وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کی او پی ایف کالج میں چین میں رکے ہوئے طلباءو طالبات کے والدین کو بریفنگ

اسلام آباد ۔ 19 فروری (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ حکومت کو ووہان میں پھنسے پاکستانی طلباءکے والدین کی پریشانی کا بخوبی احساس ہے، اس معاملے پر کابینہ کے جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں غور کیا جائے گا، طلباءکی فوری واپسی کا فیصلہ نہ کرنے کی معقول وجوہات ہیں جن میں احتیاطی تدابیر بھی شامل ہیں۔ ان …

اسلام آباد ۔ 19 فروری (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ حکومت کو ووہان میں پھنسے پاکستانی طلباءکے والدین کی پریشانی کا بخوبی احساس ہے، اس معاملے پر کابینہ کے جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں غور کیا جائے گا، طلباءکی فوری واپسی کا فیصلہ نہ کرنے کی معقول وجوہات ہیں جن میں احتیاطی تدابیر بھی شامل ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو او پی ایف کالج میں چین میں رکے ہوئے طلباءو طالبات کے والدین کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ چین میں پھنسے طالب علموں کے معاملہ پر حکومت مسلسل غور کر رہی ہے کہ کس طرح طلباءکو محفوظ رکھا جا سکے، ہم نے اپنے ان طلباءاور قوم کو بھی محفوظ رکھنا ہے، ہم اگر فیصلہ کر لیں تو طلباءفوری واپس آ سکتے ہیں لیکن حکومت کے فیصلہ نہ کرنے کی وجوہات میں احتیاطی تدابیر بھی شامل ہیں۔ انہوں نے والدین کو آگاہ کیا کہ ابھی ان بچوں کی وطن واپسی فائدہ سے زیادہ نقصان کا سبب بن سکتی ہے کیونکہ یہ وائرس انسانوں دوسرے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے اس لئے جب مناسب ہو گا ان کو واپس لے آئیں گے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ حکومت کو احساس ہے کہ ہم کوئی بھی حکمتِ عملی تشکیل دیں تو اس پر والدین کو اعتماد میں لینا چاہئے، جب معاملہ اپنی اولاد کا ہو تو خواہش ہوتی ہے کہ وہ فوری ہمارے پاس ہوں، حکومت کی جانب سے کوئی بھی وضاحت آئے تو اس پر والدین کا اعتراض بجا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو بچوں کے والدین کی پریشانی کا ادراک ہے اور یہ بھی جانتے ہیں کہ انہیں مطم¿ن کرنا آسان نہیں، والدین کے تحفظات اپنی جگہ درست ہیں لیکن وہ چین میں اس وائرس سے ہونے والے نقصانات اور اس کی منتقلی کی صورتحال کو بھی پیش نظر رکھیں۔ اس موقع پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانیز سید ذوالفقار عباس بخاری نے کہا کہ ابھی تک اس وائرس کی تشخیص نہیں ہو سکی، ہم چاہتے ہیں کہ اپنے پاکستانی طلباءکی مشکلات کو کم کریں۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے ممالک اس مسئلہ کے حل کے لئے کوشاں ہیں لیکن ابھی تک کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی، ہمارے وہاں موجود پاکستانی محفوظ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سفارتخانے سے دو لوگوں کو ووہان جانے کی اجازت ملی ہے جو وہاں جا کر ان طلباءکو دی جانے والی سہولیات کا جائزہ لے رہے ہیں، پاکستان واحد ملک ہے جس نے یہ اقدام اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت ضروری ہے کہ ان طلباءکے والدین کے ہر سوال کا جواب دیا جائے، ہم اسی لیے یہاں آئے ہیں تاکہ آپ کو درپیش مشکلات کا ازالہ اور طلباءکے حوالے سے حکومتی منصوبے سے آگاہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ کئی ممالک کو اس حوالے سے لئے گئے اقدامات کا علم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب چینی سفیر سے ہماری بات ہوئی تو ہم نے انہیں بتایا کہ پاکستان پہلا ملک ہے جو ووہان جانا چاہتا ہے۔ ہمارے دو لوگوں کو وہاں جانے کی اجازت دی کہ یہ چیک اپ کے بغیر واپس نہیں آ سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے لوگ اس لیے ووہان بھیجے تاکہ وہ طلباءسے ملاقات کر کے صورتحال کا جائزہ لے سکیں، یہ دونوں حکام وہیں رہیں گے۔ اس موقع پر وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل مدثر ٹیپو نے کہا کہ ہمیں آپ کے 1200 سے زائد طلباءکی خود سے زیادہ فکر ہے۔ اس موقع پر والدین کی جانب سے ایک بار پھر یہ پیشکش کی کہ اگر ان کے بچے وطن واپس لائے جائیں تو ان کے تمام اخراجات خود برداشت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے بچوں کی وجہ سے شدید پریشانی لاحق ہے۔