کراچی۔ 2 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ کراچی سرکلرریلوے (کے سی آر) کے لئے ریلوے کی زمین حکومت سندھ کو دینے کے لئے تیار ہیں، کے سی آر سندھ حکومت کا منصوبہ ہے اور ہماری خواہش ہوگی کہ ہم ان سے بھر پور تعاون کریں، کے سی آر کے لئے 38 کلو میٹر زمین خالی کرائی ہے، 5 کلو میٹر …
کے سی آر کے لئے ریلوے کی زمین حکومت سندھ کو دینے کے لئے تیار ہیں، شیخ رشید پچھلے بجٹ میں ریلوے کا خسارہ 4 ارب روپے کم کیا ہے، اس بجٹ میں 6 ارب کم کریں گے، کراچی کیمپ آفس میں پریس کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
کراچی۔ 2 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ کراچی سرکلرریلوے (کے سی آر) کے لئے ریلوے کی زمین حکومت سندھ کو دینے کے لئے تیار ہیں، کے سی آر سندھ حکومت کا منصوبہ ہے اور ہماری خواہش ہوگی کہ ہم ان سے بھر پور تعاون کریں، کے سی آر کے لئے 38 کلو میٹر زمین خالی کرائی ہے، 5 کلو میٹر خالی کرانا ابھی باقی ہے، پچھلے بجٹ میں ریلوے کا خسارہ 4 ارب روپے کم کیا ہے، انشاء اللہ اس بجٹ میں 6 ارب روپے کم کریں گے، ریلوے کے پیسنجر 6 کروڑ سے 7 کروڑ ہوئے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو کراچی ریلوے کیمپ آفس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے کہا کہ کراچی سرکلر ریلوے (کے سی آر) پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے ہمیں 12 تاریخ تک مہلت دی ہے اور اس حوالے سے میں کل وزیراعلی سندھ سے ملاقات کررہا ہوں۔ سپریم کورٹ نے ہمیں گائیڈ لائن دی ہے اور ہم سے بزنس پلان مانگا ہے، ہم سپریم کورٹ کو بزنس پلان دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر سندھ حکومت کا منصوبہ ہے اور ہماری خواہش ہوگی کہ ہم ان سے بھر پور تعاون کریں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تو ہمارے پاس 38 کلو میٹرکی جگہ ہے اس کا فیصلہ وزیراعظم کو کرنا ہے کہ کس قیمت پر حکومت سندھ کو لیز پر دینا ہے کیونکہ وزیر کے پاس لیز دینے کا اختیار نہیں ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ کہ 15 سے 20 تاریخ کے درمیان ہم نے افغان ٹریڈ کی ٹرین بھی چلانے کا فیصلہ کیا ہے جو اسمگلنگ روکنے کا بھی بڑا حل ہے کیونکہ براہ راست پورٹ سے افغان ٹریڈ کا مال چمن تک پہنچے گا ۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ کراچی میں ہم نے ریلوے کی زمین واپس لینے کا بھی فیصلہ کیا ہے تاکہ ریلوے کے آمدن میں اضافہ کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی اپنی پیسنجر یا فریٹ ٹرین چلانا چاہے تو ہم فری ٹریک دینے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی معاشی حب ہے اس لئے لاہور سے ریلوے کے آفسران کراچی شفٹ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ کراچی ریلوے کا شہ رگ ہے اس کو نظر انداز کیا گیا ہے، ہم اس کو اہمیت دینے جارہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حیدر آباد کی ورکشاپ کو بھی اپ گریڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو ویگن ٹھیک کرنے کے لئے مغل پورہ جاتے تھے تاکہ وہ حیدر آباد میں ہی ٹھیک ہوسکے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم ریلوے کے ہسپتال اپ گریڈ کرنے جارہے ہیں اور ریلوے کے ہسپتالوں اور اسکولوں کو پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے تحت چلانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ایم ایل ون ریلوے کی زندگی ہے اور ریلوے کی ترقی کا راز ہے، اس سے ایک لاکھ لوگوں کو روزگار ملے گا اور ریلوے کو حادثات سے بچا سکتی ہے۔ ایم ایل ون 1885 کلو میٹر کا منصوبہ ہے اور ملک کی ضرورت ہے۔سانحہ تیز گام کے رپورٹ کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ رپورٹ ابھی تک کلیئر نہیں ہے کہ پہلے شارٹ سرکٹ ہوا یا سلنڈر پھٹا تھا۔انہوں نے کہا کہ فریٹ کے آمدن میں اضافہ ہوا ہے، فریٹ اور پیسنجر کے آمدن ملاکر پچھلے ٹارگٹ سے آمدن زیادہ ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ کرونا وائرس پاکستانی معیشت کے لئے بھی امتحان ہے، فائبر چین سے آتا ہے پورٹس بند ہونے کی وجہ سے معیشت پر اثرات مرتب ہوسکتے ہے لیکن متعلقہ لوگ اس کو بہتر انداز میں حل کررہے ہیں۔








