افریقہ میں جاری تشدد کا اصل ہدف 50 لاکھ بچے ہیں، یونیسف

اقوام متحدہ ۔ 02فروری (اے پی پی) اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ برائے اطفال یونیسف کا کہنا ہے کہ تقریباً 50 لاکھ بچے براعظم افریقہ کے علاقے ساحل میں بڑھتے ہوئے تشدد کے اصل شکار ہیں۔ وہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نشانہ ہیں، جن میں اغوا، کمسنی میں فوجیوں کے طور پر ان کی بھرتی، جنسی زیادتی اور دوسری قسم کی زیادتیاں شامل ہیں۔ایسے بہت سے عوامل …

اقوام متحدہ ۔ 02فروری (اے پی پی) اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ برائے اطفال یونیسف کا کہنا ہے کہ تقریباً 50 لاکھ بچے براعظم افریقہ کے علاقے ساحل میں بڑھتے ہوئے تشدد کے اصل شکار ہیں۔ وہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نشانہ ہیں، جن میں اغوا، کمسنی میں فوجیوں کے طور پر ان کی بھرتی، جنسی زیادتی اور دوسری قسم کی زیادتیاں شامل ہیں۔ایسے بہت سے عوامل ہیں جن کی وجہ سے بورکینا فاسو، مالی اور نائجر میں بچوں اور ان کے خاندانوں کو مصائب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بچوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے کا کہنا ہے کہ موسمی تبدیلی کی وجہ سے بڑھتی ہوئی خشک سالی اور سیلاب کی وجہ سے کاشت کاروں اور چرواہوں کا روزگار تباہ ہو رہا ہے۔ انتہاپسند اور مسلح گرپوں کے پھیلاؤ کی بنا پر کم عمر بچوں کی فوجیوں کے طور پر بھرتی میں اضافہ ہورہا ہے۔ بچوں کو صحت کی سہولتوں تک رسائی حاصل نہیں ہے اور مہلک بیماریوں کے خلاف ان کو بچاؤ کے ٹیکے نہیں لگائے جا رہے۔ انہوں نے کہا کہ سات لاکھ سے زیادہ بچوں میں بہت سے غذائیت کی سخت کمی کا شکار ہیں اور انہیں زندگی کے تحفظ کے لیے علاج بھی دستیاب نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ساحل کے علاقے کے ملکوں میں بچے ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکے ہیں اور یہ مناظر عام ہیں۔یہ سنگلاخ علاقہ مشرقی سوڈان سے لے کر مغرب میں بحر اوقیانوس تک پھیلا ہوا ہے۔ اس علاقے میں نائجر، مالی، چاڈ بورکینا فاسو اور ماریطانیہ کے ملک شامل ہیں۔ ان ملکوں کو جی فائیو ساحل کے ممالک کے طور پر جانا جاتا ہے۔