اسلام آباد ۔ 12 فروری (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی کا سٹریٹجک پلان2019-23ءمقننہ کو غربت‘ بیروزگاری اور افراط زر جیسے مسائل کو حل کرنے میں مدد دے گا جبکہ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا کہنا تھا کہ میں صرف پی ٹی آئی کا سپیکر نہیں بلکہ پورے ایوان کا کسٹوڈین ہوں‘ موثر قانون سازی کا مقصد عوام کو ریلیف دینا …
قومی اسمبلی کا سٹریٹجک پلان2019-23ءمقننہ کو غربت‘ بیروزگاری اور افراط زر جیسے مسائل کو حل کرنے میں مدد دے گا ، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا پلان کی رپورٹ کے اجراءکے موقع پر پیغام

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 12 فروری (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی کا سٹریٹجک پلان2019-23ءمقننہ کو غربت‘ بیروزگاری اور افراط زر جیسے مسائل کو حل کرنے میں مدد دے گا جبکہ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا کہنا تھا کہ میں صرف پی ٹی آئی کا سپیکر نہیں بلکہ پورے ایوان کا کسٹوڈین ہوں‘ موثر قانون سازی کا مقصد عوام کو ریلیف دینا ہے اور پارلیمنٹ کے ذریعے ہی عوامی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ وہ بدھ کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پارلیمنٹری سروسز میں قومی اسمبلی سٹریٹجک پلان 2019-23ءکی رپورٹ کے اجراءکے موقع پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اپنے جاری ویڈیو پیغام میں قومی اسمبلی کے ارکان کی قانون سازی کی صلاحیتوں میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ پی اے سی کے ارکان کی بھی تربیت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سٹریٹجک پلان مقننہ کی غربت‘ بیروزگاری اور افراط زر جیسے مسائل کو حل کرنے میں مدد دے گا۔ بعد ازاں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ سٹریٹجک پلان سے قانون سازی کا عمل اور نگرانی بہتر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹیوں کے ارکان کی استعداد کار میں اس سے اضافہ ہوگا۔ سپیکر نے کہا کہ مختلف شعبوں کے ماہرین کو قائمہ کمیٹیوں کے ساتھ منسلک کیا جائے گا تاکہ ان کی کارکردگی میں بہتری آسکے۔ سپیکر نے کہا کہ ہم نے اسمبلی سیکرٹریٹ کے ملازمین کی استعداد کار میں اضافے کے لئے ان کی ترقیوں میں میرٹ کو بنیاد بنایا ہے اور ہم نے 300 اسمبلی ملازمین کو ترقی دی ہے۔ سپیکر نے کہا کہ ہم نے پارلیمانی سفارتکاری کا آغاز کیا ہے۔ بین الپارلیمانی یونین ‘ دولت مشترکہ سمیت بڑے بڑے فورمز پر پاکستان کی موثر انداز میں ترجمانی کی ہے جس سے پاکستان کا تشخص بہتر ہوگا اور دنیا کے ساتھ تجارت بڑھانے کے مواقعوں میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی پارلیمانوں کے درمیان پارلیمانی سفارتکاری کے ذریعے فرینڈ شپس گروپ قائم کئے ہیں۔ جس سے یورپ ‘ افریقہ اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ روابط کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ فرینڈ شپ گروپس کے لئے ہم نے فنڈز بھی فراہم کردیئے ہیں۔ زراعت اور سی پیک کے حوالے سے قائم خصوصی کمیٹیاں موثر انداز میں کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پپس کو بطور ادارہ موثر بنانا چاہتے ہیں۔ سپیکر نے کہا کہ وہ صرف پی ٹی آئی کے سپیکر نہیں بلکہ پورے ایوان کے کسٹوڈین ہیں۔ موثر قانون سازی کا مقصد عوامی مفادات کا تحفظ اور ریلیف دینا ہے۔








