اسلام آباد ۔ 26 فروری (اے پی پی)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات خطہ میں امن کیلئے خطرہ ہیں،مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے پوری قوم ہم آواز ہے۔دہشت گردی کو شکست دینے پر قوم کو اپنی افواج پر فخر ہے۔پاکستان حق خود اردایت کے حصول تک کشمیری عوام کی سیاسی،سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔وہ بدھ کو بھارتی جارحیت کا ایک سال …
بھارت کے یکطرفہ اقدامات خطہ میں امن کیلئے خطرہ ہیں،مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے پوری قوم ہم آواز ہے،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا بھارتی جارحیت کا ایک سال مکمل ہونے پر منعقدہ تقریب سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 26 فروری (اے پی پی)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات خطہ میں امن کیلئے خطرہ ہیں،مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے پوری قوم ہم آواز ہے۔دہشت گردی کو شکست دینے پر قوم کو اپنی افواج پر فخر ہے۔پاکستان حق خود اردایت کے حصول تک کشمیری عوام کی سیاسی،سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔وہ بدھ کو بھارتی جارحیت کا ایک سال مکمل ہونے پر منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔وزیراعظم عمران خان تقریب کے مہمان خصوصی تھے جبکہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ایئر چیف مجاہد انور خان ،وفاقی وزرائ، اعلیٰ سول و عسکری حکام بھی تقریب میں شریک تھے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ 26 فروری 2019ءکے بھارتی جارحانہ اقدام کے خلاف پاکستان نے انتہائی ذمہ داری اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور 27فروری کو بھارتی جارحیت کا موثر جواب دیا۔وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان تمام ہمسایہ ملکوں کیساتھ امن کا خواہاں ہے لیکن ملکی دفاع پر کوئی سودے بازی نہیں کی جائیگی۔پاکستان پر امن ملک ہے اور کسی سے جنگ نہیں چاہتا لیکن ہمارا پہلا پیغام تھا کہ بھارت کسی بھی جارحیت کے بارے میں نہ سوچے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی پائلٹ واپس کرنے کے وزیراعظم کے اقدام کو دنیا بھر میں سراہا گیا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دنیا دیکھ رہی ہے کہ پاکستان کرتار پور راہدری کھول رہا ہے اور بھارت نے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا ہے اور مساجد کی بے حرمتیاں کی جارہی ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن کیلئے تعاون کر رہا ہے،پاکستان کا ابتداء ہی سے یہ موقف تھا کہ افغان تنازعہ کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں۔پاکستان نے افغان امن عمل میں بھر پور سہولت کاری کا کردار ادا کیا جسے عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے بابری مسجد کو شہید کیا اور پاکستان نے کرتارپور راہداری تعمیر کی،گذشتہ 48 گھنٹے کے دوران نئی دہلی فسادات کی زد میں ہے۔ کشمیر سے متعلق وزیر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر عالمی سطح پر ایک تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے۔مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے پوری قوم ہم آواز ہے۔حکومتیں اور اداروں کے سربراہ تبدیل ہوتے رہتے ہیں مگر کشمیر پر مو¿قف ایک ہے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست 2019ءکے بھارتی اقدامات غیر قانونی ہیں۔موجودہ حکومت نے مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور حکومتی کوششوں سے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے مقبوضہ وادی پر دو رپورٹس جاری کیں جبکہ یورپی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بحث کی گئی۔امریکی کانگرس میں بھی دو بار زیر بحث لا یا گیا۔بھارت کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی تحریک کو دبانے میں ناکام رہا۔وزیر خارجہ نے سوال اٹھایا کہ کیا دو ایٹمی قوتیں مسئلہ کشمیر کے عسکری حل کے بارے میں سوچ سکتی ہیں؟۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات خطہ کے امن کیلئے خطرہ ہیں۔








