نرسنگ کے شعبے میں ملک کا سب سے بڑا سکالر شپ پروگرام شروع کیا ہے۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمودکا سکالر شپ پرگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب

اسلام آباد ۔ 11 مارچ (اے پی پی) وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہے کہ نرسنگ کے شعبے میں ملک کا سب سے بڑا سکالر شپ پروگرام شروع کیا ہے۔ پروگرام کے پہلے سال 31 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک ہزار سے زائد سکالر شپ دی جائیں گی۔ بدھ کو وہ سکالر شپ پرگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں …

اسلام آباد ۔ 11 مارچ (اے پی پی) وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہے کہ نرسنگ کے شعبے میں ملک کا سب سے بڑا سکالر شپ پروگرام شروع کیا ہے۔ پروگرام کے پہلے سال 31 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک ہزار سے زائد سکالر شپ دی جائیں گی۔ بدھ کو وہ سکالر شپ پرگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ نرسنگ کے شعبے میں یہ ملکی تاریخ کا سب سے بڑا پروگرام ہے۔ پہلے سال 886 سکالرشپس چار سالہ بیچلر ڈگری پروگرام کیلئے دی جائیں گی۔ 119 سکالرشپس ماسٹر ان نرسنگ اور 13 سکالر شپس پی ایچ ڈی پروگرام کیلئے دی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ سکالر شپس ہائیر ایجوکیشن کمیشن پاکستان (ایچ ای سی) سے منظور شدہ ملک کے 52 اداروں میں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نرسنگ کے شعبے میں 1 ارب 24 کروڑ روپے خرچ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایک تخمینہ کے تحت اس وقت ملک کو 8 لاکھ سے زائد نرسنگ سٹاف کی ضرورت ہے جبکہ ہمارے پاس اس وقت 80 ہزار نرسیں کام کر رہی ہیں ہر سال 5 ہزار نرسیں اپنی تعلیم مکمل کرتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سکالر شپ پروگرام کی وجہ سے ایک بڑی تعداد نرسنگ کے شعبہ میں آئے گی اور ملک میں نرسنگ کی کمی کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان ان خوش قسمت ممالک میں شامل ہے جہاں نوجوانوں کی آبادی 64 فیصد سے زائد ہے۔ ان نوجوانوں کو ہنر اور تعلیم وتربیت فراہم کرکے ملکی ترقی میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کے تحت سکالر شپس دی جارہی ہیں جبکہ حکومت نے اس سال نوجوانوں کی تربیت کیلئے ایک بڑا پروگرام شروع کیا ہے جس میں ایک لاکھ 70 ہزار نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں پیشہ وارانہ تربیت فراہم کی جائے گی۔ اس میں 50 ہزار نوجوانوں کو ہائی ٹیک پروگرامز میں جدید تربیت فراہم کی جائے گی۔ ہائی ٹیک پروگراموں میں حصہ لینے والے نوجوانوں کی اکثریت اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے جو کہ تعلیمی نظام میں موجود نقائص کی وجہ سے روزگار حاصل نہیں کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاحت کے شعبے میں بہت زیادہ مواقع موجود ہیں۔ ترکی پاکستان میں ہاسپٹیلٹی سنٹر بنا رہی ہے جہاں ہوٹلنگ اور سیاحت کے شعبہ میں نوجوانوں کو تربیت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں جدت آرہی ہے اور اس میں بہت سی پرانی نوکریاں ختم ہو رہی ہیں جبکہ نئے شعبے سامنے آرہے ہیں ہمیں ان نئے شعبوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے جس میں ہمارے نوجوان دنیا بھر میں بہتر معاوضوں پر کام کر سکیں اور اپنے ملک کیلئے زر مبادلہ حاصل کرنے کا سبب بنیں۔