انسانی حقوق کی معروف بین الاقوامی تنظیموں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی موجودہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار،گرفتار کشمیریوں کی رہائی کا مطالبہ

جنیوا۔،سرینگر،مظفرآباد(12مارچ اے پی پی) انسانی حقوق کی معروف بین الاقوامی تنظیموں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی موجودہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس تشویش کا اظہار ایمنسٹی انٹرنیشنل ، ہیومن رائٹس واچ ، انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائٹس لیگز ،ایشین فورم برائے انسانی حقوق اور ترقی ، انٹرنیشنل سروس فار ہیومن رائٹس ،سویکس (CIVICUS)اورتشدد کے خلاف عالمی تنظیم (OMCT)نے جنیوا سے جاری ایک …

جنیوا۔،سرینگر،مظفرآباد(12مارچ اے پی پی) انسانی حقوق کی معروف بین الاقوامی تنظیموں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی موجودہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس تشویش کا اظہار ایمنسٹی انٹرنیشنل ، ہیومن رائٹس واچ ، انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائٹس لیگز ،ایشین فورم برائے انسانی حقوق اور ترقی ، انٹرنیشنل سروس فار ہیومن رائٹس ،سویکس (CIVICUS)اورتشدد کے خلاف عالمی تنظیم (OMCT)نے جنیوا سے جاری ایک مشترکہ بیان میںکیا ہے۔رپورٹ کے مطابق بھارتی حکام نے گزشتہ سال 5 اگست کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کے بعد سخت پابندیاں عائد کردی تھیں ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اس دوران سینکڑوں افراد کوجبری طورپر گرفتار کیا گیا اور دوران حراست ان پر بدترین ظلم و تشدد اور امتیازی سلوک روا رکھے جانے کے سنگین الزامات بھی سامنے آئے۔ساوتھ ایشین وائرکے مطابق حریت رہنماﺅں اور کارکنوں کے علاوہ تین سابق وزرائے اعلیٰ ، سیاست دان کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ اور دیگر قوانین کے تحت نظربند ہیں۔ بیان میں کہاگیا کہ اس سے احتساب ، شفافیت اور انسانی حقوق کا احترام متاثر ہوتاہے۔پابندیوں اور فوجی محاصرے پر تنقید کرنے پر صحافیوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروںکو دھمکیاں دی جارہی ہےں۔ تنظیموں نے مطالبہ کیا کہ آزادانہ مبصرین بشمول تمام انسانی حقوق کے علمبرداروںاور غیر ملکی صحافیوں کو آزادانہ اور بلا خوف و خطر اپنے کام انجام دینے کے لئے مناسب رسائی کی اجازت دی جائے ، بلاوجہ گرفتار ہر فرد کو رہا کیا جائے ، اور اظہار رائے کی آزادی کے حقوق پر پابندیاں ختم کی جائیں۔ کے مطابق انہوں نے ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق (OHCHR) اور دیگر اداروں کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں غیر مشروط رسائی فراہم کریں۔