اسلام آباد ۔ 2 فروری (اے پی پی)دفتر خارجہ نے اتوار کو بھارتی ہائی کمیشن کے ایک سینئر سفارتکار کو طلب کیااور بھارتی قابض افواج کی طرف سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوںجس کے نتیجے میں ایک بے گناہ معصوم شہری شدید زخمی ہوگیا پر بھرپور احتجاج ریکارڈ کرایا ۔ دفتر خارجہ کی طرف سے اتوار کو یہاں جاری بیان میں کہا …
بھارتی ہائی کمیشن کے سینئر سفارتکار کی دفتر خارجہ طلبی، بھارتی افواج کی طرف سے ایل او سی پر جنگ بندی کیخلاف ورزی پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 2 فروری (اے پی پی)دفتر خارجہ نے اتوار کو بھارتی ہائی کمیشن کے ایک سینئر سفارتکار کو طلب کیااور بھارتی قابض افواج کی طرف سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوںجس کے نتیجے میں ایک بے گناہ معصوم شہری شدید زخمی ہوگیا پر بھرپور احتجاج ریکارڈ کرایا ۔ دفتر خارجہ کی طرف سے اتوار کو یہاں جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی افواج نے ایل او سی پر ہفتہ کو ستوال سیکٹر میں اندھا دھند اور بلا اشتعال فائرنگ کے ذریعے شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں مدار پور گائوں کا رہائشی 45 سالہ محمد سفیر شدید زخمی ہوگیا۔ بھارتی افواج کی طرف سے بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ بھارت کی طرف سے ایسے بلا جواز اقدامات 2003ء کے جنگ بندی معاہدے، بین الاقوامی انسانی حقوق اور عالمی اقدار کی صریح خلاف ورزی ہیں اور علاقائی امن و استحکام کے لئے خطرہ ہیں۔ ترجمان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بھارت کشیدگی بڑھا کر بھارتی مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی سنگین صورتحال سے دنیا کی توجہ نہیں ہٹا سکتا۔ پاکستان نے بھارت پر زور دیا کہ وہ 2003کے جنگ بندی معاہدے کا احترام کرے، دانستہ طور پر موجودہ اور اس سے پہلے کی گئی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرائے اور کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈری پر امن قائم کرے ۔ بھارت پر یہ بھی زور دیا گیا کہ وہ پاک ۔بھارت اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ کو مقبوضہ جموں و کشمیر میںجانے کی اجازت دے تاکہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اپنا کردار ادا کرسکے۔








