اسلام آباد ۔ 26 فروری (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے بھارت کی سرزمین پر پاکستان کی وکالت کی، امریکہ کے ساتھ تعلقات میں پیشرفت ہماری کامیاب سفارتکاری کا نتیجہ ہے، امریکی سیکرٹری تجارت ولبرراس صدر ٹرمپ کی ہدایت پر پاکستان آئے، امریکہ پاکستان میں 14 شعبوں میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے، 27 فروری کو ہم نے بردباری …
امریکی صدر ٹرمپ نے بھارت کی سرزمین پر پاکستان کی وکالت کی، امریکہ کے ساتھ تعلقات میں پیشرفت ہماری کامیاب سفارتکاری کا نتیجہ ہے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی پریس کانفرنس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 26 فروری (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے بھارت کی سرزمین پر پاکستان کی وکالت کی، امریکہ کے ساتھ تعلقات میں پیشرفت ہماری کامیاب سفارتکاری کا نتیجہ ہے، امریکی سیکرٹری تجارت ولبرراس صدر ٹرمپ کی ہدایت پر پاکستان آئے، امریکہ پاکستان میں 14 شعبوں میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے، 27 فروری کو ہم نے بردباری اور ذمہ داری سے بھارتی جارحیت کا جواب دیا، سی پیک پاکستان کے مفاد میں ہے، جاری رہے گا۔ وزیر خارجہ نے بدھ کو وزارت خارجہ میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ امریکی سیکرٹری تجارت ولبرراس صدر ٹرمپ کی ہدایت پر دلی سے پاکستان آئے ہیں، ان کے دورے کا مقصد پاکستان کے ساتھ تجارتی و اقتصادی تعلقات میں تیزی لانے کیلئے راہ ہموار کرنا تھا۔ ولبرراس نے وفاقی وزراءتجارت، زراعت، توانائی اور منصوبہ بندی سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں تجارتی، اقتصادی تعلقات اور سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافہ سے متعلق امور زیر بحث لائے گئے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ جب ہماری حکومت برسر اقتدار آئی تو امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات انتہائی مخدوش تھے تاہم موجودہ حکومت کی کوششوں سے پاک۔امریکہ تعلقات میں ایک نئے باب کا اضافہ ہو رہا ہے، برطانیہ کے بعد امریکہ کی جانب سے بھی ٹریول ایڈوائزری پر واضح مو¿قف جلد آنے والا ہے جو امریکی رویہ میں واضح تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، یہ سب کچھ ہماری کاوشوں سے ہوا ہے، آج ہندوستان کی سرزمین پر امریکی صدر ٹرمپ نے برملا پاکستان اور وزیراعظم عمران خان کے ساتھ خوشگوار تعلقات کا ذکر کیا، امریکی صدر نے بھارتی سرزمین پر کشمیر کا مسئلہ اٹھایا اور ثالثی کی پھر پیشکش کی، یہ ہماری کامیاب سفارتکاری کا نتیجہ ہے اور ہماری سفارتکاری آہستہ آہستہ اپنا رنگ دکھا رہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جو کچھ دہلی میں ہو رہا ہے پوری دنیا اسے دیکھ رہی ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم کا سلسلہ اب دہلی تک پہنچ چکا ہے اور آر ایس ایس کے غنڈے مسجدوں پر جھنڈے گاڑ اور جلاﺅ گھیراﺅ کر رہے ہیں جو حیران کن ہے اور سیکولر ریاست کے ماتھے پر ایک بد نما داغ ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ عالمی برادری اور امت مسلمہ کو اس کا فوری نوٹس لینا چاہئے۔ انہوں نے 26 فروری 2019ءکو بھارتی جارحیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے 27 فروری کو بردباری اور ذمہ داری سے بھارتی جارحیت کا جواب دیا اور ہماری ایئر فورس نے بھارت کے دو جنگی طیاروں کو مارا گرایا اور بھارتی پائلٹ کو گرفتار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں جبکہ پاکستان کی پارلیمان نے سیاسی اختلافات کا بالائے طاق رکھتے ہوئے 5 اگست 2019ءکے بعد متفقہ قرارداد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی افواج پر فخر ہے۔ افغانستان سے متعلق انہوں نے کہا کہ امریکہ نے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان افغان مسئلہ کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، پاکستان نے طالبان اور امریکہ کے مابین امن عمل میں سہولت کاری کا کردار ادا کیا اور ہماری خواہش ہے کہ انٹرا افغان ڈائیلاگ کا مرحلہ جلد شروع ہو کیونکہ یہ مسئلہ اب افغان حکومت اور عوام نے حل کرنا ہے، ملک اور مستقبل ان کا ہے، ہم نے دوٹوک فیصلہ کیا ہے، افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے، افغان صدارتی انتخاب میں ہم نے ان کے تقاضے پورے کئے لیکن مداخلت نہیں کی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکی سیکرٹری تجارت ولبرراس امریکی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے پر راغب کریں گے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ولبرراس نے ان شعبوں کی نشاندہی کی جہاں سرمایہ کاری کے مواقع کو بروئے کار لایا جا سکتا ہے، پاکستان نے مشکل حالات میں اپنے آپ کو اقتصادی لحاظ سے مستحکم کر لیا ہے اور ہم بڑھوتری کی جانب گامزن ہیں۔ سی پیک سے متعلق وزیر خارجہ نے کہا کہ سی پیک پاکستان کے مفاد میں ہے اور یہ منصوبہ جاری رہے گا، امریکہ یا دیگر ممالک اس منصوبہ میں سرمایہ کاری کریں تو ان کو خوش آمدید کہیں گے، یہ منصوبہ کسی کے خلاف نہیں ہے، اس سے علاقائی روابط میں تیزی آئے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان (آج) جمعرات کو قطر کے دورہ پر روانہ ہو رہے ہیں جہاں وہ امیر قطر سے ملاقات کریں گے۔








