اسلام آباد ۔ 11 دسمبر (اے پی پی) وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے لاہور واقعہ پر 24گھنٹوں میں ذمہ داروں کے تعین کے ساتھ حقائق پر مبنی رپورٹ مانگ لی ہے ،ڈاکٹروں ،پیرامیڈیکل سٹاف ،وکلاء سمیت کوئی بھی طاقتور ذمہ دارقرار پایا تواسکے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی ،آج قانون کے …
وزیر اعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا اے پی پی ایمپلائز یونین کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیئے گئے استقبالیہ سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 11 دسمبر (اے پی پی) وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے لاہور واقعہ پر 24گھنٹوں میں ذمہ داروں کے تعین کے ساتھ حقائق پر مبنی رپورٹ مانگ لی ہے ،ڈاکٹروں ،پیرامیڈیکل سٹاف ،وکلاء سمیت کوئی بھی طاقتور ذمہ دارقرار پایا تواسکے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی ،آج قانون کے رکھوالے سسکتی ،تڑپتی انسانیت پر چڑھ دوڑے،ڈاکٹروں کو یرغمال بنانے ،طوفان بدتمیزی برپا کرنے ،صوبائی وزیرپر تشدد کر کے قانون کو اپنے پائوں کے نیچے روندنا قابل مذمت ہے ،حالت جنگ میں بھی ہسپتالوں پر بمباری نہیں کی جاتی،پاکستان کی قیادت اور عوام امن کی کوششوں اور کاوشوں کو آگے بڑھانے کے لئے پرعزم ہیں،سری لنکن ٹیم نے راولپنڈی کے گرائونڈ میں اتر کر امن کی فتح کو دنیا کے سامنے فروغ دیا،پارلیمنٹ میں مسٹر کلین بننے والے کو ایل این جی درآمد بارے آڈٹ رپورٹ میں108ارب کی بے قاعدگیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ سیاسی انتقام نہیں ہے بلکہ حقیقی احتساب ہے ، نیب کیسز بھی ان کے دامن کے داغدار ہونے کی تصدیق کرتے ہیں ، آصف زرداری کو طبی بنیادوں پر ضمانت دی گئی ہے ،نیب اس کیس میں مدعی ہے اس پر اپیل کا فیصلہ نیب نے ہی کرنا ہے ،امید ہے جس مقصد کے لئے ضمانت ملی اس پر توجہ مرکوز کی جائے گی کہ دوسرے بیمار قیدی کی طرح ضمانت کے بعد پھرتیاں تیز نہیں ہونگی ، وزیراعظم کا عزم ہے کہ قوم کی لوٹی ہوئی ایک ایک پائی اس ٹولے سے وصول کریں گے کسی جگہ سیاسی سمجھوتہ نہیں کرینگے۔ وہ جمعرات کی شام یہاں اے پی پی ایمپلائز یونین(سی بی اے ) کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیئے گئے استقبالیے سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو کر رہی تھیں ۔ ایم ڈی اے پی پی طارق محمود خان ،ایگزَیکٹو ڈائریکٹر غواص خان ،مختلف شعبوں کے ڈائریکٹرز ،اے پی پی ایمپلائز یونین کے صدر شہزاد علی اکبر سمیت یونین کے دیگر عہدیداران اور اے پی پی کے ملازمین کی کثیر تعداد تقریب میں شریک تھی ۔وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مسلح افواج ،سکیورٹی فورسز ،میڈیا اور عوام کی لازوال قربانیوں سے پاکستان میں امن بحال ہوا ہے، انہی لازوال قربانیوں کی وجہ سے آج پاکستان میں عالمی ٹیسٹ کرکٹ بحال ہوئی ،سری لنکن ٹیم نے راولپنڈی کے گرائونڈ میں اتر کر امن کی فتح کو دنیا کے سامنے فروغ دیا اور پیغام دیا کہ پاکستان ہر طرح سے پرامن ملک ہے اور 22کروڑ عوام امن کے ساتھ محبت کرنے والی قوم اور قیادت امن کی کوششوں اور کاوشوں کو آگے بڑھانے کے لئے پرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ جہاں کھیل کے میدان آباد ہو کر پاکستان کا روشن چہرہ دنیا میں متعارف کروارہے تھے وہاں کھیل کے میدان آباد ہو نے سے ہسپتال ویران ہورہے ہیں۔ صحت مند سرگرمیوں سے ہی صحت مند سوچ جنم لیتی ہے، انہوں نے کہا کہ ہسپتال کے اندر جس طرح کادھاوا بولا گیا میڈیا نے اپنی آنکھ میں محفوظ کر لیا ہے ، کالا کوٹ قانون کی بالادستی اور حکمرانی کی پاسداری کرتا ہے ، قانون کے رکھوالے سسکتی ،تڑپتی انسانیت پر چڑھ دوڑے ،پوری قوم نے دیکھا کہ کس طرح ڈاکٹروں کو یرغمال ،پیرامیڈیکل سٹاف کے ساتھ بدتمیزی ،ہسپتال میں موجود دل کے مریضوں اور لواحقین کی دل آزاری کی گئی اور پولیس کے ساتھ گتھم گتھا ہو کر جس انداز سے قانون کو اپنے پائوں کے نیچے روندا گیا یہ قابل مذمت اور قابل افسوس ہے ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے فی الفور اس واقعہ کی انکوائری کا حکم دیا ہے ،وزیراعلی پنجاب اور چیف سیکرٹری کو واضح ہدایات دی ہیں کہ ذمہ داران کے تعین کے ساتھ حقائق پر مبنی رپورٹ پیش کریں ۔وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بار کونسل اور وکلاء تنظیموں سے اپیل کہ وہ اپنی صفوں میں چھپی کالی بھیڑوں کو بے نقاب کریں ،حالت جنگ میں بھی ہسپتال پر بمباری یا حملے نہیں کیے جاتے ، یہ کیسا رویہ اورانتہا پسندانہ سوچ کا عملی نمونہ اور مظاہرہ ہے کہ انتہائی نگہداشت میں مریض جو زندگی و موت کی کشمکش میں تھے، ان کے سامنے تشدد پر مبنی رویہ ،مار پیٹ ،گالم گلوچ ،قانون کو اپنے ہاتھ میں لیکر پولییس کو للکارتے رہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے فیصلہ کیا ہے کہ اگلے 24گھنٹوں میں رپورٹ جمع کرائی جائے ، قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا،کوئی کتنا طاقتور ہے جو بھی اس افسوسناک عمل میں حصہ دار ٹھہرے گا اسے کڑی سزا دی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر اطلاعات کو مخصوص سوچ کے حامل وکلاء نے زدوکوب کرکے ثابت کر دیا ہے کہ کالے کوٹ میں بھی کالی بھیڑیں گھسی ہوئی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میرا یقین ہے کہ پڑھا لکھا شخص جو قانون دان ہے وہ قانون کا اسطرح کھلے عام مذاق نہیں اڑا سکتا،فیاض الحسن چوہان کو کالا کوٹ پہن کر گلو بٹوں نے تشدد کا نشانہ بنایا ہے ۔انہوں نے کہا کہ زدو کوب کرنے والے ،ڈاکٹروں کے ساتھ بدتمیزی کرنے، پولیس کی گاڑی کو آگ لگانے والے یقینا وکلاء نہیں ہوسکتے ،وکلاء کے اندر موجود کالی بھیڑیں ہوسکتی ہیں ،ن لیگ کا وہ مائنڈ سیٹ جس نے کچہری میں وکلاء کو کالا کوٹ پہنا کر کالے کوٹ کی حرمت پامال کرنے کی کوشش کی ہے وہ بے نقاب ہو جائے گا ۔انہوں نے کہا کل انسانی حقوق کا عالمی دن منایا گیا ،اس دن کے موقع پر اظہار رائے کی آزادی کی بات دنیا میں ہورہی تھی ،پوری دنیا انسانی حقوق کی فراہمی کے لئے پسے ہوئے مظلوم انسان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دے رہی تھی لیکن بھارتی مقبوضہ کشمیر کے اندر نہتے کشمیریوں کو وہ حق دستیاب نہیں ،نہتے اور مظلوم کشمیریوں کومیڈیا سے بات کرنے ،آپس میں ملنے اور بات کرنے، انسانی ،مذہبی حقوق سمیت ان تمام حقوق سے محروم ہیں جو انسان کو زندہ رہنے کے لئے ضرورت ہوتے ہیں ۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں مظلوم کشمیریوں کو بنیادی حقوق دلانے کے لئے ہر مورچے میں ان کا موقف بیان کرکے دنیا کا ضمیر جھنجوڑتے رہیں گے ۔انہوں نے کہا کہ کل ایک کلین مین پارلیمنٹ اپنی صفائیاں دینے میں نڈھال نظر آیا ،آڈٹ رپورٹ نے ایل این جی درآمد بارے حقیقی چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے ، 108ارب کی بے قاعدگیوں نے اس عمل کی نفی کر دی گئی ہے کہ ان کو کسی سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے ،ساڑھے چار ارب سوئی گیس کے صارفین پر جو اضافی بوجھ ڈالا گیا ہے اورمہنگی گیس خریدنے مجبور ہیں اس کے پس پردہ بھی وہی کٹھ پتلی وزیراعظم ہیں ،جب شکنجہ گردن کے قریب آتا ہے تو ان کی آہ و بکا تیز ہوجاتی ہے، نیب کے اندر جو کیس چل رہا ہے اس امر کی واضح دلیل ہے کہ جو اپنے آپ کو بے گناہ کہنے والے ہیں ان کا دامن داغدار ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آصف زرداری نے طبی بنیادوں پر درخواست دی ،طبی بنیادوں پر ضمانت دینا عدالت کا اختیار ہے ،صحت کی صوتحارل دیکھتے ہوئے اجازت دی ہے ،نیب مدعی ہے ،اس کی اپیل کے حوالے سے ان کو فیصلہ کرنا ہے طبی بنیادوں پر عدالت ضمانت دیتی ہے ،حقائق اور صحت کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت دیکھے گی کہ ان کی پھرتیاں اسی طرح جاری رہتی ہیں یا سنجیدہ بیمار ہیں، یہ حقائق ثابت کرینگے ، ہم پرامید ہیں کہ جس مقصد کے لئے ضمانت لی گئی اسی پر توجہ دیں گے ،علاج معالجہ ہر قیدی کا بنیادی حق ہے ،حکومت نے اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈ الی لیکن اس پر نیب کیا ردعمل طے کر تی ہے وہ اسکا اپنا اختیار ہے۔تقریب میں اے پی پی ایمپلائز یونین کے صدر شہزاد علی اکبر نے یونین کی کارکردگی سے آگاہ کیا ۔








