نیویارک ۔ 17 دسمبر (اے پی پی) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹرش نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی برادری کے پاس خانہ جنگی کا شکار شام کو انسانی بنیادوں پر بذریعہ بحری جہاز امداد بھیجنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا ۔ رپورٹ کے مطابق امداد پہنچانے کے لئے سرحدوں اور اگلے مورچوں سے گزرنا پڑے گا کیونکہ اس کے علاوہ متاثرین تک پہنچنے کا …
شامی متاثرین کو بحری راستے سے امداد بھیجنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ

مزید خبریں
نیویارک ۔ 17 دسمبر (اے پی پی) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹرش نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی برادری کے پاس خانہ جنگی کا شکار شام کو انسانی بنیادوں پر بذریعہ بحری جہاز امداد بھیجنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا ۔ رپورٹ کے مطابق امداد پہنچانے کے لئے سرحدوں اور اگلے مورچوں سے گزرنا پڑے گا کیونکہ اس کے علاوہ متاثرین تک پہنچنے کا کوئی متبادل موجود نہیں ۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اقوام متحدہ کے ادارے ہر ماہ 43 لاکھ شہریوں کو خوراک جبکہ 13 لاکھ سے زائد افراد کو صحت کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں ۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہناہے کہ 2019 ءمیں شام کی مجموعی صورتحال مزید خراب ہوئی ہے اور سرکاری کنٹرول سے باہر30 لاکھ آبادی والے علاقے ادلب کو جنگی حالات سے نکالنے کے لئے بہت کچھ کرنا ہو گا ۔ سلامتی کونسل ان دنوں اس معاملے پر بحث کر رہی ہے ۔ جرمنی ، بیلجیئم اور کویت نے سلامتی کونسل میں قرارداد جمع کرائی ہے جس میں ترک سرحد سے ملحقہ پانچواں کراسنگ پوائنٹ کھولنے اور امداد ی مشن میں ایک سال کی توسیع کی تجویز پیش کی گئی ہے ۔ ایک سفارتکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ قرارداد کو روکنا کسی کے مفاد میں نہیں ہو گا۔ واضح رہے کہ شام میں عالمی امداد کے لئے ترکی سے دو جبکہ اردن اور عراق سے ایک ایک راستہ استعمال کیا جا رہا ہے ۔








