موہنجو داڑو کی کھْدائی کو 2020 میں ایک سو سال مکمل ہو گئے

اسلام آباد ۔ 4 جنوری (اے پی پی)وادی سندھ کی تہذیب کے ڈھائی ہزار سال قبل مسیح میں بسنے والے شہر موہنجو داڑو کی کھْدائی کو 2020 میں ایک سو سال مکمل ہو گئے ہیں۔ نجی ٹیلی ویژن کے مطابق 1920 میں ماہر آثار قدیمہ آر ڈی بینرجی نے خیال پیش کیا تھا کہ موہنجو داڑو کے مقام پر ممکنہ طور پربدھا کا مجسمہ ہوسکتا ہے اور ابتدائی کھْدائی کے …

اسلام آباد ۔ 4 جنوری (اے پی پی)وادی سندھ کی تہذیب کے ڈھائی ہزار سال قبل مسیح میں بسنے والے شہر موہنجو داڑو کی کھْدائی کو 2020 میں ایک سو سال مکمل ہو گئے ہیں۔ نجی ٹیلی ویژن کے مطابق 1920 میں ماہر آثار قدیمہ آر ڈی بینرجی نے خیال پیش کیا تھا کہ موہنجو داڑو کے مقام پر ممکنہ طور پربدھا کا مجسمہ ہوسکتا ہے اور ابتدائی کھْدائی کے دوران انہیں چقماک پتھر کی کھرچنی اور کچھ دیگر چیزیں ملی تھیں۔ بعد میں 1922 میں سر جان مارشل نے ان کی اس دریافت کی تصدیق کی اور 1924 میں باضابطہ کھْدائی کا آغاز کیا جس میں بڑے پیمانے پر کھْدائی کا آغاز 1930 کی دہائی میں ہوا۔ صوبائی وزیر ثقافت، سیاحت و نوادرات سید سردار علی شاہ نے میڈیا کو بتایا کہ موہنجو داڑو کی کھْدائی کے کام کو 2020 میں ایک سو سال مکمل ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وادی سندھ کی تہذیب کے عظیم شہر پر بہت کام ہوا ہے مگر اب بھی کافی کام باقی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 9 سے 11 جنوری تک تین روزہ عالمی کانفرنس موہنجو داڑو پر منعقد ہو رہی ہے جس میں فرانس، امریکہ، جاپان، جرمنی، اٹلی، ڈنمارک اور دیگر ممالک کے ماہرین آثار قدیمہ شرکت کر رہے ہیں۔