او آئی سی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ امن منصوبہ کو مسترد کردیا

جدہ ۔ 3 فروری (اے پی پی) اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ امن منصوبہ کو مسترد کرتے ہوئے تنظیم کے 57 رکن ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس پر عمل درآمد میں مدد نہ کریں۔ ۔ پیر کو سعودی عرب کے شہر جدہ میں او آئی سی ہیڈ کوارٹر میں وزرائے خارجہ کے اہم اجلاس میں یہ فیصلہ کیا …

جدہ ۔ 3 فروری (اے پی پی) اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ امن منصوبہ کو مسترد کرتے ہوئے تنظیم کے 57 رکن ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس پر عمل درآمد میں مدد نہ کریں۔ ۔ پیر کو سعودی عرب کے شہر جدہ میں او آئی سی ہیڈ کوارٹر میں وزرائے خارجہ کے اہم اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیاکہ تمام رکن ممالک اس منصوبے پر کسی بھی طرح امریکی انتظامیہ کی کوششوں میں تعاون نہیں کریں گے۔ او آئی سی نے کہا کہ فلسطین میں امن فلسطینیوں سمیت تمام فریقین کی منظوری کے بغیر ممکن نہیں ہے ، اسلامی کانفرنس کی تنظیم امریکہ اور اسرائیل کے اس منصوبے کو مسترد کرتی ہے کیونکہ یہ منصوبہ فلسطینی مسلمانوں کی خواہشات پر پورا نہیں اترتا جو فلسطینی عوام کے جائز حقوق سے متصادم ہے ، او آئی سی نے مزید کہا کہ امریکہ کا منصنوبہ منصفانہ اور فریقین کے اطمینان کے مطابق ہونا چاہیے تھا ، یک طرفہ منصوبہ فلسطینیوں کے مطالبات اور امنگوں کو پورا نہیں کرتا ۔گزشتہ ہفتے امریکی صدر ٹرمپ نے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان تنازعہ ختم کرنے کیلئے مشرق وسطیٰ امن منصوبہ جاری کیا تھا جبکہ او آئی سی نے مستقبل کی فلسطینی ریاست کے دارالحکومت کے طور پر مشرقی بیت المقدس کے لئے اپنی حمایت کا اعادہ کیا ہے ۔ او آئی سی کا کہنا ہے کہ فلسطینی ریاست کے علاقہ بالخصوص القدس الشریف کے مقدس شہر سے اسرائیلی قبضہ کے خاتمے اور اسرائیل کے مکمل انخلاءکے ساتھ ہی امن حاصل کیا جاسکتا ہے جس پر اسرائیل نے جون 1967کی مشرق وسطیٰ کی جنگ کے بعد قبضہ کر لیا تھا۔ دریں اثناءعرب لیگ نے بھی ہفتہ کے روز قاہرہ میں اپنے اہم اجلاس میں متنازعہ منصوبہ کو مسترد کر تے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ فلسطینی عوام کی امنگوں کے مطابق نہیں ۔