں کہی گئی ۔کمیشن کے اجلاس میں پاکستانی …
پاکستان اورروس کے بین الحکومتی کمیشن برائے تجارت ، معیشت،سائنس وتکنیکی تعاون کا چھٹا اجلاس، دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان تعاون ،رابطوں اور کاروباری سرگرمیوں کوفروغ دینے اورپاک روس دوطرفہ تجارت کو بڑھانے کے عزم کا اظہار کمیشن کے اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر اقتصادی امورحماداظہر اورروسی وفد کی قیادت روس کے وزیربرائے صنعت وتجارت ڈینس وی مانٹوف نے کی

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 11 دسمبر (اے پی پی)پاکستان اورروس نے دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان تعاون ،رابطوں اور کاروباری سرگرمیوں کوفروغ دینے اورپاک روس دوطرفہ تجارت کو موجودہ 440 ملین ڈالر سے بڑھا کر اپنی حقیقی صلاحیت تک بڑھانے کے عزم کا اظہارکیاہے۔ یہ بات پاکستان اورروس کے بین الحکومتی کمیشن برائے تجارت ، معیشت،سائنس وتکنیکی تعاون کے چھٹے اجلاس میں کہی گئی ۔کمیشن کے اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر اقتصادی امورحماداظہر اورروسی وفد کی قیادت روس کے وزیربرائے صنعت وتجارت ڈینس وی مانٹوف نے کی۔ پاکستانی وفد میں سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن ، دفتر خارجہ ، وزارت تجارت ، توانائی ، نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ ، صنعت و پیداوار ، منصوبہ بندی ، ترقی و اصلاحات ، ہوا بازی ، فیڈرل بورڈ آف ریونیو ، سرمایہ کاری بورڈ ، ریلوے ، پیٹرولیم ڈویژن اور پاور ڈویژن کے سینئر نمائندے شامل تھے۔وفاقی وزیرحماداظہر نے اجلاس کے شرکاء کو پاکستان کی حکومت کی جانب سے اقتصادی اورمعاشی اصلاحات اوراس کے نتیجہ میں معاشی پیشرفت اور نتائج سے آگاہ کیا جس کے نتیجے میں حسابات جاریہ کے خسارے میں کمی آئی،برآمدات اورسرمایہ کاری میں اضافہ ہوا اورملکی معیشت مستحکم ہوئی ۔ انہوں نے روسی وفد کو آئی ایم ایف پروگرام کے کامیاب نفاذ ، پاکستانی معیشت کے روشن مستقبل کے امکانات اور دونوں اطراف کے مابین تجارت اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات سے آگاہ کیا۔ دونوں فریقوں نے متعدد شعبوں خصوصا توانائی ، تجارت ، ٹرانسپورٹ ، صنعت و پیداوار ، ریلوے ، زراعت اور سائنس و ٹیکنالوجی میں باہمی معاشی تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔اجلاس میں روس کی سرمایہ کاری سے پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔ روسی وفد نے نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن منصوبے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ اجلاس میں چاول اور آلو سمیت پاکستان کی دیگر اشیاء کی روس کو برآمدات پر عارضی پابندی ختم کرنے پر بھی بات کی گئی۔ اجلاس میں فریقین نے دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان تعاون و رابطوں اور کاروباری سرگرمیوں کوفروغ دینے اورپاک روس دوطرفہ تجارت کو موجودہ 440 ملین ڈالر سے بڑھا کر اپنی حقیقی صلاحیت تک بڑھانے کے عزم کا اظہارکیا۔دونوں ممالک نے نجی شعبے کی جانب سے زیادہ سے زیادہ تعاون کے ذریعے کاروباری سرگرمیوں کو موجودہ سطح سے بڑھانے سے بھی اتفاق کیا ۔ روسی وفد نے پاکستان کو ماسکو میں روڈ شو کے انعقاد کی دعوت دی تاکہ روسی نجی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے نئی راہیں تلاش کرنے کا موقع فراہم کیا جاسکے۔پاکستان وفد نے اجلاس میں بتایا کہ پاکستان روس کے ساتھ باہمی اور معاشی تعلقات کو قدرکی نگاہ سے دیکھتا ہے۔پاکستان کی جانب سے اس بات کا اعتراف کیا گیا کہ روس نے اسٹیل ملز کے قیام میں تعاون کرکے پاکستان کی صنعتی ترقی کی بنیاد رکھی ہے. پاکستان ترقی ، تعاون اور سرمایہ کاری کے مواقع کی فراہمی کی ضروریات کو بہتر طور پر سمجھتے ہوئے اعلی سطح پر اس طرح کی بات چیت کو جاری رکھنے کا پختہ عزم رکھتا ہے۔








