اسلام آباد ۔ 18 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے جیلوں کی حالت زار سے متعلق رپورٹ ہائی کورٹ میں جمعکرادی، رپورٹ جمع کرانے کے لئے وہ خود عدالت کے روبرو پیش ہوئیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئے کہ شیریں مزاری صاحبہ خود کیوں آئی ہیں عدالت نے تو انہیں نہیں بلایا تھا جس پر شیریں مزاری نے …
وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے جیلوں کی حالت زار سے متعلق رپورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرادی

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 18 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے جیلوں کی حالت زار سے متعلق رپورٹ ہائی کورٹ میں جمعکرادی، رپورٹ جمع کرانے کے لئے وہ خود عدالت کے روبرو پیش ہوئیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئے کہ شیریں مزاری صاحبہ خود کیوں آئی ہیں عدالت نے تو انہیں نہیں بلایا تھا جس پر شیریں مزاری نے کہا کہ عدالت نے ذمہ داری عائد کی تھی اس لئے عدالت کے احترام کے لیے خود پیش ہوئی ہوں، انہوں نے استدعا کی کہ قیدیوں کی حالت زار سے متعلق رپورٹ خود پیش کرنا چاہتی ہوں۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے عدالت کو بتایا کہ جیلوں میں زیر ٹرائل قیدیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، زیر ٹرائل قیدیوں کے مسائل کا حل ضروری ہے۔ کیس کی سماعت کے دوران نیلسن منڈیلا کا تذکرہ کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ نیلسن منڈیلا نے کہا تھا کہ اگر کسی قوم کی گورننس اور حالات کا جائزہ لینا ہے تو جیلوں کی حالت دیکھیں، نیلنسن منڈیلا ایک طویل عرصے تک جیل میں رہے۔ وفاقی وزیر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ رپورٹ میں خواجہ سراو¿ں کے لیے سپیشل یونٹ کی سفارش کی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ سزا یافتہ قیدی بھی اگر بیمار ہو جائے تو اسکو رہا کرے، سزا یافتہ مجرم کو بھی جینے کا حق ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئے کہ مجرم کو جیل میں ٹارچر کرنے کے لیے نہیں ڈالا جاتا۔ نبی پاک کا فرمان ہے کہ 100 مجرم چھوٹ جائیں لیکن ایک بے گناہ کو سزا نہ ہو اور ہر مذہب کہتا ہے کہ انسان کے ساتھ بطور انسان برتاﺅ کیا جائے، چیف جسٹس نے وفاقی وزیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت آپکے کام کو سراہتی ہے، آپ نے جو باتیں کیں اور جو کام کیا اس سے بہت سی چیزیں بہتر ہو جائیں گی۔شیریں مزاری نے کہا کہ قیدیوں کے اکاو¿نٹ تک فیملی کو رسائی نہ ہونے پر کئی خاندان مشکلات کا شکار ہیں، ہم نے اپنی رپورٹ میں سفارش کی ہے کہ قیدیوں کے اکاو¿نٹس تک بیوی کو رسائی دی جائے، چیف جسٹس نے کہا کہ انگریز سے زیادہ شریعت اور فقہ میں انسانی حقوق واضح ہیں، جیل میں قیدیوں کے حقوق کی بات اسلامی شریعت اور فقہ میں ہے، چیف جسٹس نے ڈاکٹرشیریں مزاری سے استفسار کیا کہ آپ کا کام مکمل ہو چکا تو یہ عدالت فیصلہ جاری کر دے جس پر وفاقی وزیر نے جواب دیا کہ ہم نے تمام کام مکمل کر لیا ہے اور رپورٹ پیش کر دی ہے۔ شیری مزاری نے کہا کہ جبری گمشدگیوں کے بل پر کام جاری ہے، گمشدہ افراد کے لاپتہ ہونے پر ان کے گھر والے بھی اذیت کا شکار ہوتے ہیں، گمشدہ افراد کے اہل خانہ کو اکاونٹس تک رسائی نہ ہونے سے انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، گمشدہ افراد کی اہلیہ کو ان لے اکاونٹس تک رسائی دینی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہم تو بچوں سے زیادتی کے کیسز پر بھی آگاہی مہم چلا رہے ہیں جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے جیل میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے حوالے سے بھی کام کیا ہے جس پر وفاقی وزیر نے کہا کہ جیل میں بچوں اور خواتین سے زیادتی کے حوالے سے بھی رپورٹ میں لکھا ہے۔ چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ امید ہے کہ ہماری سیاسی قیادت اس حوالے سے کام کرے گی۔عدالت نے کیس کی سماعت 15 فروری تک ملتوی کر دی۔ دریں اثناءہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ جبری گمشدگیوں کے حوالے سے بل وزارت قانون کے پاس ہے، جیلوں میں قیدیوں کو اپنے حقوق سے متعلق آگاہی نہیں ہے۔ شیریں مزاری نے کہا کہ جیلوں میں قیدیوں کے حقوق والے ہنگرز نمایاںکئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پرزن ریفارمز کمیٹی کی رپورٹ پیش کر دی ہے جس پر عدالت فیصلہ دے گی۔








