اسلام آباد ۔ 28 مارچ (اے پی پی) پاکستان اور برطانیہ نے کرونا کے عالمی چیلنج سے نبرد آزما ہونے اور باہمی تعاون کے فروغ کیلئے، مشاورتی سلسلے کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ہفتہ کو اپنے برطانوی ہم منصب ڈومینک راب سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ خارجہ کے مابین کورونا عالمی وباء کے …
پاکستان اور برطانیہ کا کرونا کے عالمی چیلنج سے نبرد آزما ہونے اور باہمی تعاون کے فروغ کیلئے مشاورتی سلسلے کو جاری رکھنے کا فیصلہ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 28 مارچ (اے پی پی) پاکستان اور برطانیہ نے کرونا کے عالمی چیلنج سے نبرد آزما ہونے اور باہمی تعاون کے فروغ کیلئے، مشاورتی سلسلے کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ہفتہ کو اپنے برطانوی ہم منصب ڈومینک راب سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ خارجہ کے مابین کورونا عالمی وباء کے پھیلاؤ کو روکنے اور اس عالمی چیلنج سے نمٹنے کے لئے کی جانے والی کاوشوں پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے برطانیہ میں اس وباء کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے، اپنے برطانوی ہم منصب کے ساتھ اظہارِ تعزیت کیا۔ وزیر خارجہ نے برطانوی شہزادہ چارلس، وزیر اعظم بورس جانسن اور وزیر صحت کی جلد صحت یابی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اس مشکل اور دکھ کی گھڑی میں حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کی طرف سے برطانوی حکومت اور عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ وزیر خارجہ نے اپنے برطانوی ہم منصب کو آگاہ کیا کہ پاکستان میں مقیم برطانوی شہریوں کا بھرپور خیال رکھا جا رہا ہے۔ وزیر خارجہ نے اپنے برطانوی ہم منصب کو، صورت حال معمول پر آنے کے بعد، برطانوی شہریوں کی جلد وطن واپسی کیلئے تعاون کا یقین دلایا۔ وزیر خارجہ نے اس عالمی وباء کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے پاکستان کی طرف کیے جانے والے اقدامات سے، برطانوی وزیر خارجہ آگاہ کیا۔ وزیر خارجہ نے اس کٹھن اور کڑے وقت میں ،برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کا خصوصی خیال رکھنے پر، برطانوی وزیر خارجہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے، اپنے برطانوی ہم منصب کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی تشویشناک صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں گذشتہ آٹھ ماہ سے جاری مسلسل کرفیو کے باعث وہاں ادویات اور خوراک کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے 80 لاکھ کشمیری، بھارتی استبداد سے نجات کیلئے عالمی برادری کی توجہ کے منتظر ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ اس عالمی وبائی چیلنج کا سامنا کرتے ہوئے، کم وسائل کے حامل، ترقی پذیر ممالک کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس لئیے وزیر اعظم عمران خان نے تجویز دی ہے کہ ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کو ری اسٹرکچر کیا جائے تاکہ وہ اپنے وسائل قیمتی انسانی جانوں کو بچانے کے لیے بروئے کار لا سکیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ اور مینجنگ ڈائریکٹر آئی ایم ایف نے بھی اس حوالے سے حوصلہ افزا بیانات دئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں توقع ہے کہ برطانیہ جی 7 اور جی 20 کا اہم ممبر ہونے کے ناطے ہماری اس تجویز کو آگے بڑھانے میں اپنا موثر کردار ادا کریگا۔ برطانوی وزیر خارجہ نے قرضوں کی ری سٹرکچرنگ کی تجویز کو زیر غور لانے اور مناسب فورم پر اٹھانے کا عندیہ دیا۔ دونوں وزرائے خارجہ کا اس عالمی چیلنج سے نبرد آزما ہونے اور باہمی تعاون کے فروغ کیلئے، مشاورتی سلسلے کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔








