پارلیمانی و تجارتی رابطوں کے فروغ کے ذریعے افریقی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مستحکم بنایا جا سکتاہے،سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر

اسلام آباد ۔ 16 جنوری (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ افریقہ دنیا کا اہم خطہ ہے، افریقی ممالک کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینا انتہائی اہمیت کا حامل ہے، پارلیمانی و تجارتی رابطوں کے فروغ کے ذریعے افریقی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مستحکم بنایا جا سکتاہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار وزارت تجارت و خارجہ کے اعلیٰ حکام کی جانب سے …

اسلام آباد ۔ 16 جنوری (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ افریقہ دنیا کا اہم خطہ ہے، افریقی ممالک کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینا انتہائی اہمیت کا حامل ہے، پارلیمانی و تجارتی رابطوں کے فروغ کے ذریعے افریقی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مستحکم بنایا جا سکتاہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار وزارت تجارت و خارجہ کے اعلیٰ حکام کی جانب سے سپیکر کو موجودہ حکومت کی افریقہ پالیسی پر جمعرات کو پارلیمنٹ ہاو¿س میں دی جانے والی بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ بریفنگ میں قومی اسمبلی میں افریقی ممالک کے پارلیمانوں کے فرینڈشپ گروپس کے کنوینئرز بھی موجود تھے۔ سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پارلیمانی سفارتکاری افریقی ممالک کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے اور اس مقصد کےلئے قومی اسمبلی میں افریقی ممالک کی پارلیمانوں کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کےلئے فرینڈ شپ گروپس تشکیل دیئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افریقی ممالک قدرتی وسائل سے مالامال ہیں اور ان ممالک میں تجارت کے شعبہ میں وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے وزارت خارجہ کو افریقی ممالک کے ساتھ پارلیمانی رابطوں کو فروغ دینے کےلئے خصوصی اقدامات ا±ٹھانے کا کہا۔ انہوں نے کہا کہ افریقی ممالک کے ساتھ تجارت کو فروغ دینے کےلئے پاکستان اور افریقہ کی تاجر برادری کے مابین رابطوں فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزارت خارجہ اور تجارت کے حکام نے سپیکر کو موجودہ حکومت کی لک افریقہ پالیسی پر بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہا کہ پاکستان اور افریقی ممالک کو ناخواندگی اور غربت جیسے مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہے جس کےلئے مل کر کام کرنے کےلئے لک افریقہ پالیسی تشکیل دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس پالیسی کے تحت افریقی ممالک سے تعلقات کے فروغ کےلئے بھرپور اقدامات ا±ٹھائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمانی سطح پر رابطے کے فروغ سے افریقی ممالک کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کی حکومتی کاوشوں کو تقویت ملے گی۔