اسلام آباد ۔ 4 فروری (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام گزشتہ 70 سال سے اپنے حق خودارادیت کے حصول کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں، بھارت نے غیر قانونی اور ظالمانہ اقدامات کے ذریعے مقبوضہ کشمیر پر جابرانہ تسلط قائم کر رکھا ہے، پاکستان کشمیری عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا، بھارت انتہا پسندانہ …
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا یوم یکجہتی کشمیر کے حوالہ سے سیمینار سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 4 فروری (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام گزشتہ 70 سال سے اپنے حق خودارادیت کے حصول کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں، بھارت نے غیر قانونی اور ظالمانہ اقدامات کے ذریعے مقبوضہ کشمیر پر جابرانہ تسلط قائم کر رکھا ہے، پاکستان کشمیری عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا، بھارت انتہا پسندانہ ہندوتوا سوچ کے نرغے میں ہے اور آگ سے کھیل رہا ہے، عالمی برادری مقبوضہ کشمیر کے عوام کو ان کا حق خودارادیت دلانے اور بھارت کے اندر مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک بند کرانے کیلئے کردار ادا کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں ایوان صدر میں یوم یکجہتی کشمیر کے حوالہ سے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار سے وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈا پور اور کشمیر کمیٹی کے چیئرمین سید فخر امام نے بھی خطاب کیا۔ وفاقی وزرائ، ارکان پارلیمنٹ ، غیر ملکی سفارتکاروں اور دیگر نمایاں شخصیات بھی اس موقع پر موجود تھیں۔ صدر مملکت نے یوم یکجہتی کشمیر کی مناسبت سے سیمینار کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے اور عالمی برادری کو بھارتی مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ 70 سال سے جاری ظلم و استبداد کے بارے میں آگاہی دینے میں مدد ملے گی۔ صدر مملکت نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام اپنے حق خودارادیت کے حصول کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں اور اس مقصد کیلئے قربانیاں دے رہے ہیں، انہیں ان کے اس حق سے محروم رکھنے کیلئے بھارت نے مظالم کی انتہا کر دی ہے، مقبوضہ کشمیر کے عوام پر بے رحمانہ انداز میں پیلٹ گنز کا استعمال کیا گیا ہے، آج ہمارے یہاں جمع ہونے کا مقصد مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حوالے سے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ کشمیر پر بھارتی قبضے کیلئے شروع سے ہی پاکستان کیخلاف سازشیں کی گئیں، گرداس پور کو تقسیم کے اصول کے تحت مسلمان اکثریتی علاقہ ہونے کی حیثیت سے پاکستان میں شامل کرنے کی بجائے کشمیر پر تسلط کیلئے بھارت میں شامل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے اقوام متحدہ میں کشمیری عوام کو حق خودارادیت دینے کا وعدہ کیا تھا، عالمی برادری کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق انہیں ان کا حق خودارادیت دلانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔ صدر مملکت نے کہا کہ بھارت پر آج انتہا پسندانہ ہندوتوا سوچ کا غلبہ ہے، بھارت آگ کے ساتھ کھیل رہا ہے اور اس بات کا اعتراف خود بھارت کے اندر بھی کیا جا رہا ہے۔ 80ءکی دہائی میں سکھوں جبکہ بعد ازاں گجرات میں ریاستی سرپرستی میں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا۔ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک اختیار کیا گیا ہے، بھارتی شہریت کے قانون میں حالیہ ترمیم اس کی واضح مثال ہے جس کا نشانہ بنیادی طور پر مسلمانوں کو بنایا گیا ہے۔ کشمیر کے علاوہ بھارت کے اندر بھی اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں کو انتہا پسندانہ رویوں کا سامنا ہے جبکہ احتجاج کا بنیادی حق استعمال کرنے والوں پر بھی جبر کیا جا رہا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ کشمیریوں پر عائد کرفیو اٹھایا جائے، لوگوں کو آمدورفت کی اجازت دی جائے، انٹرنیٹ سمیت مواصلات کے رابطے بحال کئے جائیں، عالمی میڈیا، ارکان پارلیمنٹ اور اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ کو مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ دنیا پر حقائق واضح ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے انتہا پسندانہ رویئے سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں، پاکستان پر الزام تراشیاں کا سلسلہ بند ہونا چاہئے۔ صدر مملکت نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو ان کا حق خودارادایت ملنا چاہئے، آج عالمی سیاست میں اصولوں اور اخلاقیات کی بجائے پیسہ اور تجارت زیادہ اہم ہے جس کی وجہ سے مظالم کیخلاف آواز نہیں اٹھائی جا رہی۔ صدر مملکت نے سیمینار میں موجود غیر ملکی سفارتکاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو معاشی مفادات کیلئے اخلاقیات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ پاکستان مقبوضہ کشمیر کے عوام کی جدوجہد آزادی کی اخلاقی و سفارتی حمایت جاری رکھے گا اور دنیا کو ان کے خلاف ہونے والے مظالم کے بارے میں احساس دلاتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد بھارت کو امن کا پیغام دیا لیکن اس جانب سے اس کا مثبت جواب نہیں دیا گیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ وزیراعظم نے خود کو کشمیریوں کا سفیر قرار دیا اور ان کا پیغام پوری دنیا میں پہنچایا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ان کی تقریر اس حوالے سے شاندار تھی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں ہندوتوا سوچ کے تحت انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، یورپی یونین کی قرارداد سے بھارت پر دباﺅ بڑھے گا، سفارتکار اس حوالے سے اپنا کردار ادا کریں۔ صدر مملکت نے کہا کہ بھارت کے جارحانہ اقدامات کی وجہ سے دو جوہری طاقتیں جنگ کے انتہائی قریب آ گئی تھیں، اس صورتحال میں پاکستان نے امن کا حامی ملک ہونے کی حیثیت سے ذمہ دارانہ کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی حمایت میں قانونی اور سفارتی جنگ جاری رکھے گا۔ 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر پر اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ بھرپور انداز میں یکجہتی کا اظہار کرینگے، ہم کشمیر کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔ اس موقع پر صدر مملکت نے ”کشمیر بنے گا پاکستان“ کا نعرہ بھی لگایا۔ قبل ازیں وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین خان گنڈاپور نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت خطہ میں دہشت گردی پھیلا رہا ہے، بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں 80 لاکھ کشمیریوں کو محصور کر رکھا ہے اور وادی کو دنیا کی بڑی جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کا تنازعہ 70 سالہ دیرینہ ہے اور مسئلہ کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں، مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے قراردادوں کو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جا سکتا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ 70 برس سے بھارتی افواج اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کر رہی ہیں اس دوران ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں کو شہید کیا گیا، اب تک پیلٹ گن کے استعمال سے 30 ہزار سے زائد کشمیریوں کو نشانہ بنایا گیا، بھارت نے مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں پر زمین تنگ کر دی ہے اور انہیں آئے روز مظالم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر کشمیر کمیٹی کے چیئرمین فخر امام نے اپنے خطاب میں کشمیری عوام پر ہونے والے مظالم کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ 70ءسال گزرنے کے باوجود کشمیریوں کی مشکلات کم نہیں ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے جابرانہ طریقوں سے مقبوضہ کشمیر کے عوام کو حق خودارادیت سے محروم رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل طلب ہے، عالمی برادری اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری اپنے حق خودارادیت کے حصول کیلئے پرعزم ہیں اور پاکستان ان کی سیاسی، اخلاقی و سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ سیمینار میں وفاقی وزیر غلام سرور، زبیدہ جلال، وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، ارکان پارلیمنٹ اور سفارتکاروں کے علاوہ دیگر نمایاں شخصیات بھی موجود تھیں۔








