جنوبی پنجاب صوبہ کے سیکرٹریٹ بہاولپور اور ملتان میں بیک وقت قائم ہوں گے، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی

اسلام آباد ۔ 11 مارچ (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب صوبہ کے سیکرٹریٹ بہاولپور اور ملتان میں بیک وقت قائم ہوں گے، ایک مقام پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنوبی پنجاب اور دوسری جگہ ایڈیشنل آئی جی پولیس ساو¿تھ کے دفاتر ہونگے، جنوبی پنجاب کا صوبہ گیارہ اضلاع پر مشتمل ہوگا جس کی آبادی 3.5 کروڑ کے لگ بھگ ہے، جنوبی …

اسلام آباد ۔ 11 مارچ (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب صوبہ کے سیکرٹریٹ بہاولپور اور ملتان میں بیک وقت قائم ہوں گے، ایک مقام پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنوبی پنجاب اور دوسری جگہ ایڈیشنل آئی جی پولیس ساو¿تھ کے دفاتر ہونگے، جنوبی پنجاب کا صوبہ گیارہ اضلاع پر مشتمل ہوگا جس کی آبادی 3.5 کروڑ کے لگ بھگ ہے، جنوبی پنجاب کا صوبہ خیبر پختونخوا کے برابر بنتا ہے۔ جنوبی پنجاب صوبہ کے سیکرٹریٹ کے قیام کے حوالے سے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ جنوبی پنجاب صوبہ کے صدر مقام کے تعین کا فیصلہ نئے صوبہ کی اسمبلی کرے گی، جنوبی پنجاب کے حوالے سے قانونی بل لانے کے لیے ہمیں دو تہائی اکثریت درکار ہو گی جو ہمارے پاس نہیں ہے ہمیں دوسری سیاسی جماعتوں کی حمایت درکار ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی محترمہ بے نظیر بھٹو کے زمانہ سے جنوبی پنجاب صوبہ کی حمایتی رہی ہے اور مسلم لیگ ن بھی کہتی رہی ہے کہ جنوبی پنجاب صوبہ قائم کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ میں نے آج جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے منتخب نمائندوں سے گذارش کی ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور اس سلسلہ میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس سے وفاق بھی مستحکم ہو گا اور توازن بھی قائم ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ ڈیٹا کے مطابق جنوبی پنجاب کا خطہ انتہائی پسماندہ ہے، ہم نے جنوبی پنجاب کو اپنے منشور کا حصہ بنایا اور ہم جنوبی پنجاب "ایک” صوبہ کی بات کر رہے ہیں۔ ہم پنجاب اسمبلی میں بھی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن سمیت دیگر پارٹیوں کی حمایت کے حصول کیلئے کوشش کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایک فیڈریشن ہے، فیڈریشن کی مختلف اکائیاں ہیں، ماضی میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی بڑی جماعتوں نے بھی جنوبی پنجاب صوبہ کے حوالے سے ہم آہنگی کا اظہار کیا ہے۔ جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام کے حوالے سے جو کام ایگزیکٹو نوعیت کے ہیں ان پر ہم عمل پیرا ہوں گے اور جس قانون سازی کی ضرورت ہے اس پر ہم دیگر جماعتوں کے ساتھ گفتگو و شنید کا آغاز کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے قیام سے ایسے لوگ جنہیں لاہور آنا پڑتا تھا اب ان کے مسائل اور معاملات بہاولپور اور ملتان سیکرٹریٹ میں ہی حل ہوا کریں گے اور اختیارات صحیح معنوں میں نچلی سطح پر منتقل ہو جائیں گے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ حالیہ سروے کے مطابق نئے سیکرٹریٹ کے قیام کے لئے ہمیں 3.5 ارب روپے درکار ہوں گے۔ کچھ پوسٹیں منتقل ہو جائیں گی جبکہ 1350 کے قریب نئی آسامیاں درکار ہوں گی جس کا انتظام کیا جائے گا۔