وزیراعظم عمران خان بھارتی جارحیت کا ذمہ دارانہ اور بھرپور جواب دینے کا ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقدہ تقریب کے مہمان خصوصی ہوں گے

اسلام آباد ۔ 26 فروری (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان بھارتی جارحیت کا ذمہ دارانہ اور بھرپور جواب دینے کا ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقدہ تقریب کے مہمان خصوصی ہوں گے۔ مقبوضہ کشمیر میں پلوامہ واقعہ کے بعد پاکستان نے بھارت کے ساتھ ہر ممکنہ تعاون کیا، پاکستان نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ خطے میں جنگ نہین امن چاہتا ہے تاہم پاکستان …

اسلام آباد ۔ 26 فروری (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان بھارتی جارحیت کا ذمہ دارانہ اور بھرپور جواب دینے کا ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقدہ تقریب کے مہمان خصوصی ہوں گے۔ مقبوضہ کشمیر میں پلوامہ واقعہ کے بعد پاکستان نے بھارت کے ساتھ ہر ممکنہ تعاون کیا، پاکستان نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ خطے میں جنگ نہین امن چاہتا ہے تاہم پاکستان نے واضح کیا کہ کسی بھی جارحیت کی اجازت نہیں دی جائے گی اور حملہ آور کو مؤثر جواب دیا جائے گا ۔اس کے باوجود 26 فروری 2019ء کو بھارت کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی گئی اور پاکستانی علاقے کے اندر آ کر ہوائی حملہ کیا گیا پاکستان کی جانب سے بھارتی جارحیت کے خلاف اپنے مؤثر دفاع کے عزم پر عمل پیرا ہوتے ہوئے پاک فضائیہ نے دو بھارتی جنگی طیارے مار گرائے اور ایک بھارتی پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن ورتھمن کو گرفتار کرلیا ۔ اس پورے بحران کے دوران پاکستان کی مسلح افواج مکمل طور پر چوکس رہیں اور انٹر سروس ہم آہنگی کے اعلیٰ درجے کے ساتھ کام کیا۔ اس دورانیہ میں پاکستان نے ثابت کیا کہ وہ ایک قوم اور ایک روح ہیں۔ اس کی شہری اور عسکری قیادت نے وقار کے ساتھ امن کے قیام اور انتہائی ذمہ داری کا ثبوت دیا۔ امن کی خواہش کے پیش نظر پاکستان نے گرفتار پائلٹ ابھی نندن کو طبی سہولیات فراہم کیں اوراس کے ساتھ اپنی روایتی میزبانی کا برتائو کیا جبکہ رضاکارانہ طور پر اسے بھارتی حکام کے حوالے کیا۔ اس سارے عمل سے پاکستان کے اس عزم کا اعادہ ہوتا ہے کہ مادر وطن پر کسی قسم کی جارحیت برداشت نہیں کی جاتی۔ پاکستان کی مسلح افواج کسی بھی جارحیت سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے اور پوری طرح تیار ہیں۔ پاکستان ہمیشہ بقائے باہمی اور خطے میں امن کا خواہاں ہے اور خطے کے امن کو محفوظ بنانے کے راستے پر کاربند ہے۔ بھارت کے ساتھ امن کی خواہش کو پاکستان کی کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ یہ اقدام خطے کے عوام کو غربت سے نکالنے ، ان کی ترقی و خوشحالی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ پاکستان امن کا شراکت دار ہے اور اس کی تزویراتی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔