اسلام آباد ۔ 13 مارچ (اے پی پی) ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے فیس ماسک کی سمگلنگ کے بے بنیاد الزامات پر ینگ فارماسسٹ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا ہے۔ ترجمان ڈریپ نے جاری بیان میں کہا ہے کہ ینگ فارماسسٹ ایسوسی ایشن غیر معیاری اور غیر رجسٹرڈ ادویہ سازی میں ملوث عناصر کی آڑ میں بے بنیاد الزامات عائد کر …
ڈریپ کا فیس ماسک کی سمگلنگ کے بے بنیاد الزامات پر ینگ فارماسسٹ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 13 مارچ (اے پی پی) ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے فیس ماسک کی سمگلنگ کے بے بنیاد الزامات پر ینگ فارماسسٹ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا ہے۔ ترجمان ڈریپ نے جاری بیان میں کہا ہے کہ ینگ فارماسسٹ ایسوسی ایشن غیر معیاری اور غیر رجسٹرڈ ادویہ سازی میں ملوث عناصر کی آڑ میں بے بنیاد الزامات عائد کر رہی ہے، جب ڈریپ ایسے عناصر کے خلاف کارروائی عمل میں لاتا ہے تو اس طرح کی جعلی شکایات اور الزامات لگائے جاتے ہیں تاکہ ڈریپ کی کوششوں کو سبوتاژ کیا جا سکے جو کہ جعلساز عناصر کے خلاف کی جا رہی ہیں۔ اسی طرح کا ایک الزام وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی صحت اور ایڈیشنل ڈائریکٹر ڈریپ پر فیس ماسک کے حوالہ سے عائد کیا گیا ہے، یہ بے بنیاد الزام ہے۔ ڈریپ نے فیصلہ کیا ہے کہ ینگ فارماسسٹ ایسوسی ایشن کی طرف سے متعدد بار کی جانے والی الزام تراشیوں اور ڈریپ کا راستہ روکنے کی کوششوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی عمل میں لائی جائے تاکہ ملک بھر میں مارکیٹ سے جعلی، غیر رجسٹرڈ اور غیر معیاری ادویات کا خاتمہ کیا جا سکے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ڈریپ ایکٹ 2012ءاور ڈرگ ایکٹ 1976ءکی خلاف ورزی پر متعدد مقدمات نور محمد مہر اور چوہدری محمد عثمان کے خلاف بنائے گئے ہیں جو اپنے ذاتی مفادات کیلئے ینگ فارماسسٹ ایسوسی ایشن کا نام استعمال کر رہے ہیں، ادارہ کے عہدیداران غیر معیاری اور غیر رجسٹرڈ اور جعلی ادویات کی تیاری اور فروخت میں ملوث ہیں اور مریضوں کی زندگیوں اور قانون سے کھیلنے میں مصروف ہیں۔ ڈریپ نے اس مافیا کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور ان کے خلاف متعدد ایف آئی آرز درج ہیں، ملک میں کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ایسے عناصر حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا چاہتے ہیں تاکہ قانون کے شکنجے سے بچ سکیں۔ تاہم ڈریپ نے عوام الناس اور میڈیا سے گزارش کی ہے کہ ایسے عناصر سے باخبر رہیں اور ایسی صورتحال میں اس طرح کی غلط خبروں کو پھیلانے سے گریز کریں۔ ایسے عناصر اور ان کے ساتھیوں ہارون یوسف، نور محمد مہر اور چوہدری محمد عثمان کے خلاف متعلقہ حکام کو ریفرنس بھجوائے گئے ہیں تاکہ عوام کی صحت کو خطرات سے دوچار کرنے کے جرم میں انہیں سزاوار ٹھہرایا جا سکے۔








