قومی اسمبلی میں مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر بحث کا آغاز ہوگیا،برہان وانی کی شہادت نے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو ایک نیا ولولہ دیا‘ 5 اگست کے بعد کشمیر کا مسئلہ دنیا کے سامنے اجاگر ہوا ،سید فخر امام

اسلام آباد ۔ 3 فروری (اے پی پی) پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین سید فخر امام نے کہا ہے کہ برہان وانی کی شہادت نے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو ایک نیا ولولہ دیا‘ 5 اگست کے بعد کشمیر کا مسئلہ دنیا کے سامنے اجاگر ہوا‘ کشمیر کا مسئلہ دوطرفہ نہیں ہے‘ اگر دوطرفہ ہوتا تو پانچ اگست کے بعد اقوام متحدہ کے سیشن کیوں ہوئے‘ اقوام متحدہ کے ہائی …

اسلام آباد ۔ 3 فروری (اے پی پی) پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین سید فخر امام نے کہا ہے کہ برہان وانی کی شہادت نے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو ایک نیا ولولہ دیا‘ 5 اگست کے بعد کشمیر کا مسئلہ دنیا کے سامنے اجاگر ہوا‘ کشمیر کا مسئلہ دوطرفہ نہیں ہے‘ اگر دوطرفہ ہوتا تو پانچ اگست کے بعد اقوام متحدہ کے سیشن کیوں ہوئے‘ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے دنیا کے سامنے بھارت کو بے نقاب کرکے رکھ دیا ہے۔ پیر کو قومی اسمبلی میں پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین سید فخر امام نے مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ میں گیارہ بار کشمیر پر استصواب رائے کی قراردادیں منظور ہوئیں۔ بھارت اس سے پہلوتہی کرتا رہا کہ اگر انہیں استصواب رائے کا حق دیا گیا تو یہ پاکستان کے حق میں فیصلہ دے دیں گے۔ ہمارے موقف کی 16 اگست 2019 کو اقوام متحدہ نے تائید کی کہ کشمیر ایک متنازعہ مسئلہ ہے۔ کشمیر کو خصوصی حیثیت اقوام متحدہ نے دی ہے۔ 1987ءمیں انتخابات میں دھاندلی کے بعد کشمیر میں بغاوت ہوئی۔ جس کے بعد بھرپور تحریک چلی۔ ہزاروں کشمیریوں نے وہاں جام شہادت نوش کیا۔ برہان وانی کی شہادت نے کشمیریوں میں ایک نیا ولولہ پیدا کیا اس کے جنازے میں تین لاکھ سے زائد کشمیری شریک ہوئے۔ اس کے بعد پیلٹ گنز کا استعمال شروع ہوا جس سے ایک ہزار سے زائد کشمیری بینائی سے محروم ہوئے۔ یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا دستاویزی ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نائن الیون کے بعد امریکہ نے ایک بار پھر پاکستان کو اہمیت دی اس سے پہلے کشمیر کی تحریک آزادی اور دیگر معاملات پر اس نے بات بھی نہیں کی۔ آج ایک بار پھر پاکستان کو اس کی ضرورت ہے۔ اس سے سفارتی سطح پر فائدہ پاکستان کو بھی ہوا ہے۔ امریکہ افغانستان میں پھنسی اپنی فوج کو نکالنا چاہتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ویت نام سمیت جہاں بھی امریکہ پھنسا بری طرح واپس نکلا اب وہ یہ تاریخ نہیں دہرانا چاہتا۔ انہوں نے کہا کہ مودی جو حرکتیں کر رہا ہے۔ ہماری ترجیحات میں کشمیر کا مسئلہ اور چین سے تعلقات ہیں۔ عالمی تعلقات میں نہ کوئی مستقل دشمن اور نہ ہی کوئی دوست ہوتا ہے۔ چین دنیا کی دوسری معاشی طاقت ہے۔ کشمیر کا مسئلہ دوطرفہ نہیں ہے‘ اگر دوطرفہ ہوتا تو پانچ اگست کے بعد اقوام متحدہ کے سیشن کیوں ہوئے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے دنیا کے سامنے بھارت کو بے نقاب کرکے رکھ دیا ہے۔ بھارت کی یہ سوچ کہ صرف ہندو ہی ہندوستان ہے‘ دنیا کے سامنے آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج وقت آگیا ہے کشمیر یا پاکستان کے کور مفادات پر اس پارلیمان سے اتحاد کا ایک ہی پیغام جاتا ہے۔