اسلام آباد ۔ یکم جنوری (اے پی پی) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے پاک چین کسٹمز اشیاء پروٹوکول کا ایس آر او جاری کر دیا ہے جس کے تحت پاکستان اور چین کے درمیان کسٹمز اشیاءکے ضمن میں پروٹوکول پر عمل درآمد کیا جائے گا، ایس آر او کے اجراءکے بعد چین اور پاکستان کے درمیان آزادانہ تجارت معاہدہ کے فیز ٹوکا آغاز یکم جنوری 2020ءسے ہو …
پاک چین کسٹمز اشیاءپروٹوکول کا ایس آر او جاری، دونوں ملکوں کے درمیان آزادانہ تجارت معاہدہ کے فیز ٹوکا آغاز ہو گیا، ترجمان ایف بی آر

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ یکم جنوری (اے پی پی) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے پاک چین کسٹمز اشیاء پروٹوکول کا ایس آر او جاری کر دیا ہے جس کے تحت پاکستان اور چین کے درمیان کسٹمز اشیاءکے ضمن میں پروٹوکول پر عمل درآمد کیا جائے گا، ایس آر او کے اجراءکے بعد چین اور پاکستان کے درمیان آزادانہ تجارت معاہدہ کے فیز ٹوکا آغاز یکم جنوری 2020ءسے ہو گیا ہے ۔ ترجمان ایف بی آر کے مطابق ایف بی آر نے وزارت تجارت سے مشاورت کے بعد ٹیرف لسٹ شیڈول میں تبدیلی کے بعد ایس آر او تیار کیا ہے۔ اس ایس آر او کے اجراء کے بعد چین اور پاکستان کے درمیان آزاد تجارت کے معاہدہ کے فیز ٹوکا آغاز یکم جنوری 2020ءسے ہو گیا اور نئے ایس آر او کے اجراءکے بعد پرانا ایس آر او 30 جون 2007ءنافذالعمل نہیں رہا۔ نئے ایس آر او کے مطابق A0کیٹیگری میں درج 3251 ٹیرف لائنز پر کسٹمز ڈیوٹی مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے اور یکم جنوری 2020ءسے ان اشیاء پر کوئی کسٹمز ڈیوٹی عائد نہیں ہو گی۔ کیٹیگریA7 میں شامل اشیاء پر کسٹمز ڈیوٹی کو دو سال سے سات سال تک بتدریج کم کرتے ہوئے ختم کر دیا جائے گا۔ کیٹیگری A15 میں کسٹمز ڈیوٹی کو چار سال سے پندرہ سال تک بتدریج کم کرتے ہوئے ختم کر دیا جائے گا۔ مارجن آف پریفرینس میں دو کیٹیگریز شامل ہیں۔ ایم او پی ون کیٹیگری میں کسٹمز ڈیوٹی کو پروٹوکول کے نافذالعمل ہونے کے ساتھ ہی بنیادی شرح سے 20 فیصد کم کر دیا جائے گا۔ایم او پی ٹو کیٹیگری میں شامل اشیاءپر ڈیوٹی کی شرح کو دو سال کے عرصہ میں بنیادی شرح سے بیس فیصد کم کر دیا جائے گا۔ کیٹیگری C1 میں درج اشیاء پر ڈیوٹی کی شرح بنیادی شرح کے مطابق ہی رہے گی اور کیٹیگری C2 میں درج اشیاءپر کسٹمز ڈیوٹی پر کوئی رعایت نہیں ہو گی۔








