آئی ایم ایف نے 6 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت کے لئے پاکستان کی کارکردگی کے جائزہ پر تبادلہ خیال شروع کر دیا،مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 3 فروری (اے پی پی) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سٹاف مشن نے 6 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تحت پاکستان کی کارکردگی کے جائزہ پر تبادلہ خیال شروع کر دیا ہے۔ مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے پیر کو ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ آئی ایم ایف کی ٹیم حکومت پاکستان کی معاشی ٹیم کے ساتھ 14 فروری تک …

اسلام آباد ۔ 3 فروری (اے پی پی) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سٹاف مشن نے 6 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تحت پاکستان کی کارکردگی کے جائزہ پر تبادلہ خیال شروع کر دیا ہے۔ مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے پیر کو ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ آئی ایم ایف کی ٹیم حکومت پاکستان کی معاشی ٹیم کے ساتھ 14 فروری تک بات چیت جاری رکھے گی ، سہ ماہی کے کامیاب جائزہ کے نتیجہ میں آئندہ ماہ 450 ملین ڈالر کی تیسری قسط جاری کی جائے گی۔ آئی ایم ایف کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے تحت پاکستان کو پہلے ہی دو اقساط میں 1.44 ارب ڈالر موصول ہو چکے ہیں۔ پاکستان میں قیام کے دوران آئی ایم ایف کی ٹیم مختلف وزارتوں اور محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لے گی جبکہ توانائی اور ٹیکس اصلاحات سے متعلق بھی بات چیت کی جائے گی۔ وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ و ریونیو ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ ملک میں افراط زر کی شرح میں کمی ہونا شروع ہو جائے گی جو کہ جلد کافی حد تک کم ہو جائے گی، حکومت نے مختلف اشیاءکی قیمتوں میں کمی لانے کیلئے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قوم جلد دیکھے گی کہ اشیاءضروریہ کی قیمتیں کم ہونا شروع ہو گئی ہیں، افراط زر کو کنٹرول کرنے کیلئے حکومت نے سٹیٹ بینک سے کوئی قرض نہیں لیا، حکومت نے اپنے غیر ضروری اخراجات میں کمی کی ہے تاکہ بجٹ خسارے کو کم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ تجویز دی کہ مہنگائی پر قابو پانے کیلئے صوبے کردار ادا کریں جبکہ انتظامی اقدامات کے ذریعے ذخیرہ اندوزی پر قابو پایا جائے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سبزیوں کے دام میں سیزن کی تبدیلیوں کی وجہ سے اضافہ ہوا، امید ہے کہ آئندہ دنوں میں یہ قیمتیں کم ہو جائیں گی، مہنگائی کنٹرول کرنے کےلئے گندم درآمد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے مو¿ثر اقدامات کے باعث ڈالر کے مقابلہ میں روپے کی قدر مستحکم ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں امن و امان کے باعث دنیا بھر سے پاکستان میں سرمایہ کاری آ رہی ہے اور پاکستان چاہتا ہے کہ ملک میں سرمایہ کاری کے مواقع بڑھائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے تعاون سے حکومت نے احساس پروگرام کے فنڈ کو دگنا کر دیا ہے جبکہ یوٹیلیٹی سٹورز پر 7 ارب روپے کا پیکیج دے رہے ہیں تاکہ معاشرہ کے غریب طبقات کو اشیاءضروریہ کی فراہمی پر سبسڈی دی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے 72 فیصد صارفین کو سبسڈی دے رہے ہیں، قوم دیکھے گی کہ مہنگائی آہستہ آہستہ کم ہو گی۔