وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور اٹارنی جنرل انور منصور خان کی پریس کانفرنس

اسلام آباد ۔ 17 دسمبر (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا ہے کہ افواج پاکستان نے ملکی دفاع اور قومی سلامتی کے پلیٹ فارم پر لازوال قربانیاں دی ہیں، اپنے لہو سے ملک میں امن کے دیئے روشن کئے، افواج پاکستان کا حوصلہ بلند رکھنا قومی فریضہ ہے، خصوصی عدالت کے فیصلے پر …

اسلام آباد ۔ 17 دسمبر (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا ہے کہ افواج پاکستان نے ملکی دفاع اور قومی سلامتی کے پلیٹ فارم پر لازوال قربانیاں دی ہیں، اپنے لہو سے ملک میں امن کے دیئے روشن کئے، افواج پاکستان کا حوصلہ بلند رکھنا قومی فریضہ ہے، خصوصی عدالت کے فیصلے پر جشن منانے والے اسی پرویز مشرف سے حلف لے چکے ہیں، عسکری قیادت نے جمہوری استحکام کے لئے بھرپور معاونت کی، دفاع اور قومی سلامتی کے اداروں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے، اظہار رائے کی آزادی بنیادی حق ہے تاہم اس حق کے استعمال کے دوران دھرتی ماں کے حق پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے، اداروں کو کمزور کرنے کی کسی سازش کا حصہ نہیں بننا چاہیے، پرویز مشرف کو آرٹیکل 10 کے تحت شفاف ٹرائل کا بنیادی حق نہیں دیا گیا، اٹھارویں ترمیم میں آرٹیکل 90 میں ترمیم کی گئی جس کے بعد شکایت کنندہ کو کابینہ سے منظوری لینی لازمی تھی تاہم پرویز مشرف کے خلاف شکایت کنندہ نے کابینہ سے درخواست دائر کرنے کی منظوری نہیں لی، تحریک انصاف بلا امتیاز اور شفاف انصاف کی فراہمی کی حامی ہے، ہم کسی کا دفاع نہیں کر رہے، اگر کسی نے قانون شکنی کی ہے تو اسے سزا ملنی چاہیے۔ منگل کو یہاں پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ عسکری قیادت اور حکومت قومی مفاد کے لئے ہر محاذ پر آگے بڑھتے ہوئے داخلی اور خارجی محاذ پر قابو پانے میں کامیاب ہوئی ہے، معیشت کے مثبت اشاریئے، پاکستان کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی، تمام عالمی اداروں کی جانب سے مثبت اعشاریوں کی تعریف اس بات کی نشاندہی ہے کہ عمران خان اور عسکری قیادت نے مل کر معیشت کے استحکام کے لئے کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان نے ملکی، دفاعی اور قومی سلامتی کے پلیٹ فارم پر لازوال قربانیاں دی ہیں، ان قربانیوں میں سب سے اہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانوں کے نذرانے پیش کر کے بہادر جوانوں، افسروں نے اپنے لہو سے امن کے لئے دیئے روشن کئے۔ انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان اور عسکری اداروں میں کام کرنے والے فوجی جوانوں جو سیاچن، بھارت کے خلاف محاذ جنگ پر، لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باﺅنڈری پر ہمارے بہادر جوان دشمن کے دانت کھٹے کرنے میں مصروف ہیں، ایسے حالات میں ان کے عزائم بلند کرنا ہمارا قومی فریضہ ہے،ایسی صورتحال میں جب داخلی اور خارجی محاذ پر پاکستان کامیابیاں سمیٹ رہا ہے۔ ایک نیا پاکستان جو انصاف سب کے لئے کی بات کرتا ہے۔ انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے عمران خان کی جدوجہد دو نہیں ایک پاکستان کی ہے، ایسی صورتحال میں ایسا فیصلہ ٹی وی سکرینز پر نظر آیا۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلہ کے بعد جو لوگ جشن منا رہے ہیں، یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے 2008ءمیں اس پرویز مشرف سے حلف لیا تھا۔ یہ اپنی سیاسی تسکین کے لئے جس انداز میں اس فیصلے کی تشریح کر رہے ہیں، ان کا بیانیہ قومی بیانیہ سے کسی طور پر مطابقت نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر دیا جا رہا کہ فوج ایسا ادارہ ہے جو قومی مفاد سے لاتعلق پلیٹ فارم ہے، یہ پہلی دفعہ ہے کہ افواج پاکستان نے جس انداز میں جمہوری حکومت کی حمایت کی ہے، جمہوریت کی آبیاری کی ہے، افواج پاکستان کے جمہوری رویئے پروان چڑھے ہیں، کچھ سیاسی نادان دوست ادارے کی تضحیک میں مصروف ہیں، کسی فرد واحد کو ٹارگٹ کرتے کرتے اس سے آگے بڑھ کر ادارے کی ساکھ پر حملہ آور ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے قانونی پہلوﺅں پر اٹارنی جنرل روشنی ڈالیں گے، ہم سب سے پہلے پاکستان ہیں پھر کوئی اور ہماری شناخت ہے جس طرح دفاع اور قومی سلامتی کے اداروں کو نشانہ بنا کر الزام تراشی کی جا رہی ہے اس سے ہماری اپنی سلامتی داﺅ پر لگ رہی ہے، پاکستان کے مخالف اس پر بغلیں بجا رہے ہیں، پاکستان مخالف قوتیں اس قسم کی تقسیم کے بیانیئے کو پاکستان کی کمزوری تصور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اظہار رائے کی آزادی بنیادی حق ہے تاہم اس حق کے استعمال کے دوران دھرتی ماں کے حق پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے، ادارے ہماری طاقت ہیں، ہم نے اپنے اداروں کو کمزور کرنے کی سازشوں کا حصہ نہیں بننا۔ اٹارنی جنرل انور منصور نے کہا کہ آج ایک فیصلہ سنایا گیا جس میں غیر حاضر جنرل پرویز مشرف کو سزائے موت دی گئی، میں کسی شخص کے حق میں بات نہیں بلکہ قانونی پہلوﺅں پر بات کروں گا، جب یہ کیس شروع ہوا تو سپریم کورٹ کے احکامات پر یہ اقدام آرٹیکل 6 شروع کیا گیا، اس کے بعد ایک خصوصی عدالت قائم کی گئی، سیکرٹری داخلہ نے ایک شکایت داخل کی کہ پرویز مشرف نے آئین کی خلاف ورزی کی، یہ آرٹیکل 6 کے زمرے میں آتی ہے، اس لئے غداری کا مقدمہ قائم کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ پرویز مشرف نے یہاں رہتے ہوئے اپنے اوپر چارج سنا، کچھ درخواستیں بھی دیں کہ دیگر لوگوں کو بھی فریق بنایا جائے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کے بعد شکایت کنندہ کے پاس اتھارٹی ہی نہیں، اٹھارویں ترمیم کے بعد وہ اتھارٹی ختم ہو گئی۔ آرٹیکل 90 میں ترمیم کر دی گئی جس کے بعد شکایت کنندہ کو کابینہ نے اتھارٹی دینا تھی تاہم سیکرٹری داخلہ کو درخواست دیتے وقت کابینہ نے اس کی اتھارٹی نہیں دی تھی اس لئے وہ شکایت نہیں کر سکتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ چارج کے بعد پرویز مشرف علیل ہو گئے اور وہ ملک سے باہر چلے گئے، وہ آج آئی سی یو میں ہیں جب یہ علم ہے کہ فرد یہاں موجود نہیں اور وہ آئی سی یو میں ہے تو پھر کیا اس قسم کا فیصلہ ایسا وقت میں دیا جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ غیر حاضری میں ٹرائل معمول کی چیز نہیں ہے، مشرف کو اپنی گواہی پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا، فیئر ٹرائل ہر شخص کا بنیادی حق ہے لیکن انہیں یہ حق نہیں دیا گیا، پرویز مشرف کو 342 کا بیان قلمبند کرانے کی مہلت نہیں دی گئی۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ صرف فیئر ٹرائل ہونا نہیں بلکہ نظر بھی آنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپنی ٹیم تبدیل کی تو عدالت نے اس پر برہمی کا اظہار کیا، برطرف شدہ ٹیم کی جمع کرائی گئی تفصیلات پر فیصلہ دیا گیا، خصوصی عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو دلائل سے روک دیا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے عدالت کے کہنے پر وکلاءکی ٹیم تشکیل دی جنہوں نے دلائل دینے سے قبل اس کیس کو سٹڈی کرنے کے لئے وقت مانگا تاہم عدالت نے وقت نہیں دیا اس کے بعد فیصلہ محفوظ کر دیا گیا جو آج سنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جو فیصلہ سنایا گیا وہ کسی کو نہیں ملا، میں نے استدعا کی تو کہا گیا کہ 48 گھنٹے بعد فیصلے کی کاپی ملے گی جبکہ شارٹ آرڈر فوری دیا جاتا ہے، اس میں کیا قباحت تھی یہ سمجھ نہیں آئی، استغاثہ ٹیم کی تبدیلی کی اجازت نہیں دی گئی۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب خصوصی عدالت میں کہا گیا کہ جنرل مشرف کا بیان ریکارڈ کیا جائے تاہم ایسا نہیں کیا گیا، ویڈیو لنک پر سپریم کورٹ میں مقدمات سنے جا رہے ہیں، مشرف کا بیان ویڈیو لنک پر لینے کی بات کی گئی، تاہم یہ نہیں لیا گیا، اس سے قبل ویڈیو لنک پر کئی بار بیان لئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن بھجوا کر بیان ریکارڈ کرنے کی بات کی گئی تو اس سے بھی انکار کر دیا گیا جبکہ گواہ پیش بھی نہ کئے جا سکے، چوہدری شجاعت نے کہا کہ مجھے پارٹی بنایا جائے اس کی بھی اجازت نہیں دی گئی، کئی بیورو کریٹس اور جنرلز کو بھی فریق بننے سے روک دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ کوئی سازش تھی تو یہ کام کوئی اکیلا نہیں کر سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر دیگر اتحادی اس میں شامل نہیں کئے گئے تو یہ ایک فرد کے خلاف کارروائی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس حکومت کا نظریہ ہے کہ ہر شخص کو انصاف ملنا چاہیے، حکومت کا یہ عزم ہے کہ وہ انصاف کے ساتھ کھڑی ہو گی۔ ایک سوال کے جواب میں فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیراعظم پہلے بھی قانون کی حکمرانی کے حق میں تھے، اب بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے تحفظات یہ ہیں کہ اس کیس میں انصاف کے تقاضے پورے اور انصاف ہوتا نظر آنا چاہیے، قانون کی حکمرانی تحریک انصاف کا منشور ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر کوئی شک قصور وار ہے تو اسے سزا ضرور ملنی چاہیے مگر یہاں فیئر ٹرائل نظر نہیں آتا، ایک قاتل کو دنیا دیکھتی ہے لیکن اس کو ٹرائل کا مکمل حق ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کیس کے حوالے سے کہا گیا کہ اس میں تاخیر کی گئی ہے تو یہ کوئی واحد کیس نہیں جس میں تاخیر ہوئی، ہماری عدالتوں میں فوجداری مقدمات بھی 12 سے 18 سال تک التواءمیں رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشرف کے کیس میں تاخیر کی وجہ مختلف درخواستیں تھیں جبکہ سماعت کے دوران بینچ بدلتے رہے، اب تاخیر کو جواز بنا کر عجلت میں فیصلہ سنایا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ پرویز مشرف کیس میں میں نے معاونت نہیں کی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب تک فیصلے کی کاپی موصول نہیں ہوتی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ حکومت آگے کیا فیصلہ کرے گی، میں کسی فرد کا نہیں بلکہ قانون کا دفاع کروں گا۔