اسلام آباد ۔ 11 مارچ (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب صوبے کو عملی شکل دینے کیلئے آج تاریخی فیصلہ کیا گیا ہے، جنوبی پنجاب صوبہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے منشور میں شامل ہے اور اس کے صدر مقام کا فیصلہ اسمبلی کرے گی، نیا صوبہ بننے سے وفاق مضبوط ہو گا، پیپلزپارٹی اور ن لیگ سے کہا …
جنوبی پنجاب صوبہ پی ٹی آئی کے منشور میں شامل ہے، نیا صوبہ بننے سے وفاق مضبوط ہو گا، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 11 مارچ (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب صوبے کو عملی شکل دینے کیلئے آج تاریخی فیصلہ کیا گیا ہے، جنوبی پنجاب صوبہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے منشور میں شامل ہے اور اس کے صدر مقام کا فیصلہ اسمبلی کرے گی، نیا صوبہ بننے سے وفاق مضبوط ہو گا، پیپلزپارٹی اور ن لیگ سے کہا ہے کہ وہ صوبے کے قیام کیلئے کردار ادا کریں۔ بدھ کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کا موقف رہا ہے کہ وہ جنوبی پنجاب صوبے کے خلاف نہیں ہیں اور دیگر سیاسی جماعتیں بھی ماضی میں جنوبی پنجاب صوبے کیلئے ہم آہنگی کا اظہار کر چکی ہیں، پنجاب اسمبلی سے قرارداد پاس کرانے کی کوشش کریں گے، اس کے علاوہ جنوبی پنجاب سے پی پی پی اور ن لیگ کے منتخب اراکین سے کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں، بلاشبہ آئینی ترمیم کو پاس کرانے کیلئے اسمبلی میں دیگر سیاسی جماعتوں کے تعاون کی ضرورت پڑے گی اور حکومت تمام جماعتوں سے رابطہ کرے گی۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نیا صوبہ بننے سے وفاق مضبوط ہو گا اور جنوبی پنجاب کے لوگوں کی احساس محرومی کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے بہاولپور اور جنوبی پنجاب کو الگ الگ صوبہ بنانے کی مخالفت کی تھی جبکہ جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانا ہمارے منشور میں شامل ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ فی الحال بہاولپور اور ملتان دونوں جگہ سیکرٹریٹ ہو گا، ایک جگہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور ایک جگہ ایڈیشنل آئی جی بیٹھیں گے تاہم حتمی صدر مقام کا فیصلہ اسمبلی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ انتظامی امور میں ابتدائی طور پر سیکرٹریٹ قائم کئے جائیں گے جس سے جنوبی پنجاب کے لوگوں کو لاہور جانے کی دقت نہیں اٹھانی پڑے گی اور وہ اپنے معاملات کیلئے بہاولپور اور ملتان جائیں گے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سیکرٹریٹ قائم کرنے کیلئے تقریباً ساڑھے تین ارب روپے درکار ہوں گے اور اس سے ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ جہانگیر ترین پی ٹی آئی کا حصہ ہیں اور وہ پوری مشاورت میں موجود تھے۔ نواز شریف کی واپسی کے بارے سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ برطانوی حکومت کو خط لکھ دیا ہے، نواز شریف تین مرتبہ پاکستان کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں، وہ عدالت سے ضمانت لیکر علاج کیلئے بیرون ملک گئے تھے، ان کی مہلت ختم ہو گئی ہے اس لئے اب انہیں چاہیے کہ اخلاقی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور واپس آئیں۔ انہوں نے کہا کہ انٹرا افغان ڈائیلاگ میں پیشرفت ہوئی ہے اور معاملات آگے بڑھ رہے ہیں۔








