اسلام آباد ۔ 11 مارچ (اے پی پی) سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی مشتاق احمد غنی نے کہا ہے کہ نئی نسل ہمارے ملک کا روشن مستقبل ہے ان کے حقوق کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے، عوامی نمائندے جنسی تشدد کی روک تھام کیلئے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو اسلامی نظریاتی کونسل میں بچوں پر جنسی تشدد کے سدباب کے حوالہ سے …
بچوں پر جنسی تشدد کے انسداد کیلئے ماڈل کورٹس بنانے کی ضرورت ہے، ڈاکٹر قبلہ ایاز

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 11 مارچ (اے پی پی) سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی مشتاق احمد غنی نے کہا ہے کہ نئی نسل ہمارے ملک کا روشن مستقبل ہے ان کے حقوق کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے، عوامی نمائندے جنسی تشدد کی روک تھام کیلئے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو اسلامی نظریاتی کونسل میں بچوں پر جنسی تشدد کے سدباب کے حوالہ سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مشتاق غنی نے کہا کہ اسلامی ملک میں بچوں پر جنسی تشدد کے واقعات رونما ہونا ہمارے معاشرے کی بے حسی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے بچے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں ان کے حقوق کے تحفظ کےلئے ہماری صوبائی اور وفاقی حکومت ٹھوس اقدامات کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں بچوں پر جنسی تشدد کو روکنے اور واقعہ میں ملوث ملزمان کو قرار واقعی سزا دینے کےلئے مو¿ثر قانون سازی کی جا رہی ہے اور حوالہ سے قوانین میں سخت ترامیم کی گئی ہیں تاکہ اس منفی سوچ کے حامل افراد کی اصلاح کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی منتخب نمائندے بچوں پر جنسی تشدد کے واقعات کو روکنے کےلئے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اور عوام میں مو¿ثر انداز سے شعور پیدا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے عدالتی نظام میں بھی جنسی تشدد کے مقدمات کو تیزی سے نمٹایا جانا چاہئے تاکہ ان واقعات کو بروقت روکنے کے ساتھ اصلاح کا عمل بھی شروع ہو سکے۔ مشتاق غنی نے کہا کہ ہمارا یہ بھی مطالبہ ہے کہ جنسی تشدد کے واقعات میں ملوث ملزمان کو سرعام پھانسی دی جائے۔ اس موقع پر اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ بچوں پر جنسی تشدد کے انسداد کیلئے ماڈل کورٹس بنانے کی ضرورت ہے جہاں پر سزا پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس بچوں پر جنسی تشدد کے جرم کی سنگینی سے آگاہ نہیں ہے اس حوالہ سے خصوصی سیل قائم کئے جائیں جہاں تربیت یافتہ پولیس اہلکار مقدمات کا جائزہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں نسل پرستی کے فسادات سے نمٹنے کیلئے خصوصی عدالتیں قائم کی گئی تھیں اور خصوصی عدالتوں نے دن رات سماعتیں کیں جس سے نسلی فسادات ختم ہو گئے۔ تقریب سے رکن اسلامی نظریاتی کونسل احمد جاوید نے بھی خطاب کیا۔








