اسلام آباد ۔ 27 فروری (اے پی پی) فیڈرل بورڈ آف ریوینیو )ایف بی آر)نے پریس کے بعض حصوں میں چھپنے والی خبرجس میں کہا گیا ہے کہ' ایف بی آر نے آٹھ ماہ میں اکٹھے ہونے والے 100ارب کے ریفینڈز تاحال جاری نہیں کئے 'پر وضاحت کی کہ اینکسچرایچ پر درج شدہ ریفینڈز کے کیسز 37 ارب روپے پر مشتمل ہیں جن میں سے 29.5 ارب کے ریفینڈز جاری …
ایف بی آر کی 100ارب کے ریفینڈز تاحال جاری نہ کئے جانے کی شائع شدہ خبر کی وضاحت اور تردید 37 ارب روپوں پر مشتمل ریفینڈز میں سے 29.5 ارب روپے کے ریفینڈز جاری کر دئیے گئے ہیں، ترجمان

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 27 فروری (اے پی پی) فیڈرل بورڈ آف ریوینیو )ایف بی آر)نے پریس کے بعض حصوں میں چھپنے والی خبرجس میں کہا گیا ہے کہ’ ایف بی آر نے آٹھ ماہ میں اکٹھے ہونے والے 100ارب کے ریفینڈز تاحال جاری نہیں کئے ‘پر وضاحت کی کہ اینکسچرایچ پر درج شدہ ریفینڈز کے کیسز 37 ارب روپے پر مشتمل ہیں جن میں سے 29.5 ارب کے ریفینڈز جاری کر دئیے گئے ہیں۔ باقی ماندہ ریفنڈز کے کیسز کو غلط ڈیٹا داخل کرنے کی بناء پر جاری نہیں کیا گیا۔یہ وضاحت ترجمان ایف بی آر نے جمعرات کو یہاں جاری بیان میں کی ہے ۔اسی طرح ایف بی آر نے ایک اور خبرجس میں کہا گیا ہے کہ’ سیلز ٹیکس جمع کرنے میں دو ہندسی کمی آئی ہے’ پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اندرونی ذرائع سے حاصل کردہ سیلز ٹیکس میں فروری 2020 سے اب تک 32.5 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ سیلز ٹیکس میں مجموعی اضافہ 24 فیصد ہے جو کہ جنوری تک کے 24.6 فیصد شرح نمو کے برابر ہے لہذا اس حوالے سے چھپنے والی خبریں بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔








