اسلام آباد ۔ 14 جنوری (اے پی پی) وفاقی کابینہ نے 2020کو روزگار کا سال قرار دیتے ہوئے مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کومنظور شدہ ایک لاکھ 29ہزار آسامیوں کے لئے ریکروٹمنٹ رولز کے عمل کو آئندہ 60 دنوں میں مکمل کرنے منظوری دیدی، مردم شماری 2017کے مطابقوفاقی ملازمتوں میں فاٹا اور گلگت بلتستان کے چار فیصد کو علیحدہ کرنے، وزارت قومی صحت و خدمات کا نام تبدیل کر کے وزارت …
وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی میڈیا کو بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 14 جنوری (اے پی پی) وفاقی کابینہ نے 2020کو روزگار کا سال قرار دیتے ہوئے مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کومنظور شدہ ایک لاکھ 29ہزار آسامیوں کے لئے ریکروٹمنٹ رولز کے عمل کو آئندہ 60 دنوں میں مکمل کرنے منظوری دیدی، مردم شماری 2017کے مطابقوفاقی ملازمتوں میں فاٹا اور گلگت بلتستان کے چار فیصد کو علیحدہ کرنے، وزارت قومی صحت و خدمات کا نام تبدیل کر کے وزارت صحت و آبادی کرنے ، پاکستان اور سعودی عرب کے مابین ترمیم شدہ ائیر سروسز کے معاہدے جبکہ رئیر ایڈمرل ذکاءالرحمان کو ڈائریکٹر جنرل پاکستان میری ٹائم سیکورٹی ایجینسی، بریگیڈئیر ضیاءعابد باجوہ کو ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا میں ممبر پروڈوکشن اور سردار عبدالمجید خان کو وفاقی محتسب سیکرٹریٹ ریجنل آفس کراچی میں ممبر تقرری کی منظوری بھی دی ہے،وزارت داخلہ نے نادرا میں خواتین کے شناختی کارڈ کے لئے جمعہ کا دن مقرر کر دیا ،کال سرزمین ایپلی کیشن سے اوورسیز پاکستان ہر طرح کی معلومات حاصل کرسکیں گے ، عام شہریوں کی پارلیمانی کارروائی دیکھنے کے لئے پارلیمنٹ میں عام آدمی گیلری قائم کر دی گئی ہے ، وزیراعظم نے مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں میں قواعد و ضوابط بنانے کی ایک لاکھ 6ہزار 343 کیسز زیر التوا اور3ہزار گاڑیوں سمیت تین کروڑ 70لاکھ اشیاءکو ناقابل استعمال قرار دینے کے باوجود تلف نہ کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے 60دنوں میں جامع حکمت عملی مرتب کرنے کی ہدایت دیدی، وزیراعظم نے انصاف صحت کارڈ پروگرام تک پسے ہوئے نادار لوگوں کی رسائی کے لئے تمام رکاوٹیں دور کرنے کی ہدایت دی۔ منگل کو وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کابینہ کو مختلف وزارتوں کی جانب سے عوامی فلاح و بہبود کے ضمن میں نشاندہی کیے جانے والے نئے اقدامات پر عمل درآمد کی رپورٹ پیش کی گئی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ اب تک مختلف وزارتوں کی جانب سے 79 نئے اقدامات کی نشاندہی کی گئی۔ ان میں سے 41 پرعمل درآمد کیا جا چکا ہے۔ 36پر عمل درآمد جاری ہے۔ جب کہ دو اقدامات کے حوالے سے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کی گئی کیونکہ وہ قانون یا نظام پہلے ہی موجود ہے۔ ان میں بچوں کے استحصال کی روک تھام کے حوالے سے نئی قانون سازی کی تجویز تھی اور کاروباری اداروں کے حوالے سے کارپوریٹ سوشل ریسپانسبیلٹی کو لازمی بنانے کے حوالے سے تجاویز دی گئی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ کو اب تک عمل درآمد کیے جانے والے اقدامات کی تفصیلات پیش کی گئیں۔ جن اقدامات پر عمل درآمد ہو چکا ہے وہ درج ذیل ہیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات ان کے خاندانو ں کو بغیر کسی معاوضہ پہنچائی جا رہی ہیں۔ کمیونیکیشن ڈویژن کی جانب سے موٹر ویز پر معذور افراد کو سہولت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزارتِ انسانی حقوق کی جانب سے بچوں کے استحصال کی روک تھام کے لئے آگاہی مہم شروع کی جا چکی ہے۔ وزارتِ انسانی حقوق کی جانب سے بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے آگاہی مہم کا بھی آغاز کر دیا گیا ہے۔ نادرا کی جانب سے جمعہ کا دن خواتین کے لئے مختص کر دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ وزیرِ اعظم کی معاونِ خصوصی برائے سماجی تحفظ کی جانب سے شفاف گورننس کے حوالے سے پالیسی تمام متعلقین کو فراہم کر دی گئی ہے۔ وزارتِ توانائی کی جانب سے صارفین کی شکایات کے تدارک کے لئے ٹول فری نمبر مہیا کر دیا گیا ہے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ ایک سے چار گریڈ کے ملازمین کی بھرتیوں کے لیے نظام وضع کر دیا گیا ہے۔ وزارتِ ہوابازی کی جانب سے موسم کی معلومات کے لئے موبائل ایپلی کیشن کا اجراءکر دیا گیا ہے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ وزارتِ صحت کی جانب سے ہسپتالوں کی او پی ڈی میں کیو (ٹوکن) سسٹم متعارف کرایاجا رہا ہے۔ وزارتِ اقتصادی امور کی جانب سے پانی کی ترسیل کے لئے جیکا کی مدد سے پائلٹ پراجیکٹ پر عمل درآمد کیا جا چکا ہے۔ وزارتِ اوورسیز پاکستانیز کی جانب سے ”کال سرزمین“ موبائل ایپلی کیشن کا اجراءکر دیا گیا ہے۔ وزارتِ انفامیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے بچوں کے لئے سمارٹ ہیلمٹ متعارف کرائے گئے ہیں۔ قومی اسمبلی اور سینٹ میں عام آدمی کی گیلری بنائی گئی ہے۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ تمام ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین کے پنشن کاغذات ایک ہفتے میں مکمل کرنے کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ اوورسیز منسٹری کی جانب سے سعودی عرب سے رہا ہونے والے قیدیوں کے ڈیٹا کی تشہیر کی گئی ہے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ متروکہ اور وقف املاک کا تمام ڈیٹا مرتب کیا جا رہا ہے۔ پٹرول پمپس پر کام کرنے والے ملازمین کو دستانے اور ماسک کی فراہمی کا عمل بھی جاری ہے۔ وزارتِ مواصلات اور پوسٹل سروسز کی جانب سے نوجوانوں کے لئے منصوبہ بندی کی گئی ہے تاکہ انکو انگیج کرتے ہوئے انکی توانائیوں کو مثبت انداز میں استعمال کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ وزارتِ اطلاعات کی جانب سے غلط اور بے بنیاد خبروں کے تدارک کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ جس میں ای لیٹر کا اجراءبھی شامل ہے۔ وزارتِ خزانہ میں معیشت کے حوالے سے خبروں پر نظر رکھنے اور معلومات کی فراہمی کے لئے ایک مخصوص سیل قائم کر دیا گیا ہے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ ضلعوں میں کام کرنے والے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پولیس سروس کے گریڈ سترہ اور اٹھارہ کے افسروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے متعلقہ علاقوں میں عوامی فلاح و بہبود کا کم از کم ایک منصوبہ شروع کریں جو دیرپا ہو۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ پاکستان ٹیلی ویژن کی جانب سے موسم کی معلومات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ وزارتِ انسانی حقوق کی جانب سے بتایا گیا کہ تیسری جنس کے حقوق کے تحفظ کے لئے پولیس کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ نوجوان نسل کو نشے اور منشیات کی عفریت سے محفوظ رکھنے کے لئے زندگی اپلیکیشن کا اجراءکر دیا گیا ہے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ کلاس فور کی نوکریوں کی درخواست کے لئے پانچ سو فیس ختم کر دی گئی ہے۔ وزارتِ ہوابازی کی جانب سے بتایا گیا کہ ایئرپورٹ پر اسلحوں کی نمائش کی روک تھام کے لئے اے ایس ایف کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ ہوا بازی ڈویژن کی جانب سے بتایا گیا کہ موسم کی صورتحال پر نظر رکھنے کے لئے ویدر اسٹوڈیو قائم کر دیا گیا ہے۔ پاور ڈویژن کی جانب سے بتایا گیا کہ موسم سرما میں کم نرخوں پر بجلی کی فراہمی کے لئے عمل جاری ہے اور اس سلسلے میں اشتہار دیا جا چکا ہے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ ایس ڈی جیز کے تحت ترقیاتی کاموں کے لئے فنڈز کا اجراءکر دیا گیا ہے۔ وزارتِ اوورسیز کی جانب سے بتایا گیا کہ تمام او پی ایف اداروں میں معذور افراد کے لئے تین فیصد کوٹے پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے، اس کے علاوہ معذور افراد کو مفت وہیل چیئرز فراہم کی جا رہی ہیں، بھرتیوں میں معذور افراد کے کوٹے پر مکمل عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ پاکستان ریلویز کی جانب سے بتایا گیا کہ 65سال سے زائد عمر کے بزرگ شہریوں کو کرایوں میں پچاس فیصد جبکہ 75سال کی عمر کے افراد کو 100فیصد رعایت دی جا رہی ہے۔ وزارت ہوابازی کی جانب سے بتایا گیا کہ پی آئی اے میں ای-کمپلینٹ منیجمنٹ سسٹم متعارف کرا دیا گیا ہے۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات نے بتایا کہ گمشدہ بچوں کی برآمدگی کے لئے "میرا بچہ”اپلیکیشن متعارف کرا دی گئی ہے۔ بچوں کے تحفظ کے لئے حکومتی کاوشوں کو مزید مستحکم کرنے بارے نیشنل چائلڈ پروٹیکشن کمیٹیاں تشکیل دی جا چکی ہیں۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ احساس پروگرام کے تحت ہر تحصیل میں نادرا کے اشتراک سے ”احساس سنٹر“کھولے جا رہے ہیں ۔ تاکہ جہاںمستحق لوگوں کو احساس پروگرام کا حصہ بننے میں سہولت اور آسانی فراہم کی جا سکے وہاں احساس کا ڈیٹا مسلسل اپ ڈیٹ ہوتا رہے۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے معاونِ خصوصی برائے سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر کو ہدایت کی کہ گریڈ سترہ اور اس سے اوپر کے تمام افسران جو ناجائز طریقوں سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مستفید ہو رہے تھے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور ان کے نام منظر عام پر لائے جائیں۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ پنجاب کے 24 اضلاع میں جبکہ صوبہ خیبرپختونخوا کے تمام علاقوں میں صحت انصاف کارڈ تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ وزیرِ اعظم آفس کی جانب سے کابینہ کو گزشتہ تیس سالوں میں گورننس کے حوالے سے اکٹھے ہونے والے مسائل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ان مسائل میں مختلف وزارتوں میں بھرتیوں کے حوالے سے زیر التوا رہنے والے قواعد و ضوابط، تادیبی کارروائیوں، سینارٹی کے کیسز، پروموشن و دیگر زیر التوا معاملات پر اعدادوشمار پیش کیے گئے۔کابینہ کو بتایا گیا کہ یہ مسائل گزشتہ تیس سالوں سے مختلف حکومتوں کی جانب سے نظر انداز کیے گئے ہیں۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ مختلف وزارتوں میں مختلف پوسٹ پر قواعد و ضوابط کے بنانے کے 16343کیسز زیر التوا ہیں۔ مختلف پوسٹ پر عہدوں کی تبدیلی، مساوی تقرریوں اور مختلف پوسٹوں کو ختم کرنے کے 3738 کیسز زیر التوا ہیں، سینارٹی کے 20585 کیسز زیر التوا ہیں، پرموشن کے 7209 کیسز زیر التوا ہیں۔ ایف پی ایس سی کے تحت بھرتیوں کے 3459کیسز زیر التوا ہیں۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ مختلف وزارتوں اور اداروں کے تحت 129301اسامیاں خالی ہیں جن پر بھرتیاں التواءکا شکار ہیں۔ تادیبی کارروائیوں کے 1623کیسز زیر التوا ہیں۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ رائج طریقہ کار اور قانون کے مطابق مختلف فائلوں، مشینری و دیگر سامان کو تلف کرنے کے حوالے سے 37.740ملین آئٹم زیر التوا ہیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ عدالتوں میں زیر التوا کیسز کے علاوہ سنیارٹی کے تمام کیسز کو آئندہ ساٹھ دنوں میں نو ٹیفائی کیا جائے گا۔ پروموشن کے تمام کیسز کو آئندہ ساٹھ دنوں میں حل کیا جائے گا۔ ایف پی ایس سی کے تحت اسامیوں کو پر کرنے کی درخواست کو تیس دنوں میں ایف پی ایس سی کو بھیجا جائے گا۔ وزارتوں میں خالی اسامیوں کو آئندہ چار ماہ میں مکمل کیا جائے گا۔ تمام انکوائریوں کو تین ماہ میں مکمل کیا جائے گا۔ ان تمام پرانی فائلوں کو جو تلف ہونے والی ہیں اور جو سامان ناقابل استعمال ہونے والا ہے اس عمل کو بھی نوے دنوں میں مکمل کیا جائے گا۔ ان فیصلوں کے حوالے سے تمام وزارتوں کو ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ مستقبل میں ایسی صورتحال نہ پیدا ہو پرائم منسٹر ڈیلیوری یونٹ آئندہ تیس دنوں میں ایس او پیز بنائے گا۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 30دسمبر2019کے فیصلوں کی توثیق کی۔ کھادوں (فرٹیلائزر)کی قیمتوں میں چار سو روپے تک کی کمی لانے کے حوالے سے ایک تجویز پر غور کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کا خصوصی اجلاس بلایا جائے اور اس حوالے سے فوری فیصلہ لیا جا ئے تاکہ کسانوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے 30دسمبر2019کے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے وفاقی حکومت کے مختلف اداروں کی تین پراپرٹیز کو نیا پاکستان ہاﺅسنگ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو ٹرانسفر کرنے کی منظوری دی تاکہ ان پر کم آمدنی والے افراد کے لئے گھروں کی تعمیر شروع کی جا سکے۔ کابینہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے مابین ترمیم شدہ ائیر سروسز کے معاہدے کی منظوری دی ۔ کابینہ نے رئیر ایڈمرل ذکاءالرحمان کو ڈائریکٹر جنرل پاکستان میری ٹائم سیکورٹی ایجینسی تعینات کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے بریگیڈیئر ضیاءعابد باجوہ کو ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا میں ممبر پروڈکشن کنٹرول تعینات کرنے کی منظوری دی۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے سردار عبدالمجید خان (پاکستان پولیس سروس گریڈ 22) کو وفاقی محتسب سیکرٹیریٹ ریجنل آفس کراچی میں ممبر (انچارج) تعینات کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے وفاقی ملازمتوں میں فاٹا اور گلگت بلتستان کے چار فیصد کو علیحدہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ 2017کی مردم شماری میں فاٹا اور گلگت بلتستان کی آبادی کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے فاٹا کو تین فیصد جبکہ گلگت بلتستان کو ایک فیصد کوٹہ ملے گا۔ کابینہ نے فیصلہ کیا کہ فاٹا کے مختص کیا جانے والے کوٹہ خیبر پختونخوا کے کوٹے میں شمار نہیں کیا جائےگا۔ یہ کوٹہ آئندہ دس سال کے لئے جب تک فاٹا ڈویلپمنٹ پیکج کے زمرے میں رائج العمل رہے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پی ایس او کے منیجنگ ڈائریکٹر کی تعیناتی کا ایجنڈا موخر کر دیا گیا۔ معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ کراچی، لاہور، پشاور اور ملتان میں کثیر المنزلہ عمارات کی تعمیر کے حوالے سے کابینہ نے اپنے اس فیصلے کا اعادہ کیا کہ ماسوائے ان علاقوں کے کہ جن کی سول ایوی ایشن حکام کی جانب سے ہوابازی کی ضروریات کے تحت نشاندہی کر دی گئی ہے باقی علاقوں میں کثیر المنزلہ عمارات کی تعمیر کے لئے این او سی کے حصول کی شرط نہیں ہوگی تاہم اس حوالے سے تعمیرات (بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی) کے قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔ کابینہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہوابازی کی ضروریات کے ضمن میں بین الاقوامی معیار پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔ کابینہ نے پالیسی میں رعایت کرتے ہوئے ائیر سیال کے سیکورٹی ڈیپازٹ میں سے دس فیصد ضبط نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ائیر سیال کو 2017میں لائسنس دیا گیا تھا جبکہ انہوں نے دو سالوں میں لائسنس کی شرائط پوری کرناتھیں۔ کابینہ نے ائیر سیال کو ایک سال کی رعایت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے پاکستان ٹریڈ کنٹرول وائلڈ فونا اینڈ فلورا ایکٹ 2012کے سیکشن 25 کے تحت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد کومقدمات کی سماعت کی ذمہ داری سونپی ہے۔ اس قانون کے سیکشن 4کے تحت انسپکٹر جنرل فارسٹ کو مجاز افسر قرار دینے کی منظوری دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے لاہور ہائی کورٹ کی سفارش پر چوہدری ظفر اقبال نعیم، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (بی ایس 21) کو جج بینکنگ کورٹ VIتعینات کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشن اینڈ کوارڈینیشن میں مجوزہ اصلاحات کی منظوری دی۔ کابینہ نے پانچ ہومیوپیتھک کالجز کے خلاف انکوائری کی منظوری دی۔ ان کالجز کے خلاف پاکستان سٹیزن پورٹل پرشکایت موصول ہوئی تھی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب نے نواز شریف کی صحت کی تازہ ترین صورتحال کی رپورٹ 48گھنٹے میں مانگ لی ہے، اس رپورٹ کے آنے کے بعد اس کا جائزہ لینے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہو ں نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے خصوصی عدالت کے قیام کو کالعدم قرار دینے کا مختصر فیصلہ جاری کیا ہے، تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد ہماری قانونی ٹیم جائزہ لینے کے بعد اس پر مزید کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا معاملہ عدالت میں ہے اور ابھی تک عدالت سے کوئی ہدایت وصول نہیں ہوئی ، مریم نواز کا معاملہ آج کابینہ میں زیر بحث نہیں رہا کیونکہ اس سے بھی بہت اہم اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق ایشوز کا جائزہ لینا لازمی تھا ۔انہوں نے کہا کہ اتحادی جماعتیں حکومت کے ساتھ تھیں اور آئندہ بھی رہیں گی، وزیراعظم کی ہدایات پر کمیٹی نے ایم کیو ایم سے ملاقات کی اور ان کے تحفظات وزیراعظم کے سامنے رکھے ہیں ،وزیراعظم اس معاملے کو سیاسی بصیرت سے حل کر لیں گے ، ایم کیو ایم نے صرف اجتجاجاً کابینہ سے عارضی علیحدگی کی ہے حکومت سے علیحدگی نہیں کی تمام امور احسن طریقے سے نمٹائیں گے ۔








