تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید کی پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 3 فروری (اے پی پی) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر فیصل جاوید نے کہا ہے کہ اتحادی جماعتوں کے مطالبات کو پورا کیا جائے گا، تمام اتحادی حکومت کے ساتھ ہیں، کہیں نہیں جا رہے۔ پارلیمنٹیرین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہونا چاہئے۔ پارلیمنٹیرین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہونا چاہئے، یوم یکجہتی کشمیر پر پورا پاکستان اکٹھا ہے اور اپنے کشمیریوں بھائیوں کے ساتھ کھڑا …

اسلام آباد ۔ 3 فروری (اے پی پی) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر فیصل جاوید نے کہا ہے کہ اتحادی جماعتوں کے مطالبات کو پورا کیا جائے گا، تمام اتحادی حکومت کے ساتھ ہیں، کہیں نہیں جا رہے۔ پارلیمنٹیرین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہونا چاہئے۔ پارلیمنٹیرین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہونا چاہئے، یوم یکجہتی کشمیر پر پورا پاکستان اکٹھا ہے اور اپنے کشمیریوں بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ پیر کو پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اتحادی جماعتیں حکومت کے ساتھ کھڑی ہیں، کہیں نہیں جا رہیں، ان کے مطالبات کو حل کیا جائے گا، ماضی کی حکومتوں میں بھی اتحادی جماعتیں اپنے مطالبات منوانے کے لئے اسی طرح کے رویئے اپناتی رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ جو وعدے کئے ہیں، انہیں ہر حال میں پورا کیا جائے گا۔ سینیٹر فیصل جاوید نے پارلیمنٹیرینز کی تنخواہوں میں اضاے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پہلے عام آدمی کی تنخواہ میں اضافہ ہونا چاہئے، ملک میں مہنگائی کو کنٹرول کیا جانا چاہئے، پارلیمنٹیرینز کی تنخواہوں میں اضافے کا یہ وقت مناسب نہیں ہے، پہلے عام آدمی کی آمدن میں اضافن ہونا چاہئے۔ پارلیمنٹیرین گذارا کریں۔ ایک سوال کے جواب میں سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر بھرپور طریقے سے اٹھایا ہے، اگر عمران خان نہ ہوتے تو کشمیر کے مسئلہ کو اٹھانے والا کوئی نہ ہوتا۔ وزیراعظم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں نہ صرف پاکستان کی نمائندگی بلکہ مسلم امہ کی بھی نمائندگی اور مسئلہ کشمیر کو بھرپور طریقے سے اٹھایا، اب بھارت کے اندر سے مودی کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں۔ وہ دن دور نہیں جب کشمیری بھارت کے تسلط سے آزاد ہوں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی اداروں نے بھی ملکی معیشت کو مستحکم قرار دیا ہے جبکہ ملک کے کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ میں کمی واقع ہوئی ہے، رواں سال میں مہنگائی کو کم کیا جائے گا۔