وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی امریکی مشیر قومی سلامتی سے ملاقات،

واشنگٹن ۔ 18 جنوری (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے امریکی مشیر قومی سلامتی سے ملاقات کی ہے ، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اپنے دورہ امریکا کے موقع پر وائٹ ہاوس، واشنگٹن میں امریکا کے مشیر برائے قومی سلامتی ایمبسڈر رابرٹ او برائن سے ملاقات کی ، انکی یہ ملاقات ستمبر 2019 میں تعینات ہونے والے نئے امریکی مشیر برائے قومی سلامتی سے …

واشنگٹن ۔ 18 جنوری (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے امریکی مشیر قومی سلامتی سے ملاقات کی ہے ، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اپنے دورہ امریکا کے موقع پر وائٹ ہاوس، واشنگٹن میں امریکا کے مشیر برائے قومی سلامتی ایمبسڈر رابرٹ او برائن سے ملاقات کی ، انکی یہ ملاقات ستمبر 2019 میں تعینات ہونے والے نئے امریکی مشیر برائے قومی سلامتی سے پہلی باضابطہ ملاقات ہے۔ملاقات میں پاکامریکہ دو طرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ وزیر خارجہ نے جولائی 2019 میں ہونیوالے وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکہ اور صدر ٹرمپ سے ہونے والی ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور صدر ٹرمپ کے مابین ہونے والی ان ملاقاتوں نے پاک امریکہ تعلقات کو مستحکم کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ جامع، طویل المدتی اور کثیر الجہتی شراکت داری پر مبنی دو طرفہ تعلقات کا خواہاں ہے۔ وزیر خارجہ نے امریکی مشیر برائے قومی سلامتی کو خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور قیام امن کیلئے پاکستان کی کاوشوں اور کردار کے بارے میں آگاہ کیا وزیر خارجہ نے امریکی مشیر برائے قومی سلامتی کو خلیجی ریاستوں کے اپنے حالیہ دوروں کا احوال بتاتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کیلئے ،مذاکرات کے ذریعے معاملات کے پرامن حل کا حامی ہے۔خطے میں پائی جانے والی کشیدگی پاکستان کیلئے شدید تشویش کا باعث ہے کیونکہ یہ خطہ کسی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اسی لئے پاکستان کشیدگی کے خاتمے اور خطے میں قیام_امں کے لیے اپنا تعمیری اور مثبت کردار ادا کرنے کیلئے کوشاں ہے ۔مخدوم شاہ محمود قریشی نے امریکی مشیر برائے قومی سلامتی کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں، بھارت کی جانب سے کئے گئے یکطرفہ اقدامات ، پانچ ماہ سے جاری مسلسل لاک ڈاو¿ن، ذرائع ابلاغ پر پابندی سمیت مظلوم کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مختلف مظالم کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ امریکہ اس انسانی المیے کا نوٹس لیتے ہوئے ،کرفیو کے خاتمے اور کشمیریوں کو ان کا جائز حق ”حق خود ارادیت “ دلانے کے لیے بھارت پر دباو¿ ڈالے ۔ فریقین نے امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی بحالی کو مثبت اور حوصلہ افزا اقدام قرار دیا۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے پاکستان کی طرف سے افغان تنازعہ کے سیاسی تصفیے اور افغان امن عمل میں مصالحانہ کوشیش جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔امریکی مشیر برائے قومی سلامتی رابرٹ او برائن نے افغانستان میں قیام امن کی امریکی کوششوں کو عملی جامہ پہنانے اور افغان امن عمل میں پاکستان کے مصالحانہ کردار کو سراہا۔