وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو

اسلام آباد ۔ یکم مارچ (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان نے امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے میں سہولت کاری کا کردار ادا کیا ہے، ہم کسی قسم کی گارنٹی کا حصہ نہیں ہیں اور پاکستان چاہتا ہے کہ امن کا عمل آگے بڑھے۔ اتوار کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ …

اسلام آباد ۔ یکم مارچ (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان نے امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے میں سہولت کاری کا کردار ادا کیا ہے، ہم کسی قسم کی گارنٹی کا حصہ نہیں ہیں اور پاکستان چاہتا ہے کہ امن کا عمل آگے بڑھے۔ اتوار کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات آسان نہیں تھے، اللہ کا شکر ہے کہ فریقین کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے، توقع ہے کہ افغانستان کی قیادت ملک کے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے آگے بڑھے گی۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ انٹرا افغان ڈائیلاگ کی اگلی نشست میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے، ڈائیلاگ میں قیدیوں کی رہائی زیر بحث آئے گی، قیدیوں کی رہائی جتنی جلدی ہو گی اتنا ہی اعتماد بڑھے گا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ معاہدے کے اندر طے ہے کہ 135 دنوں میں افغانستان سے فوجیوں کا پہلا انخلاءہونا ہے اور باقی اگلے ساڑھے نو ماہ میں واپس گھروں کو لوٹیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انٹرا افغان ڈائیلاگ سے پاکستان کا کوئی لینا دینا نہیں ہے، اب افغانیوں نے خود اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے کہا ہے کہ کچھ لوگ خطے میں امن نہیں چاہتے، امن کا پہلا مرحلہ طے ہوا ہے اور بلاشبہ اگلے مرحلے میں بھی مشکلات کا سامنا ہو گا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانیوں نے 20 سال کی جنگ اور خون خرابہ دیکھا ہے، یقیناً افغانی عوام امن چاہتی ہے اسلئے افغانستان کی قیادت کو اپنی ذات سے بالاتر ہو کر عوام کا سوچنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ انٹرا افغان ڈائیلاگ کیلئے افغان صدر اشرف غنی کی ذمہ داری ہے کہ وہ مذاکرات کاروں کی لسٹ تیار کریں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان سے مذاکرات کا اہم فیصلہ کیا، امریکہ نے افغان جنگ میں جانی و مالی نقصان اٹھایا، ہماری خواہش ہے کہ افغان امن عمل پایہ تکمیل تک پہنچے اور عالمی برادری کو بھی افغانستان میں امن عمل کو سپورٹ کرنا چاہیے۔