اسلام آباد ۔ 10 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے ایوان بالا کی فنکشنل کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقہ جات کو آگاہ کیا ہے کہ ملک میں کھیلوں کے فروغ کیلئے موثر اقدام اٹھانے کی اشد ضرورت ہے، پسماندہ علاقوں کے حوالے سے ہر پہلو کو مدنظر رکھا جائے مگر بد قسمتی کی بات ہے کہ صوبے این ایف سی کا 10فیصد …
وفاقی وزیر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کا سینیٹ فنکشنل کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقہ جات اجلاس میں گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 10 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے ایوان بالا کی فنکشنل کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقہ جات کو آگاہ کیا ہے کہ ملک میں کھیلوں کے فروغ کیلئے موثر اقدام اٹھانے کی اشد ضرورت ہے، پسماندہ علاقوں کے حوالے سے ہر پہلو کو مدنظر رکھا جائے مگر بد قسمتی کی بات ہے کہ صوبے این ایف سی کا 10فیصد پسماندہ علاقوں پر خرچ نہیں کرتے، سپورٹس فیڈریشنز آزاد ادارے بن چکے ہیں، صوبوں اور فیڈریشنز سے پوچھا جائے کہ پسماندہ علاقوں میں کھیلوں کے فروغ کے لئے کیا اقدام اٹھائے گئے ہیں۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ کوئٹہ، چمن، فاٹا اور بدین میں بین الاقوامی معیار کے سٹیڈیم بنائے جائیں اور جلد سے جلد کوئٹہ اور پشاور میں اکیڈمیاں قائم کی جائیں۔ ایوان بالا کی فنکشنل کمیٹی برائے کم ترقی یا فتہ علاقہ جات کے مسائل کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد عثمان خان کاکڑ کی زیر صدارت پارلیمنٹ لاجز میں منعقد ہوا۔ فنکشنل کمیٹی کے اجلاس میں 16مئی 2017کو منعقد ہونے والے کمیٹی اجلاس کی سفارشات پر عملدرآمد کے علاوہ ملک میں فٹ بال کھیل کے فروغ اور خاص طور پر پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں کو قومی ٹیم میں نظر انداز کرنے، چمن، کوئٹہ اور پشاور میں فٹ بال اسٹیڈیم اور فٹ بال اکیڈمیز قائم کرنے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں پی ایس ایل کی طرح فٹ بال کیلئے سپر لیگ کے پروگرام اور ملک کے پسماندہ علاقوں میں فٹ بال کے فروغ کیلئے منصوبہ بندی کی ضرورت پرزور دیا اور کہا کہ پی ایس ایل میں پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں کو شامل نہ کرنے کا جائزہ لیا جائے۔ اجلاس میں مقامی اور روایتی کھیلوں کے پسماندہ علاقوں میں فروغ کے علاوہ پاکستان سپورٹس بورڈ کے مستقل کنٹریکٹ اور ڈیپوٹیشن، ملازمین ان کے گریڈ اور ڈومیسائل کی بنیاد پر تفصیلات کے معاملات کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد عثمان خان کاکڑنے کہا کہ چیئرمین پی سی بی احسان مانی کمیٹی اجلاس میں شرکت نہیں کرتے انہیں پارلیمنٹ کی کمیٹیوں کو اہمیت دینی چاہئے، اگر وہ آئندہ اجلاس میں شریک نہ ہوئے تو انہیں نوٹس جاری کیا جائے گا۔ قائمہ کمیٹی کو 16مئی 2017میں منعقد ہونے والے کمیٹی اجلاس میں دی گئی سفارشات پر عملدرآمد بارے تفصیل سے بھی آگاہ کیا گیا۔ ڈائریکٹر ڈومسٹک کرکٹ ہارون رشید نے فنکشنل کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ڈومسٹک کرکٹ کے سٹرکچر کو تبدیل کر رہا ہے۔ پی سی بی کے نئے آئین پر عمل کرتے ہوئے ملک میں قائم 16ریجنل کرکٹ ایسوسی ایشنز کو ختم کر کے 6 نئی کرکٹ ایسوسی ایشنز بنا لی گئی ہیں، اس سٹرکچر کے تحت سٹی کرکٹ ایسوسی ایشن کو خود مختاری دی گئی ہے اور بلوچستان کرکٹ ایسوسی ایشن میں 13شہروں کی کرکٹ ایسوسی ایشنز شامل کی گئی ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے شہروں کی تفصیلات طلب کر لیں۔ سیکرٹری آئی پی سی نے فنکشنل کمیٹی کو بتایا کہ کمیٹی کی سفارشات کے مطابق کم ترقی یافتہ علاقہ جات کے ٹیلنٹ کو فروغ دے کر آگے لانے کا منصوبہ تھا مگر 18ویں ترمیم کے بعد سپورٹس صوبوں کا معاملہ ہے، وفاق مداخلت نہیں کر سکتا اور وزارت صرف ماحول فراہم کر سکتی ہے تاکہ بہترین ٹیلنٹ کو سامنے لایا جا سکے جبکہ سٹرکچر بنانا صوبوں کا کام ہے۔ وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا کہ ملک میں کھیلوں کے فروغ کیلئے موثر اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پسماندہ علاقوں کے حوالے سے ہر پہلو کو مدنظر رکھا جائے، بدقسمتی کی بات ہے کہ صوبے این ایف سی کا 10 فیصد پسماندہ علاقوں پر خرچ نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ سپورٹس فیڈریشنز آزاد ادارے بن چکے ہیں اور سپورٹس میں اس مافیا نے جتنا نقصان پہنچایا ہے ا±س کی مثال نہیں ملتی اب ایک غیر جانبدار کمیٹی بنی ہے جو معاملات کا جائزہ لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں اور فیڈریشنز سے پوچھا جائے کہ پسماندہ علاقوں میں کھیلوں کے فروغ کے لئے کیا اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد عثمان خان کاکڑنے کہا کہ پشاور اور کوئٹہ میں کرکٹ اکیڈمیز بنانے کی سفارش کی گئی تھی مگر ا±س پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے پسماندہ علاقوں خاص کر کوئٹہ، چمن، نوشکی، لورالائی اور کراچی کے علاقے لیاری میں فٹ بال کے نامور کھلاڑی موجود ہیں جو بین الااقومی معیار کے ہیں مگر ان علاقوں میں ٹیلنٹ کو مزید بہتر کرنے کیلئے نہ ہی سٹیڈیم موجود ہیں نہ اکیڈمیاں بنائی گئی ہیں اور کوچ تک بھی دستیاب نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فٹ بال والے اپنی مراعات کے لئے لڑتے ہیں مگر اس کھیل کے فروغ کیلئے اقدامات نہیں اٹھاتے۔ فنکشنل کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ کوئٹہ، چمن، فاٹا اور بدین میں بین الاقوامی معیار کے سٹیڈیم بنائے جائیں اور جلد سے جلد کوئٹہ اور پشاور میں اکیڈمیاں قائم کی جائیں۔ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کی نااہلی کی وجہ سے سیف گیمز اور نیشنل گیمز میں فٹ بال سمیت دیگر کھیلوں کو بھی شامل نہیں کیا گیا حالانکہ پاکستان کی فٹ بال ٹیم اس خطے کی بہترین ٹیم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں قائم فیڈریشنز بیرونی فنڈنگ حاصل کرکے اپنے آپ کو جوابدہ نہیں سمجھتیں جس پرچیئرمین کمیٹی سینیٹرمحمد عثمان خان کاکڑ نے فیفا سے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ملنے اور خرچ ہونے والی فنڈنگ کی تفصیلات طلب کر لیں۔ فنکشنل کمیٹی کو بتایا گیا کہ فٹ بال ایسوسی ایشن کا گزشتہ ریکارڈ فراہم نہیں کیا جا رہا آڈٹ رپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے نئی فنڈنگ میں بھی دشواری پیدا ہو رہی ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ارباب نیاز سٹیڈیم تکمیل کے مراحل میں ہے، کوئٹہ سٹیڈیم کے لئے تین اجلاس ہو چکے ہیں۔ بگٹی سٹیڈیم میں کھیلوں کے بہترین پروگرام منعقد کرائے گئے ہیں، بلوچستان میں گیارہ سال بعد کھیلیں شروع کی گئی ہیں۔ کرکٹ ٹیم میں میرٹ کی بنیاد پر بلا امتیاز کھلاڑیوں کو منتخب کیا جا تا ہے جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ کھلاڑیوں کا انتخاب میرٹ پر نہیں کیا جا رہا، رشوت لے کر لوگوں کو منتخب کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل کی ٹیمیں جن علاقوں کے نام بنائی جاتی ہیں ا±سی علاقے کے کھلاڑیوں کو شامل نہیں کیا جاتا۔ ایک اصول بنایا جائے کہ 51 فیصد اسی کھلاڑی اسی علاقے سے شامل کئے جائیں۔ پسماندہ علاقوں کے اضلاع میں سپورٹس کی سہولیات یقینی بنائی جائیں تاکہ ان علاقوں سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی ملکی و بین الاقوامی سطح پر اپنا ٹیلنٹ دیکھا سکیں۔ کرکٹ ٹیم میں کھلاڑیوں کا انتخاب میرٹ کی بنیاد پر کیا جائے اور ملک بھر میں ٹورنامنٹ کر ا کر ٹیلنٹ کو اجاگر کیا جائے۔ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے فنکشنل کمیٹی کو بتایا کہ ملک میں کھیلوں کے فروغ کیلئے پورے سٹرکچر کا جائزہ لیا جا رہا ہے، ماضی میں سیاسی بنیادوں پردھڑا دھڑ بھرتیاں کی گئیں جس کی وجہ سے انفراسٹرکچر کی بجائے تنخواہوں کی مد میں بجٹ ختم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سپورٹس بورڈمیں 472 مستقل 7کنٹریکٹ ملازمین ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے پی ایس بی میں صوبائی کوٹے کے مطابق بھرتیاں نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ کوٹے کے مطابق بھرتیاں کی جائیں۔ چیئرمین کمیٹی نے سیف گیمز اور نیشنل گیمز میں فٹ بال و دیگرڈومسٹک کھیلوں کو شامل نہ کرنے پر بھی برہمی کے اظہار کیا۔ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز سردار محمد شفیق ترین اور گیان چند کے علاوہ وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، سیکرٹری بین الصوبائی رابطہ علی محمد شہزادہ، ڈائریکٹر ڈومسٹک کرکٹ ہارون رشید، قائم مقام جنرل سیکرٹری فیفا و دیگر حکام نے شرکت کی۔








