اسلام آباد ۔ 17 دسمبر (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت آر ایس ایس کے ایجنڈے پر گامزن ہے، بھارت کا ایک سیکولر اور ڈیموکریٹک ریاست کا امیج آج دفن ہو گیا ہے، ہندو راشٹرا اور ہندوتوا کی سوچ کو نافذ کیا جا رہا ہے،اب جو سٹیزن ترمیمی ایکٹ منظور کیا گیا ہے اس میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف امتیازی …
بھارتی حکومت آر ایس ایس کے ایجنڈے پر گامزن، بھارت کا سیکولر اور جمہوری ریاست کا امیج دفن ہو گیا ہے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی میڈیا سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 17 دسمبر (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت آر ایس ایس کے ایجنڈے پر گامزن ہے، بھارت کا ایک سیکولر اور ڈیموکریٹک ریاست کا امیج آج دفن ہو گیا ہے، ہندو راشٹرا اور ہندوتوا کی سوچ کو نافذ کیا جا رہا ہے،اب جو سٹیزن ترمیمی ایکٹ منظور کیا گیا ہے اس میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک برتا گیا ہے اور اس کے خلاف پوری بھارتی اپوزیشن احتجاج کر رہی ہے جبکہ ملک بھر میں مظاہرے بھی ہو رہے ہیں، مذہبی آزادی پر کام کرنے والی تنظیمیں بھی اس امتیازی قانون کے خلاف اعتراضات اٹھائیں۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے منگل کو میڈیا سے گفتگو کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کچھ عرصے سے دنیا کو باور کرا رہا تھا کہ بھارتی سرکار آر ایس ایس کے ایجنڈے پر گامزن ہے، بھارت کا ایک سیکولر اور جمہوری ریاست کا امیج آج دفن ہو گیا ہے، ہندو راشٹرا اور ہندوتوا کی سوچ کو نافذ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 5 ا گست کو جب بھارت نے غیر قانونی طریقے سے مقبوضہ کشمیر کو اپنے ساتھ ملحق کیا تو پاکستان نے پوری دنیا میں اس غیر قانونی اقدام کے خلاف آواز اٹھائی، بہت سے لوگوں نے اس پر توجہ دی اور بہت سے لوگوں نے مصلحت کے تحت خاموشی اختیار کی وہ آغاز تھا، اس کے بعد بابری مسجد کا فیصلہ آیا جس نے بھارت کے مسلمانوں کو چونکا دیا اور بھارتی عدلیہ کی جانبداری پر بھی لوگ ششدر رہ گئے، اس کے بعد این آر سی کا اقدام سامنے آیا جس نے بیس لاکھ لوگوں کو سٹیٹ لیس کر دیا اور اب جو سٹیزن ترمیمی ایکٹ منظور کیا گیا ہے اس میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک برتا گیا ہے اور اس کے خلاف پوری اپوزیشن احتجاج کر رہی ہے جبکہ بھارت بھر میں مظاہرے بھی ہو رہے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارتی حکومت پر امن احتجاج کرنے والوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے، جس طرح علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلباء پر تشدد کیا گیا اور جس طرح جامعہ ملیہ کی بچیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا وہ دنیا کے سامنے ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میں اراکین پارلیمنٹ کا انتہائی شکرگزار ہوں کہ کل جب میں نے یہ ایشو پارلیمنٹ میں اٹھایا تو تمام اراکین نے میرا ساتھ دیا اور متفقہ طور پر ہم اس امتیازی قانون کے خلاف قرارداد منظور کروانے میں کامیاب ہوئے ۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اس امتیازی قانون کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھانے گا، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ نیا قانون امتیازی ہے لہذا بھارت کو فی الفور اسے واپس لینا چاہیے ، مذہبی آزادی پر کام کرنے والی تنظیموں نے بھی اس امتیازی قانون کے خلاف اعتراضات اٹھائے ہیں۔انھوں نے کہا کہ پرامن احتجاج جمہوری اور بنیادی حق ہے








