اسلام آباد ۔ 17 جنوری (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکہ سے کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کی ذمہ دارانہ واپسی کی جائے اور 80ءکے عشرہ کی غلطی نہ دھرائی جائے ۔جمعہ کو فاکس نیوز کو ایک خصوصی انٹر ویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکہ سے 80 ءکی دہائی کے برعکس ذمہ درانہ واپسی کا مطالبہ کررہا ہے کیونکہ اس غلطی سے …
افغانستان سے امریکی افواج کی ذمہ دارانہ واپسی کی جائے، شاہ محمود قریشی

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 17 جنوری (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکہ سے کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کی ذمہ دارانہ واپسی کی جائے اور 80ءکے عشرہ کی غلطی نہ دھرائی جائے ۔جمعہ کو فاکس نیوز کو ایک خصوصی انٹر ویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکہ سے 80 ءکی دہائی کے برعکس ذمہ درانہ واپسی کا مطالبہ کررہا ہے کیونکہ اس غلطی سے وہاں تباہ کن قوتوں کا تسلط ہو گیا تھا۔ وزیر خارجہ جو علاقائی کشیدگی کے پیش نظر امریکی انتظامیہ کے ساتھ بات چیت کے لئے واشنگٹن ڈی سی میں ہیں ، نے افغانستان سے افواج کی واپسی کے لئے صدرڈونلڈ ٹرمپ کی کمٹمنٹ کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے امن و استحکام کی امید پر صدر ٹرمپ کی درخواست پر طالبان کے ساتھ مذاکرات میں سہولت دی ۔ایرانی صدر حسن روحانی کے ساتھ اپنی حالیہ بات چیت کے متعلق انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد کشیدگی کا خاتمہ اور خطہ کو منفی اثرات سے بچانا تھا ۔انہوں نے افغان امن عمل سے متعلق امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدہ کی توقع کا اظہار کیا انہوں نے کہا کہ اب طالبان امریکہ سے بات چیت کررہے ہیں اور معاہدہ طے پاجانے کا امکان ہے ۔اس سال اکتوبر میں بھارت میں شنگھائی تعاون تنظیم کے علاقائی سربراہ اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان کی شرکت کے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کا موقف بڑا واضح ہے کہ اگر بھارت ایک قدم اٹھاتا ہے تو پاکستان دو قدم اٹھائے گا۔ تاہم انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے بھارت منفی رویہ دکھا رہا ہے ۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کے محاصرے اور اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو ہدف بنائے جانے کے متنازعہ بلز کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیریوں پر بھارتی مظالم اور طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جارہا اور شہریت کے متنازعہ قانون کے خلاف پورے بھارت میں مظاہرے ہورہے ہیں ۔








