ادلب میں ترک اور شامی فوج کے درمیان کشیدگی خطے اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ

اقوام متحدہ ۔ 4 فروری (اے پی پی) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹریس نے شام کے صوبہ ادلب میں ترک اور شامی فوج کے درمیان کشیدگی کو خطے اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے ادلب میں ترکی اور شام کی فوج کے درمیان جاری کشیدگی سے متعلق ایک بریفنگ میں …

اقوام متحدہ ۔ 4 فروری (اے پی پی) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹریس نے شام کے صوبہ ادلب میں ترک اور شامی فوج کے درمیان کشیدگی کو خطے اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے ادلب میں ترکی اور شام کی فوج کے درمیان جاری کشیدگی سے متعلق ایک بریفنگ میں کہی۔ ترجمان نے کہا کہ ہم شمال مغربی شام میں ترک اور شامی فوج کے درمیان کشیدگی سے بہت پریشان ہیں اور یہ کشیدگی ایک بار پھر خطے اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے خطرے کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں شہریوں کے جانی نقصان اور بڑی تعداد میں شہریوں کے بے گھر ہونے پر گہری تشویش ہے اور سیکرٹری جنرل نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ شہریوں اور شہری ڈھانچے پر حملے روکنے چاہیں۔ ترجمان نے کہا کہ شام میں کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی رابطے جاری ہیں، اقوام متحدہ کو ادلب اور اس کے مضافات میں 3 ملین سے زائد شہریوں کے تحفظ پرتشویش ہے ، نصف شہری فضائی حملوں اور شیلنگ سے بے گھر ہو گئے ہیں اور اس کشیدگی کے باعث گزشتہ سال دسمبر سے 5 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں جن میں 80 فیصد خواتین اور بچے شامل ہیں۔ ترجمان نے صحت کی عالمی تنظیموں کی رپورٹ کے حوالے بتایاکہ گزشتہ ماہ عدم تحفظ اور حملوں کے خدشے کے پیش نظر صحت کے تقریباً 53 اداروں نے اپنی سروسز معطل کریں۔ انہوں نے کہا کہ سیکرٹری جنرل نے فریقین کو شہریوں اور شہری ڈھانچے کے تحفظ سمیت بین الاقوامی انسانی قوانین کے احترام پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکرٹری جنرل نے اس بات کا اعادہ کیا کہ شام کے تنازعہ کا کوئی فوجی حل نہیں ہے لہذا استحکام کا واحد راستہ سیاسی حل ہے جو اقوام متحدہ کے تعاون سے سلامتی کونسل میں پیش کیا گیا۔