اسلام آباد ۔ 17 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین خان گنڈاپور نے کہا ہے کہ وادی نیلم آزاد کشمیر میں شدید برف باری اور برفانی تودے گرنے کے بعد سے اب تک ریسکیو اور ریلیف کا کام تیزی سے جاری ہے اور وہ اس سلسلہ میں مسلسل متعلقہ اداروں اور آزاد کشمیر انتظامیہ سے رابطہ میں ہیں۔ جمعہ کو اپنے ایک بیان …
وادی نیلم میں شدید برف باری اور برفانی تودے گرنے کے بعد سے اب تک ریسکیو اور ریلیف کا کام تیزی سے جاری ہے،وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین خان گنڈاپور کا بیان

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 17 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین خان گنڈاپور نے کہا ہے کہ وادی نیلم آزاد کشمیر میں شدید برف باری اور برفانی تودے گرنے کے بعد سے اب تک ریسکیو اور ریلیف کا کام تیزی سے جاری ہے اور وہ اس سلسلہ میں مسلسل متعلقہ اداروں اور آزاد کشمیر انتظامیہ سے رابطہ میں ہیں۔ جمعہ کو اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ریسکیو اور ریلیف کے کاموں میں پاک فوج، این ڈی ایم اے اور آزاد کشمیر کی انتظامیہ بڑے متحرک انداز سے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو کے ساتھ ساتھ برف باری سے متاثرہ افراد کو ریلیف پہنچایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ متاثرہ علاقہ کی سڑکیں کھولنے کےلئے کام بھی تیزی سے جاری ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ متاثرہ علاقہ میں کسی بھی ممکنہ بارش و برف باری کے نئے سلسلہ سے حفاظت کےلئے بھی خصوصی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ علی امین خان گنڈاپور نے کہا کہ اس المناک قدرتی آفت میں زخمی ہونے والے افراد کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت متاثرہ افراد کی بحالی کےلئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور ریلیف کے کاموں میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو اکثر شدید موسمی حالات اور قدرتی آفات کا سامنا رہتا ہے جس سے بچاﺅ اور نقصانات کو کم سے کم کرنے کےلئے ہمیں مختصر اور طویل المدت منصوبہ بندی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ انفرادی سطح سے لے کر حکومتی سطح تک اس امر کی شدید ضرورت ہے کہ ہم اپنے طرز زندگی تعمیرات اور ترقیاتی منصوبوں میں ان علاقوں کے جغرافیائی خدوخال اور ان سے متعلقہ ممکنہ خطرات کو خصوصی طور پر مدنظر رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات ایک قدرتی عمل ہے جس سے حفاظت کےلئے روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کا بھی سہارا لیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ درخت اور جنگلات ایسے علاقوں میں لینڈ سلائیڈ اور برفانی تودوں کے خلاف بہترین دفاع ہیں جن کی حفاظت اور افزائش کےلئے بھی ہم سب کو مل کر کام کرنا ہو گا۔








