وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا واشنگٹن میں کمیونٹی تقریب کے شرکاء سے خطاب

واشنگٹن ۔ 17 جنوری (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی تشویشناک صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو خطہ میں ایک اور انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے، بھارت اپنی داخلی بدامنی سے دنیا کی توجہ ہٹانے کےلئے پلوامہ کی طرح کا کوئی فالس فلیگ آپریشن کر سکتا ہے، افغان طالبان کی طرف سے آنے والا بیان انتہائی …

واشنگٹن ۔ 17 جنوری (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی تشویشناک صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو خطہ میں ایک اور انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے، بھارت اپنی داخلی بدامنی سے دنیا کی توجہ ہٹانے کےلئے پلوامہ کی طرح کا کوئی فالس فلیگ آپریشن کر سکتا ہے، افغان طالبان کی طرف سے آنے والا بیان انتہائی حوصلہ افزاءہے، اس سے امن معاہدے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ واشنگٹن میں منعقدہ کمیونٹی تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ بعض ممالک پاکستان اور بھارت کو دوطرفہ مذاکرات سے مسئلہ کا حل تلاش کرنے کی بات کرتے ہیں، اس پر بھی ہمارا مو¿قف بالکل واضح ہے، پاکستان نے ہمیشہ امن اور مذاکرات کی بات کی ہے لیکن بھارت کا رویہ مخاصمانہ رہا، بھارت نے صورتحال میں مزید بگاڑ پیدا کیا اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت تبدیل کی گئی، مزید فوجوں کو مقبوضہ کشمیر بھجوایا گیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہندوستان کے اندر اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کو نشانہ بنانے کیلئے امتیازی قوانین بنائے گئے جس کے خلاف مسلمانوں کے ساتھ ساتھ وہ بھارتی جو سیکولر ہندوستان کے حامی تھے ، سراپا احتجاج ہیں اور احتجاج کا دائرہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے، ہم نے سیکورٹی کونسل کو اپنے ان خدشات کا اظہار کیا کہ بھارت اپنے داخلی بدامنی سے دنیا کی توجہ ہٹانے کےلئے پلوامہ کی طرح کا کوئی فالس فلیگ آپریشن کر سکتا ہے۔ پلوامہ کو بنیاد بنا کر بھارت نے جارحیت کی جس کا ہم نے ردعمل میں جواب دیا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ امریکہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی پاکستان کا مثبت تشخص ابھارنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، میں نے گزشتہ ڈیڑھ سال کے بعد کیپیٹل ہل کے رویہ میں بہت تبدیلی دیکھی۔ اگست 2017ءکو جنوبی ایشیائی پالیسی کا اعلان ہوتا ہے اور پاکستان کو منفی درجہ دیا جاتا ہے اور آج پاکستان کی ستائش کی جا رہی ہے، افغان عمل امن میں پاکستان کی مصالحانہ کاوشوں کو سراہا جا رہا ہے، ہم نے انہیں شرپسند عناصر سے بھی خبردار کر دیا ہے جو امن مخالف ہیں۔ پاکستان نے اپنا مصالحانہ کردار خلوصِ نیت سے ادا کیا ہے اور کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کی طرف سے کل سامنے آنے والا بیان انتہائی حوصلہ افزاءہے، طالبان کو سازگار بنانے کےلئے آمادہ ہونے سے امن معاہدے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ امریکہ اور طالبان کو معاہدہ طے پانے کے بعد ہمیں امید ہے کہ ”بین الاافغان“ مذاکرات کا آغاز ہو گا۔ کشمیر سے متعلق انہوں نے کہا کہ میری کوشش ہو گی کہ سیکرٹری آف سٹیٹ مائیک پومپیو سے ہونے والی ملاقات میں انہیں مقبوضہ جموں و کشمیر کی تشویشناک صورتحال سے آگاہ کروں کیونکہ اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو خطہ میں ایک اور انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے، ہم خطہ میں امن کے متمنی ہیں تاکہ ہم پاکستان کو درپیش معاشی چیلنجز کی طرف توجہ مرکوز کر سکیں، میں سمجھتا ہوں آزادانہ خارجہ پالیسی کیلئے معاشی استحکام کا ہونا بنیادی شرط ہے۔ وزیر خارجہ نے امریکہ میں مقیم پاکستانیوں سے کہا کہ آپ امریکی کاروباری حضرات کو پاکستان میں کاروبار اور سرمایہ کاری کےلئے آمادہ کریں تاکہ وہاں روزگار کے مواقع میسر آئیں اور معیشت کا پہیہ چلے، ہم نے کاروبار کیلئے زیادہ سے زیادہ سہولت دینے کیلئے نئی اصلاحات متعارف کرائی ہیں تاکہ بین الاقوامی سرمایہ کار پاکستان کی طرف متوجہ ہوں۔