ڈپریشن اور ذہنی دباﺅ سے دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں،صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کادماغی صحت کے بارے پارلیمانی کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 12 مارچ (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے دماغی صحت کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ، ڈپریشن اور ذہنی دباﺅ سے دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، زیادہ سے زیادہ وسائل حاصل کرنے کے مقابلے سے ڈپریشن بڑھتی ہے جبکہ سماجی بہبود اور غریبوں کی مدد سے خوشی اور اطمینان حاصل ہوتا ہے …

اسلام آباد ۔ 12 مارچ (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے دماغی صحت کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ، ڈپریشن اور ذہنی دباﺅ سے دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، زیادہ سے زیادہ وسائل حاصل کرنے کے مقابلے سے ڈپریشن بڑھتی ہے جبکہ سماجی بہبود اور غریبوں کی مدد سے خوشی اور اطمینان حاصل ہوتا ہے ،میڈیا کو ذہنی صحت سے متعلق آگاہی کےلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو دماغی صحت پر پارلیمانی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر مملکت نے ڈپریشن کا باعث بننے والے عوامل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مادی ترقی سے خوشیوں کو جوڑنا مسائل کا سبب بنتا ہے ،،وسائل کے حصول کی دوڑ میں اضافہ ہوااور سماجی تعلقات میں کمی آئی ہے، انہوں نے کہا کہ انفرادی سطح پر نیند پوری نہ کرنے کی وجہ سے دماغی دباﺅ بڑھتا ہے، ،ناگوار اور منفی باتوں پر سوچنے کی بجائے انہیں ذہن سے نکال کر بوجھ ہلکا کرنا چاہئے، انہوں نے کہا کہ معاشرے میں سماجی تعلقات میں عمومی طور پرکمی آئی ہے حالانکہ ہمیں ایک دوسرے کو اپنے مسائل سے آگاہ کرنا چاہئے، اس سے ذہن پر بوجھ ہلکا ہوتا ہے،انہوں نے کہا کہ آج معاشروں میں دولت کے پیچھے بھاگنا ایک ترجیح بن چکا ہے،وسائل کے حصول کا مقابلہ ہے، اس سے اطمینان نہیں ملتابلکہ ذہنی دباﺅ بڑھنے سے خوشی کم ہوتی ہے، مادی ترقی سے خوشیوں کو جوڑنا مسائل کا سبب بنتا ہے جبکہ سماجی بہبود کے کام اور دوسروں کی مدد سے خوشی حاصل ہوتی ہے صدر نے کہا کہ خوشی اور غمی ساتھ ساتھ چلتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ہر معاشرے نے روحانی صحت پر بھی توجہ دی ہے، ہمیں اﷲ پر بھروسہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی انقلاب کے بعد خوبصورت اشتہارات کے ذریعے لوگوں کو خوش کرنے کی کوشش کی گئی ۔انہوں نے کہا کہ ڈپریشن کا عرصہ کچھ وقت کےلئے ہوتا ہے اس کے بعد صورتحال معمول پر آ جاتی ہے، سماجی بہبود کے کاموں سے خوشی حاصل ہوتی ہے، پریشان حال افراد کی مدد سے اطمینان ملتا ہے، ہمیں اپنے سے اوپر نہیں نیچے کے لوگوں کو دیکھ کر اطمینان حاصل کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سکولوں میں بچوں کا سٹریس لیول جاننے کی ضرورت ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں بچوں میں سکولوں میں ذہنی دباﺅ کی سطح جانچنے کےلئے ایپ تشکیل دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو ڈپریشن سے نکالنے کی ضرورت ہے اور یہ ایک بڑا کام ہے، میڈیا کو ذہنی صحت سے متعلق آگاہی کےلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔